یورپی یونین کی طرف سے ترکی کے لیے امداد میں کٹوتی | حالات حاضرہ | DW | 18.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یورپی یونین کی طرف سے ترکی کے لیے امداد میں کٹوتی

قبرض میں گیس کی غیرقانونی تلاش کے لیے ڈِرل اور شام میں عسکری آپریشن کی وجہ سے یورپی یونین نے ترکی کو دی جانے والی امدادی رقوم میں کٹوتی کر دی ہے۔

جرمن میڈیا نے ایک سرکاری خط کے متن کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترکی کے یورپی یونین میں شمولیت کے لیے جاری مذاکراتی عمل کے دوران انقرہ کو دی جانے والی امداد میں 75 فیصد کمی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کے کمشنر جوزف بورَل کی طرف سے یہ خط یورپی پارلیمان کو ارسال کیا گیا ہے۔

یورپی یونین کی طرف سے ترکی کو یہ امدادی رقوم وہاں جمہوری اقدار کے فروغ اور قانون کا بول بالا کرنے کی خاطر فراہم کی جا رہی تھی۔ ترکی کے یورپی یونین میں شمولیت سے قبل انقرہ حکومت نے کچھ شرائط پوری کرنا ہیں اور یہ رقوم اسی تناظر میں خرچ کرنا مقصود تھا۔

برسلز نے البتہ ترکی کو فراہم کی جانے والی ایسی فنڈنگ کو نہیں روکا، جس سے جمہوری فروغ کے منصوبہ جات چلائے جا رہے ہیں۔

یورپی یونین کی طرف سے اس سال اب ترکی کو 168 ملین یورو فراہم کیے جائیں گے، جس میں سے ڈیڑھ سو ملین یورو جمہوری نظام کی مضبوطی اور قانونی تقاضوں کو یقینی بنانے کے لیے خرچ کی جائے گی۔

جوزف بورَل نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی طرف سے شام میں فوجی کارروائی اور قبرص میں گیس کی تلاش کے لیے ڈرلنگ کے ردعمل کے طور پر ایسا کیا گیا ہے۔

تعطل شدہ مذاکرات

ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والی مہاجرین کی ڈیل کو حتمی شکل دیتے ہوئے سن دو ہزار سولہ میں برسلز نے انقرہ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ترکی کے یورپی یونین میں شمولیت کے لیے جاری تعطل شدہ مذاکرات میں تیزی لائے جائے گی۔

تاہم ترکی میں صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے یہ مذاکراتی عمل ابھی تک تعطل کا شکار ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ترکی کے لیے فنڈز کی اس کٹوتی کی وجہ سے انقرہ کو مہاجرین کی ڈیل کے سلسلے میں دی جانے والی 3.5 بلین یورو کی امداد پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس ڈیل کے تحت ترکی نے یقینی بنانا ہے کہ بذریعہ ترکی مہاجرین یورپ نہ پہنچ سکیں۔

یہ امر اہم ہے کہ یورپی یونین نے ترکی کو خبردار کیا تھا کہ وہ قبرص کے ساحلی علاقوں میں گیس کی تلاش کے لیے غیرقانونی ڈرلنگ نہ کرے۔ تاہم انقرہ حکومت کا کہنا ہے کہ گیس کی تلاش میں ترک زیر انتظام قبرص کی علاقائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی جا رہی ہے۔

DW.COM