یورپی یونین کے ساتھ کشیدگی، بیلاروس کی فوج الرٹ پر | حالات حاضرہ | DW | 18.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یورپی یونین کے ساتھ کشیدگی، بیلاروس کی فوج الرٹ پر

بیلا روس کا کہنا ہے کہ اس نے یورپی یونین کے ممالک کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دی ہے جبکہ پولینڈ کا کہنا ہے کہ سرحد پر صورتحال میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور بیلا روس کا یہ قدم پروپیگنڈہ مہم کا ایک حصہ ہے۔

بیلا روس کے صدر الیکسانڈر لوکانشینکو نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ فوج کو اب شہر کی گلیوں سے نکال کر یورپی یونین سے متصل سرحدوں کی حفاظت کے لیے بارڈر پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ ا ن کا کہنا تھا، '' ہم اپنی فوج کو سڑکوں سے پیچھے ہٹانے پر مجبور ہیں،  ہماری نصف فوج اس وقت حفاظت پر مامور ہے اور ہم نے مغربی ممالک کے ساتھ اپنے ملک کی سرحد، سب سے پہلے لتھوانیا اور پولینڈ کے ساتھ، بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  بہت ہی افسوس کے ساتھ، ہم اپنے بھائی یوکرائن کے ساتھ، اپنی سرحدیں مضبوط کرنے پر مجبور ہیں۔''

دوسری جانب پولینڈ کے حکام نے سرحد پر کسی بھی طرح کی تبدیلی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بیلا روس کا یہ اعلان پروپیگنڈے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ پولینڈ کے نائب وزیر خارجہ پاویل جبلونسکی نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات چیت میں کہا، ''ہم اسے پروپیگنڈہ مہم کا ایک اور حصہ مانتے ہیں، یہ ایک نفسیاتی کھیل ہے جس سے بیرونی خطرے کا تاثر قائم کیا جا سکے۔''

    لتھوانیا میں بھی سرحدی امور سے متعلق حکام نے اس تاثر کو غلط بتایا کہ سرحد پر  ایسی کوئی صورت حال پیدا ہوئی ہے جہاں فوج کو تعینات کرنے کی ضرورت ہو۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیلا روس کے ساتھ سرحد پر صورت حال حسب معمول ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اس بات کا جائزہ لیا جائیگا کہ نئی تبدیلیوں کا نفاذ کیسے کیا جاتا ہے۔

 استعفے کا مطالبہ

صدر الیکسانڈر لوکاشینکو سن 1994 سے اس سابق سویت ریاست کے حاکم رہے ہیں اور ان 26 برسوں میں صدر لوکاشینکو چھ بار انتخابات میں اپنے مخالفین کا تقریباًمکمل صفایا کرتے ہوئے کامیاب ہوتے آئے ہیں۔

اس بار 9 اگست کے انتخابات میں بھی سرکاری نتائج کے مطابق انہیں 80.1 فیصد ووٹ ملے جبکہ ان کی مدمقابل خاتون امیدوار سویٹلانا ٹیخانوسکایا کے حق میں صرف 10.12 فیصد ووٹ پڑے۔ مبصرین کے مطابق ماضی کی طرح اس بار بھی انتخابات میں دھاندلی کا سہارا لیا گیا۔ صدارتی انتخابات میں دھاندلیوں کے خلاف بیلا روس میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے اور اب تک ملک کے مختلف حصوں میں ایسے ہزاروں مظاہرے ہوچکے ہیں جن کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

حزب اختلاف کی رہنما سویٹلانا ٹیخانوسکایا کا مطالبہ ہے کہ صدر کو فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیے۔ گزشتہ ماہ ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں انہوں نے کہا تھا کہ ''ہمارے لوگ پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں، وہ صبح اس امید سے اٹھتے ہیں کہ انہیں نیا بیلا روس چاہیے۔ جس شخص کو استعفی دینا ہے وہ مسٹر لوکانشینکو ہیں۔''

گزشتہ چار ہفتوں سے جاری عوامی غم و غصے کی لہر میں نوجوانوں اور  انسانی حقوق کے کارکنوں پر مسلسل تشدد کی شکایتیں ملتی رہی ہیں۔ حکومت نے ان مظاہروں کے دبانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ سکیورٹی حکام  حزب اختلاف کے بعض رہنماؤں اور طلبا سمیت درجنوں مظاہرین کو حراست میں لے چکے ہیں۔

یورپی یونین کے مطابق بیلاروس کے یہ انتخابات آزادنہ اور منصفانہ نہیں تھے۔ برطانیہ ان انتخابی نتائج کو مسترد کر چکا ہے جبکہ  فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں نے کہا تھا کہ یورپی یونین کو چاہیے کہ وہ کھل کر حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کرے۔ مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ اگر بیلا روس نے مظاہرین کے خلاف اپنا شدید رویہ تبدیل نہیں کیا تواس پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

جمعہ 18 ستمبر کو تقریبا ً30 ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں بیلا روس سے فوری طور پر انٹرنیٹ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آمرانہ حکومتیں اپنے مخالفین کو ایک پلیٹ فار پر جمع ہونے سے باز رکھنے کے لیے انٹرنیٹ پر پابندی کا سہارا لیتی ہیں۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ اظہار آزادی اور پر امن طور پر احتجاج کرنے کے حق پر قدغن لگانے کے لیے، بندشیں عائد کرنے یا پھر سروسز کو فلٹر کرنا غیر منصفانہ فعل ہے، خاص طور جب انہیں غیر شفاف اور ناجائز طریقوں سے نافذ کیا جائے۔

ادھر یورپی تنظیم 'سکیورٹی اینڈ کوآپریشن ان یورپ' سے وابستہ 17 ارکان نے گزشتہ ماہ کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد سے بیلا روس میں ہونے والی ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفتیش شروع کی ہے۔ اس کا مقصد بیلا روس کے حکام کو ا ن کے کرتوتوں کے لیے جوابدہ ٹھہرانا ہے۔

ص ز/ ج ا (ایجنسیاں)

ویڈیو دیکھیے 03:58

کاغذ سے بنے خوبصورت ماڈلز

DW.COM