’’یورپی یونین میں ’یونین‘ کی کمی‘‘ | حالات حاضرہ | DW | 14.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’یورپی یونین میں ’یونین‘ کی کمی‘‘

یورپی کمیشن کے سربراہ ژان کلوڈ ینکر نے یورپی رہنماؤں سے کہا ہے کہ یکجہتی مسلط نہیں کی جا سکتی بلکہ یہ رضاکارانہ طور پر دل سے آتی ہے۔ ینکر نے یورپ میں عوامیت پسندوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر تشویش کا اظہار کیا۔

یورپی کمیشن کے سربراہ ژان کلوڈ ینکر نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین اپنی بقا کے خطرے سے دوچار ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ آج کل یونین کی رکن ریاستیں زیادہ تر اپنے قومی مفادات کی ہی بات کر رہی ہیں۔ ان کے بقول، ایسے شعبوں کی تعداد انتہائی کم ہے، جن میں آپس میں یکجہتی کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے یورپی یونین میں بڑھتی ہوئی قوم پرستی سے بھی خبردار کیا۔

فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں قائم یورپی پارلیمان سے ان کے اس خطاب کا مقصد یورپی یونین کے سربراہی اجلاس سے دو روز قبل سربراہان مملکت و حکومت کو برطانیہ میں یورپی یونین سے انخلاء کے ریفرنڈم کے بعد پیدا ہونے والےحالات سے خبردار کرنا تھا۔

عنقریب سلوواکیہ کے دارالحکومت برٹسلاوا میں ہونے والے اس سربراہ اجلاس میں برطانیہ کی نمائندگی نہیں ہو گی اور اس میں برطانیہ کے یورپی یونین سے نکل جانے کے بعد کی صورتحال اور مستقبل کے حوالے سے طریقہٴ کار جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔ یورپی یونین کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک کی جانب سے براٹسلاوا سربراہی اجلاس کے لیے جاری کیے جانے والے دعوت نامے پر لکھا ہے، ’’یہ ایک خوفناک غلطی ہو گی کہ اگر یورپی یونین بریگزٹ سے حاصل ہونے والے سبق کو نظر انداز کرے۔ اس کے علاوہ مہاجرین کے بحران سے جڑے مسائل پر بھی توجہ دینا لازمی ہے۔‘‘

ینکر کے مطابق، ’’ہم برطانوی عوام کی رائے کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اس فیصلے پر افسردہ بھی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بریگزٹ کے بعد بھی یورپی یونین اور برطانیہ کے تعلقات دوستانہ ہی رہیں۔ ساتھ ہی یورپی یونین کی جانب سے برطانیہ سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ انخلاء کی درخواست دینے کے معاملے میں جلدی کرے کیونکہ یہ دونوں کے مفاد میں ہے۔