یورپی یونین کی اپنے ہی سات ارکان کے خلاف کارروائی | حالات حاضرہ | DW | 08.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین کی اپنے ہی سات ارکان کے خلاف کارروائی

یورپی یونین کو شک ہے کہ یورپی یونین کی سات رکن ریاستیں ضرر رساں گیسوں کے اخراج کے اسکینڈل کے تناظر میں فوکس ویگن کے خلاف مناسب کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس وجہ سے برسلز حکام نے ان ممالک کے خلاف شروع کر دی ہے۔

یورپی کمیشن کی جانب سے آج جمعرات آٹھ دسمبر سے’’معاہدے کی خلاف ورزی‘‘ کہلانے والی ایک کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس دوران جرمنی، برطانیہ، اسپین اور لکسمبرگ سے کہا گیا ہے کہ وہ ڈیزل گیٹ اسکینڈل کے تناظر میں جرمن کار ساز ادارے فوکس ویگن پر اتنا سخت جرمانہ عائد کرنے میں ناکام رہے ہیں جیسا کہ امریکا کی جانب سے کیا گیا ہے۔ برسلز حکام ان تینوں ممالک پر یہ الزام بھی عائد کر رہے ہیں کہ اُنہوں نے ضرر رساں مادوں کے اخراج  کو چھُپانے والے سوفٹ ویئر کے استعمال پر موٹر ساز ادارے فوکس ویگن کے خلاف کوئی تادیبی اقدامات نہیں کیے تھے۔

یورپی کمیشن کے مطابق سزا نہ دیتے ہوئے ممکنہ طور پر یورپی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔ ساتھ ہی جمہوریہ چیک، لتھوانیا اور یونان پر الزام ہے کہ ان ممالک نے قانون ہوتے ہوئے بھی اس کار ساز ادارے پر جرمانہ عائد کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ’ڈیزل گیٹ‘ کہلانے والے اس اسکینڈل کے دوران دُنیا بھر میں گیارہ ملین موٹر گاڑیوں میں ڈیزل کے دھوئیں کے اجزا کی جانچ میں گڑ بڑ کرنے والا سافٹ ویئر نصب کیا گیا تھا۔

یورپی کمیشن کے مطابق جرمنی اور برطانیہ ایک اور یورپی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں ممالک نے خود بھی فوکس ویگن کے حوالے سے تحقیقات کی تھیں، جن کے نتائج سے یورپی کمیشن کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ ان ساتوں ممالک کو ان الزامات کی وضاحت کے لیے دو مہینے کی مہلت دی گئی ہے۔ اس دوران اگر جواب نہ دیا گیا تو یورپی یونین مزید اقدامات اٹھائے گا اور آخر میں ان ممالک کے خلاف یورپی آئینی عدالت میں مقدمہ بھی دائر کیا جا سکتا ہے۔