’یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کے مذاکرات روک دینا چاہییں‘ | حالات حاضرہ | DW | 06.11.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کے مذاکرات روک دینا چاہییں‘

ترکی 1999ء سے یورپی یونین میں شمولیت کا امیدوار ہے اور اس مقصد کے لیے باقاعدہ مذاکرات 2005ء میں شروع ہوئے تھے۔ آج یورپی یونین میں توسیع کے کمشنر یوہانس ہان نے کہا ہے کہ بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔

یورپی یونین میں توسیع کے کمشنر یوہانس ہان نے ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے حوالے سے جاری بات چیت فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اخبار ’ڈی ویلٹ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ترکی کے ساتھ مستقبل میں یہ یورپی یونین، دونوں کے لیے زیادہ بہتر ہو گا کہ وہ کوئی نیا راستہ تلاش کرتے ہوئے شمولیت کی بات چیت روک دیں۔‘‘

یوہانس ہان نے مزید کہا کہ یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کے مذاکرات 2005ء سے جاری ہیں اور اس سلسلے میں تعطّل ’حقیقت پسندانہ اسٹریٹیجک شراکت داری‘ کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ ان کے بقول تاہم یہ یورپی یونین کے رکن ممالک پر منحصر ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے کس راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ فی الحال ایسے کوئی اشارے موجود نہیں جن کی بنیاد پر کہا جائے کہ زیادہ تر یورپی ممالک ترکی کے ساتھ مذاکرات باقاعدہ طور ختم کرنے کے حق میں رائے دیں۔

یورپی ارکان یہ دیکھ رہے ہیں کہ ترکی اور یورپی یونین کے مابین اس موضوع پر بات چیت ایک طرح سے منجمد سی ہو چکی ہے اور آگے نہیں بڑھ پا رہی۔ یوہانس ہان کے بقول اس توقف کی وجہ ترکی میں قانون کی بالادستی،آزادی اظہار اور شہری حقوق کے موضوعات پر یورپی یونین کے کچھ ممالک کے تحفظات ہیں۔

یورپی یونین میں توسیع کے کمشنر یوہانس ہان ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ ترکی کے ساتھ قریبی تعاون برقرار رہنا چاہیے۔ ان کے بقول باہمی روابط کی ایک ایسی حقیقت پسندانہ شکل کی وضاحت ضروری ہے، جو دونوں کے مفاد میں ہو اور جس کے بعد ترکی کو یورپی یونین کا حصہ بنانے کے خاطر عملی طور پر سوچا جائے۔ ہان نے اس موقع پر تجویز دی ہے کہ ترکی کو یورپی یونین کی کسٹم یونین میں شامل کیا جائے۔ تاہم رواں برس جون میں ہی اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 02:21

’ترکی یورپی یونین معاہدہ‘ خطرے میں، مہاجرین کا مستقبل کیا ہو گا

 

DW.COM