یورپی یونین کا نیا مرکزی ادارہ، نام مردم بیزار سوچ کا عکاس؟ | حالات حاضرہ | DW | 11.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یورپی یونین کا نیا مرکزی ادارہ، نام مردم بیزار سوچ کا عکاس؟

یورپی کمیشن کی نئی صدر کی طرف سے ایک نئے یورپی ادارے کے قیام پر ان دنوں پوری یونین میں کافی تنقید کی جا رہی ہے۔ ’یورپی طرز زندگی کے تحفظ کا دفتر‘ نامی اس ادارے کے قیام کو مردم بیزار سوچ کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔

یورپی کمیشن کی جرمنی سے تعلق رکھنے والی نئی اور پہلی خاتون صدر اُرزُولا فان ڈئر لاین

یورپی کمیشن کی جرمنی سے تعلق رکھنے والی نئی اور پہلی خاتون صدر اُرزُولا فان ڈئر لاین

یورپی کمیشن کی جرمنی سے تعلق رکھنے والی نئی اور پہلی خاتون صدر اُرزُولا فان ڈئر لاین ان دنوں یونین کے اس انتظامی بازو کے ارکان کے طور پر یورپی کمشنروں کے ناموں اور ان کے فرائض کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔ انہوں نے اس یورپی بلاک میں مرکزی سطح پر ایک ایسے نئے دفتر کے قیام کا فیصلہ بھی کیا ہے، جس کا نام 'یورپی طرز زندگی کے تحفظ کا دفتر‘ ہو گا۔

لیکن ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اس نئے ادارے کے قیام کے فیصلے کے ساتھ برسلز میں یورپی کمیشن نے ایک ایسا پیغام دیا ہے، جو مردم بیزاری کی سوچ کا عکاس قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس فیصلے پر برسلز میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے نمائندوں کے علاوہ پوری 28 رکنی یونین میں بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ اُرزُولا فان ڈئر لاین کی طرف سے قائم کیے گئے اس نئے یورپی عہدے پر آج بدھ گیارہ ستمبر کو برسلز میں کئی یورپی غیر حکومتی تنظیموں کی طرف سے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ یورپی کمیشن کی طرف دیا جانے والا ایک 'پریشان کن پیغام‘ ہے۔ اس کے علاوہ یورپی پارلیمان کے کئی ارکان نے اسے 'قابل مذمت‘ بھی قرار دیا ہے۔

Margaritis Schinas

یورپی کمیشن کی نئی صدر فان ڈئر لاین نے یہ نیا عہدہ مارگاریٹیس شیناس کو دینے کا فیصلہ کیا ہے

فان ڈئر لاین مستقبل میں اپنی قیادت میں کام کرنے والے یورپی کمیشن کی جس طرح تشکیل کر رہی ہیں، اس میں انہوں نے کئی یورپی عہدوں کو نئے نام بھی دیے ہیں۔ اس قدام کا مقصد ان یورپی عہدوں کو کم رسمی اور ناموں کے حوالے سے ان کے مقاصد کے قریب تر بنانا بتایا گیا ہے۔

اس دوران ایک ایسے شعبے کو، جو اب تک 'ترک وطن، داخلہ امور اور شہریت‘ کا شعبہ کہلاتا تھا، اس کا نام بدل کر 'یورپی طرز زندگی کے تحفظ‘ کے دفتر کا نام دے دیا گیا ہے۔

اس فیصلے پر خود برسلز میں بھی کافی زیادہ تنقید اس لیے کی گئی کہ ناقدین کے مطابق بظاہر 'فاشسٹ سنائی دینے والا‘ یہ نام یورپی سیاسی اخلاقیات سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

'غلط سمت کی طرف اشارہ‘

اس بارے میں یورپی پارلیمان کی ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک ترقی پسند خاتون رکن سوفی اِنٹ وَیلڈ نے کہا، ''ایسے کسی نئے دفتر کے قیام کا فیصلہ یورپی عوام میں بہت بڑی تعداد میں بے ضابطہ ترک وطن کی صورت میں یورپ آنے والے تارکین وطن کے باعث پیدا ہونے والے خدشات کے تدارک کی ایک کوشش تو ہے مگر یہ نام (یورپی طرز زندگی کے تحفظ کا دفتر) واضح طور پر غلط سمت میں جا رہا ہے اور اسی لیے قابل مذمت ہے۔‘‘

اسی طرح جرمنی سے تعلق رکھنے والی یورپی پارلیمان کی خاتون رکن اسکا گَیلر، جو یورپی پارلیمان میں ماحول پسندوں کے حزب کی سربراہ بھی ہیں، کہتی ہیں، ''اس نام کے ذریعے یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ مہاجرین اور تارکین وطن کی حمایت اور یورپی اقدار آپس میں متصادم ہیں۔‘‘

دوسری طرف انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے یورپی یونین کے اداروں سے متعلقہ دفتر کی سربراہ اِیو گَیڈی نے کہا ہے، ''اس نئے دفتر کے سربراہ کا عہدہ ہو گا، یورپی طرز زندگی کے تحفظ سے متعلقہ امور کے نگران کمشنر اور یوں ترک وطن کو سلامتی کے خدشات سے جوڑ دینے سے ایک بہت پریشان کن پیغام دیے جانے کا خطرہ بہت زیادہ ہو جائے گا۔‘‘

فان ڈیر لاین کی طرف سے فیصلے کا دفاع

یورپی کمیشن کی نئی صدر اُرزُولا فان ڈئر لاین نے یہ نیا عہدہ مارگاریٹیس شیناس کو دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو یونان سے تعقل رکھنے والے یورپی پارلیمان کے ایک سابق رکن ہیں اور ماضی میں یورپی کمیشن کے لیے طویل عرصے تک کام کرنے والے ایک انتظامی اہلکار بھی۔

انہوں نے اس عہدے پر اپنی تعیناتی کے بعد اپنے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کام یورپی شہریوں کا بہتر تحفظ کرتے ہوئے اور یورپی سرحدوں کی زیادہ مؤثر نگرانی کرتے ہوئے سیاسی پناہ کے یورپی نظام کو جدید تر بنانا ہو گا۔‘‘

شیناس نے مزید کہا، ''ہم یورپی باشندوں کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کریں گے، اپنی نوجوان نسل کے لیے روش تر مستقبل کے لیے کوشاں ہوں گے اور ہم چاہتے ہیں کہ اگلے پانچ سال کے دوران یورپی باشندوں کی زیادہ سے زیادہ حفاظت بھی کی جائے اور انہیں مزید بااختیار بھی بنایا جائے۔‘‘

اس بارے میں فان ڈیر لاین نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نئے یورپی دفتر کے قیام کا فیصلہ اور اس کا نام تو ان کے اس اسٹریٹیجی پلان میں بھی شامل تھے، جو اس سال جولائی میں ہی جاری کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس دفتر کا کام دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی ہو گا اور جمہوریت سمیت یورپی اقدار کا تحفظ بھی۔

الزبتھ شوماخر (م م / ع ا)

DW.COM