یورپی یونین کی موگیرینی اسٹریٹیجک مکالمت کے لیے پاکستان میں | حالات حاضرہ | DW | 26.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یورپی یونین کی موگیرینی اسٹریٹیجک مکالمت کے لیے پاکستان میں

پاکستان اور یورپی یونین کے مابین اسٹریٹیجک مکالمت کو خارجہ امور کے کئی ماہرین اسلام آباد کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ تاہم کچھ تجزیہ نگاروں نے تنبیہ بھی کی ہے کہ ایسی کسی کامیابی کا دعویٰ قبل از وقت ہو گا۔

یورپی یونین کے ایک وفد نے کل پیر پچیس مارچ کو اس بلاک کی خارجہ امور کی سربراہ فیدیریکا موگیرینی کی قیادت میں اسلام آباد میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی تھی۔ اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں تجارت، معیشت اور سکیورٹی سمیت کئی امور زیر بحث آئے۔

ماضی میں یورپی یونین اور امریکا دونوں کو ہی پاکستان سے یہ شکایت رہی ہے کہ اسلام آباد افغانستان کے معاملے میں مغربی دنیا سے تعاون نہیں کر رہا اور دہشت گردی کے مسئلے پر بھی دونوں ہی پاکستان کو دوہرے معیار کا حامل ہونے کا طعنہ بھی دیتے تھے۔ اس تنقیدی موقف کو بھارت بھی سیاسی طور پر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

لیکن پاکستان کی طرف سے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے عمل میں مدد کو یورپی یونین سمیت تمام بین الاقوامی بلاک اور تنظیمیں مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ علاقائی سطح پر نئی دہلی کی اسلام آباد کو سفارتی محاذ پر تنہا کر دینے کی کوششیں بھی نا کام ہوتی جا رہی ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر شمشاد احمد خان کے خیال میں پاکستان اور یورپی یونین کے مابین اس اسٹریٹیجک ڈائیلاگ سے اسلام آباد کو فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’پہلے امریکا نے پاکستان کے حوالے سے مثبت رویہ اپنایا اور افغانستان میں قیام امن کے لیے کی جانے والی پاکستانی کوششوں کو سراہا۔ چین پہلے ہی سی پیک اور دوسرے امور کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ ہے۔ اب یورپی یونین نے بھی اس بات کا اشارہ دے دیا ہے کہ خطے میں پاکستان کی اپنی ہی خاص اہمیت ہے اور اس اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

شمشاد احمد خان کے خیال میں افغانستان کے مسئلے پر پاکستان اور یورپی یونین کے مفادات ایک سے ہوتے جا رہے ہیں اور دونوں ہی اس مسئلے کا پر امن حل چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے بعد اس نوعیت کے معاہدے پانچ برس کے لیے ہوتے تھے، لیکن ’اب یہ معاہدے طویل المدتی ہو سکتے ہیں‘۔

کئی ماہرین کے خیال میں یورپی یونین اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ افغانستان میں امن مذاکرات کے ساتھ ساتھ وہاں اس بات کی بھی ضمانت دی جا سکے کہ خواتین کے حقوق اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوگی اور یہ کہ گزشتہ اٹھارہ برسوں میں وہاں جو اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، انہیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

اس بارے میں اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر ظفر نواز جسپال کا خیال ہے کہ سر دست تو یورپی یونین طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کو کامیاب ہوتا دیکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میرے خیال میں اس وقت یورپی یونین انسانی حقوق اور دیگر مسائل پر بات نہیں کرے گی کیونکہ یونین کی کوشش ہے کہ پہلے افغانستان میں امن قائم ہو اور اس کے لیے طالبان اور امریکا کے مابین مذاکرات کامیاب ہوں۔ بظاہر اس کے بعد ہی یورپ انسانی حقوق اور دیگر مسائل پر بات چیت کرے گا۔‘‘

پاکستان میں تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت اس مکالمت کی کامیابی کو اپنی سفارتی فتح قرار دے رہی ہے اور اس کے خیال میں یورپی وفد کی آمد پاکستان کے اس موقف کی تائید ہے، جس پر وہ کئی برسوں سے قائم ہے۔

پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اسحاق خاکوانی نے ان مذاکرات کے بارے میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہم ہمیشہ سے یہ کہتے آئے ہیں کہ افغانستان کا حل سیاسی مذاکرات ہی میں ہے۔ آج یورپی یونین سمیت دنیا کے کئی ادارے اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں اس دورے سے پاکستان کو سفارتی محاذ پر کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ ہم عالمی طور پر تنہا ہو جانے سے بچ گئے ہیں اور جو ممالک ہمیں تنہا کرنے کی کوشش کر رہے تھے، انہیں منہ کی کھانا پڑی ہے۔‘‘

خاکوانی کا کہنا تھا کہ اس دورے نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یورپی یونین افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے مثبت رویے کی معترف ہے، ’’امریکی تنقید کے باوجود یورپی یونین کے ایسے کسی اعلیٰ وفد کا پاکستان آنا ہمارے لیے بہت مثبت ہے۔ اس سے پاکستان کو نہ صرف اسٹریٹیجک محاذ پر کامیابی ملی ہے بلکہ یورپی وفد کے آنے سے ہماری معیشت اور تجارت کو بھی فائدہ ہو گا۔ آنے والے وقتوں میں ہماری یورپ کے ساتھ تجارت مزید بڑھے گی۔‘‘

Europa Federica Mogherini

فیدیریکا موگیرینی

تاہم کچھ ناقدین کے خیال میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی پر دنیا کو جو تشویش ہے، اسلام آباد کو اس دورے کو اسی تناظرمیں دیکھنا چاہیے۔ پشاور یونیورسٹی کے ایریا اسٹڈی سینٹر کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سرفراز خان کے خیال میں پاکستان کو شادیانے بجانے کے بجائے یورپی یونین کی اصل پریشانی دور کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’’یورپی یونین اور مغربی دنیا دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے حوالے سے پریشان ہیں اور اس حوالے سے پاکستان سے مدد چاہتے ہیں۔ امریکا کی طرح یورپی یونین کا بھی عالمی مالیاتی اداروں پر بہت اثر و رسوخ ہے۔ یورپی یونین کا وفد یہ دیکھنے آیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کیا اقدامات کیے ہیں۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔ سرحد پار حملوں کو روکنے کے لیے کیا کچھ کیا ہے۔ اگر یہ وفد پاکستان کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہوا، تو اسلام آباد کے لیے شدید مالی اور سیاسی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں کیونکہ اس وفد کی رپورٹ کا اثر ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس پر بھی پڑ سکتا ہے اور پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات پر بھی۔ لہٰذا ہمیں اس دورے کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے اور عسکریت پسندی کے حوالے سے مغربی دنیا کی شکایات کا ازالہ کرنا چاہیے۔‘‘

DW.COM