یورپی یونین کی اہم سمٹ، ’انتہائی ایمانداری‘ کی ضرورت ہے | حالات حاضرہ | DW | 16.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین کی اہم سمٹ، ’انتہائی ایمانداری‘ کی ضرورت ہے

یورپی یونین کے رہنما ’بریگزٹ‘ کے بعد اس بلاک کے لیے ایک نیا وژن تلاش کرنے کے سلسلے میں ایک اہم ملاقات کر رہے ہیں۔ اس مناسبت سے یورپی کونسل کے صدر نے زور دیا ہے کہ اس سلسلے میں ’انتہائی ایمانداری‘ سے فیصلے کرنا ہوں گے۔

یورپی یونین کے رہنما جمعہ سولہ ستمبر کو برطانیہ کی عدم موجودگی میں براتسلاوا میں ہونے والی ایک اہم سمٹ میں شریک ہو رہے ہیں۔ اس سمٹ میں ستائیس ممالک کے رہنما بریگزٹ کے بعد کی صورتحال کے علاوہ دفاعی تعاون، سرحدوں کی نگرانی اور مہاجرت کے بحران پر توجہ مرکوز کریں گے۔

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے اس ملاقات سے قبل کہا، ’’ہم براتسلاوا میں اس لیے جمع نہیں ہو رہے کہ ایک دوسرے کو راحت پہنچائی جائے یا ایسے حقیقی چیلنجز کو نظر انداز کر دیا جائے، جن کا ہمیں سامنا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایسے اسباب کو جاننا ضروری ہے کہ بریگزٹ کیوں ہوا اور تجزیے کے بعد ایسے اسباب و عوامل کا سدباب کیا جانا چاہیے۔

ڈونلڈ ٹسک نے مزید کہا کہ برطانوی عوام کی طرف سے یورپی یونین سے الگ ہونے کے فیصلے کے بعد ضرروی ہو گیا ہے کہ موجودہ صورتحال کا انتہائی ایمانداری اور سنجیدگی سے تجزیہ کیا جائے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کو نہ صرف مہاجرین کے سنگین ترین بحران کا سامنا ہے بلکہ ساتھ ہی یورپ میں دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے بھی ایک پریشان کن صورتحال درپیش ہے۔

ڈونلڈ ٹسک براتسلاوا میں ہونے والی سمٹ میں ایک روڈ میپ پیش کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کوشش سے یورپی عوام کو احساس ہو گا کہ بریگزٹ کے بعد یورپی رہنماؤں نے بہت کچھ سیکھا ہے اور وہ یورپی استحکام کو بحال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مہاجرین کا بحران بھی اس سمٹ میں اہمیت کا حامل ہو گا۔

Schweden Donald Tusk in Stockholm

ڈونلڈ ٹسک براتسلاوا میں ہونے والی سمٹ میں ایک روڈ میپ پیش کریں گے

مہاجرت کے بحران پر یورپی ممالک کے مابین کشیدگی کا اندازہ یوں بھی لگایا جا سکتا ہے کہ رواں ہفتے ہی لکسمبرگ کے وزیر خارجہ نے مطالبہ کر دیا تھا کہ مہاجرین کے ساتھ ’جانوروں جیسا برتاؤ‘ کرنے کی وجہ سے ہنگری کی یورپی یونین کی رکنیت معطل کر دی جانی چاہیے۔

تاہم یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلود یُنکر کے بقول یورپی یونین کو ’خطرات‘ لاحق نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یورپی رہنما مل کر مشاورت اور تعاون سے تمام بحرانوں پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ملتے جلتے مندرجات