یورپی یونین مہاجرین کی تقسیم کے معاملے پر تا حال منقسم | مہاجرین کا بحران | DW | 13.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپی یونین مہاجرین کی تقسیم کے معاملے پر تا حال منقسم

یورپی یونین کے رہنما بحیرہ روم کے پار سے یورپ کی جانب غیر قانونی مہاجرت کی روک تھام کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔ یونین کے رہنما یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی دیکھ بھال کے مسئلے پر اب بھی منقسم ہیں۔

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے غیر قانونی مہاجرت کو روکنے کے لیے یورپی بلاک کے آئندہ کثیر السالی بجٹ میں ایک نیا طریقہ کار وضع کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ طریقہ کار رکن ریاستوں کی جانب سے مہاجرین کے لیے امدادی رقوم کے مطالبوں کا متبادل ہو گا۔ سن 2015 میں مہاجرین کے بحران کے آغاز کے بعد سے یونین کی رکن ریاستوں کو ایک عارضی بجٹ کے ذریعے مہاجرین کی دیکھ بھال کی مد میں رقم فراہم کی جا رہی تھی۔ نئے طریقہ کار کے تحت اس مد میں بجٹ سال 2021 سے مختص کیا جائے گا۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیمیں بحیرہ روم کے جنوبی ساحلوں پر موجود تارکین وطن کو یورپ آنے سے روکنے کی یورپی یونین کی کوششوں کی کڑی ناقد رہی ہیں۔ ان ہیومن رائٹس گروپوں کا کہنا ہے کہ اس طرح ان تارکین وطن کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔ تاہم یورپی یونین اس کے باوجود بھی ان مہاجرین کو یورپ کا قصد کرنے سے روکنے کے لیے مشرق وسطٰی اور افریقہ میں متعلقہ حکومتوں اور اقوام متحدہ کے اداروں کی مختلف طریقوں سے معاونت کی اپنی پالیسی پر قائم ہے۔

دوسری جانب یہ امر بھی اہم ہے کہ یورپ پہنچنے والے پناہ گزینوں کی رہائش اور دیگر انتظامی معاملات پر دو سال گزرنے کے باوجود بھی یورپی بلاک میں تقسیم پائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ یورپی کمشین نے یورپی یونین پہنچنے والے ان لاکھوں افراد کو مختلف ممالک میں تقسیم کرنے سے متعلق ایک لازمی کوٹہ تشکیل دیا تھا، تاہم ہنگری اور متعدد دیگر مشرقی یورپی ممالک کی جانب سے اس کوٹے کو منظور نہ کرنے کی وجہ سے مہاجرین کی تقسیم انتہائی سست روی کا شکار رہی ہے۔

Brüssel, Dimitris Avramopoulos, EU-Kommissar Migration (picture-alliance/V.Mayo)

یورپی یونین کے کمشنر برائے مہاجرت دیمیتریس اورامو پولوس

سن 2015 ميں مشرق وسطیٰ، جنوبی ايشيا اور شمالی افريقہ کے کئی ممالک سے ايک ملين سے زائد پناہ گزينوں کی آمد کے نتيجے ميں يونان اور اٹلی سمیت چند ديگر يورپی رياستوں پر کافی بوجھ پڑ گيا تھا۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے ليے يورپی کميشن نے ايک منصوبے کو حتمی شکل دی، جس کے تحت 160,000 مہاجرين کو رکن ملکوں ميں باقاعدہ طور پر بسايا جانا تھا۔

یورپی کمیشن نے کوٹے کے مطابق مہاجرین کو اپنے ممالک میں قبول نہ کرنے پر پہلے سے ہی پولینڈ، ہنگری اور چیک جمہوریہ کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔

یورپی یونین کی صدارت کرنے والی ریاست ایسٹونیا نے تجویز پیش کی ہے کہ جب بڑے پیمانے پر مہاجرت جاری ہو تو تارکین وطن کی تقسیم کے کوٹے کے منصوبے پر عمل لازمی ہے لیکن  ایسٹونیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ قانون سازی کے ذریعے مہاجرین کو بھیجنے اور قبول کرنے والے ممالک کی آمادگی کے معاملے پر بھی لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ تاہم اس تجویز کو متعدد یورپی ریاستوں کے مندوبین کی جانب سے مسترد کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب یورپی پارلیمنٹ مہاجرین کی آمد کے دباؤ سے قطع نظر ہر وقت مہاجرین کی لازمی منتقلی کی خواہاں ہے۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ اب یورپی کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک بھی مہاجرین کی تقسیم کے کوٹہ سسٹم منصوبے سے متفق نظر نہیں آتے اور دوسری طرف یورپی یونین کے کمشنر برائے مہاجرت دیمیتریس اورامو پولوس نے منگل کے روز ایک نیوز کانفرینس میں ٹسک کے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کونسل کے سربراہ تارکین وطن کے حوالے سے یورپی بلاک کے منصوبے کے بنیادی ستونوں میں سے ایک یعنی ’ یکجہتی کے اصول‘ کی اہمیت کو کم کر رہے ہیں۔

DW.COM

اشتہار