یورپی یونین ختم کی جائے، انتہائی دائیں بازو کی یورپی جماعتیں | حالات حاضرہ | DW | 17.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین ختم کی جائے، انتہائی دائیں بازو کی یورپی جماعتیں

انتہائی دائیں بازو کی متعدد یورپی سیاسی جماعتوں اور گروپوں کی چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ میں ہونے والی ایک کانگریس میں شریک رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ یورپی یونین کا اس کی موجودہ شکل میں خاتمہ ہونا چاہیے۔

default

دائیں سے بائیں: پراگ میں ہالینڈ کے گیئرٹ ولڈرز، چیک جمہوریہ کے تومیو اوکامورا اور فرانس کی مارین لے پین پریس کانفرنس کرتے ہوئے

اس کانگریس کا انعقاد پراگ میں ہفتہ سولہ دسمبر کو کیا گیا، جس میں مختلف یورپی ممالک کی انتہائی دائیں بازو کی متعدد جماعتوں نے حصہ لیا۔ اتوار سترہ دسمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ’یورپ کے لیے اقوام اور آزادیوں کی تحریک‘ نامی پلیٹ فارم یا MENL کے زیر اہتمام اس کانگریس کے شرکاء نے ہفتے کو رات گئے اس اجلاس کے اختتام پر کہا کہ یورپی یونین اور اس کی پالیسیاں یورپی اقوام کے وجود کے لیے خطرہ بن چکی ہیں، اس لیے اس یورپی اتحاد کا اس کی موجودہ شکل میں خاتمہ لازمی ہو گیا ہے۔

انتہائی دائیں بازو کی یورپی سیاسی جماعتوں کا پراگ میں اجلاس

ہالینڈ: انتخابات میں اسلام مخالف گیرٹ وِلڈرز کو شکست

ہالینڈ میں اسلام پر پابندی کی حمایت کروں گا: گیئرٹ ولڈرز

اس کانگریس میں حصہ لینے والی انتہائی دائیں بازو کی یورپی سیاسی جماعتوں میں فرانس کی نیشنل فرنٹ، آسٹریا کی فریڈم پارٹی، اٹلی کی علاقائی جماعت شمالی لیگ، اور ہالینڈ کی پارٹی آف فریڈم خاص طور پر قابل ذکر تھیں۔ کانگریس میں فرانسیسی نیشنل فرنٹ کی خاتون سربراہ مارین لے پین، آسٹرین فریڈم پارٹی کے لیڈر ہائنز کرسٹیان شٹراخے، اطالوی نارتھ لیگ کے چند مرکزی رہنما اور ہالینڈ کی پارٹی آف فریڈم کے بانی گیئرٹ وِلڈرز، جو یورپ میں اسلام اور مہاجرین کی آمد کے بہت بڑے ناقد ہیں، خاص طور پر شریک ہوئے۔

Pegida Demonstration in Prag

پراگ میں اسلام اور مہاجرین کی آمد کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ

پراگ میں اس کانگریس میں شرکت کے لیے شرکاء کو دعوت یورپ میں انتہائی دائیں بازو کے سیاسی منظر نامے پر ابھرنے والی نئی لیکن کافی طاقت ور شخصیت تَومِیو اوکامُورا نے دی تھی۔ اوکامُورا نے اپنی سیاسی جماعت فریڈم اینڈ ڈائریکٹ ڈیموکریسی پارٹی کی بنیاد 2015ء میں رکھی تھی۔

یورپ میں دائیں بازو کی طرف جھکاؤ کی وجہ عالمگیریت سے خوف

ہالینڈ: مخصوص عوامی مقامات پر برقعے اور نقاب پر پابندی

یہ پارٹی چیک جمہوریہ میں مہاجرین اور تارکین وطن کی آمد کی سخت مخالف ہے اور اس نے گزشتہ اکتوبر میں ہونے والے چیک پارلیمانی الیکشن میں 10.6 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اوکامُورا نے کہا، ’’چیک جمہوریہ کے عوام بہت بڑی تعداد میں تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لیے اپنے دروازے آئندہ بھی پوری طرح بند رکھیں گے۔‘‘

اسی طرح ہالینڈ کے متنازعہ سیاستدان گیئرٹ وِلڈرز نے کانگریس سے اپنے خطاب میں کہا کہ برسلز میں یورپی یونین کی نوکر شاہی اور اس کی پالیسیاں یورپی اقوام کے وجود کے لیے خطرہ بن چکی ہیں، اس لیے ان کا خاتمہ اب لازمی ہو گیا ہے۔‘‘

Tschechien Protest gegen Immigration in Prag

انتہائی دائیں بازو کی یورپی سیاسی جماعتوں کا عوامیت پسندانہ موقف: ’مہاجرین کو روک کر داعش کو روکو‘

فرانس کی نیشنل فرنٹ کی خاتون سربراہ مارین لے پین نے اپنے خطاب میں کہا کہ یورپی یونین ایک ’تباہ کن تنظیم‘ ہے، جس سے نجات حاصل کی جانا چاہیے۔ مارین لے پین اور ان کی جماعت کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ نیشنل فرنٹ کے خلاف ان الزامات کے تحت چھان بین بھی جاری ہے کہ دائیں بازو کی اس انتہا پسند پارٹی نے یورپی یونین سے ملنے والی رقوم کا غلط استعمال کیا تھا۔ اس سلسلے میں اسی سال جون میں خود مارین لے پین کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا تھا۔

جرمنی: سینکڑوں ’خطرناک‘ اسلام پسندوں میں بچے اور خواتین بھی

مہاجرین مخالف جماعت نے قوم پرست رہنما کو شریک سربراہ چن لیا

چیک جمہوریہ کے انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان اور 2015ء میں قائم کی گئی فریڈم اینڈ ڈائریکٹ ڈیموکریسی پارٹی یا ایس پی ڈی کے بانی تَومِیو اوکامُورا کے بارے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان کے والدین میں سے والدہ ایک چیک شہری اور والد جاپانی تھے۔ اوکامُورا نے کہا، ’’یہ خطرہ پیدا ہو چکا ہے کہ مسلمان یورپ کو اپنی نوآبادی بنا لیں گے۔‘‘ ماضی قریب میں اوکامُورا نے یہ بھی کہا تھا کہ یورپی یونین کی رکن ریاستوں کو اپنے ہاں اسلام اور تارکین وطن کی آمد کے بارے میں ’صفر ڈگری برادشت‘ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

ویڈیو دیکھیے 03:16
Now live
03:16 منٹ

اے ایف ڈی کا اسلام مخالف منصوبہ اور عوامی ردعمل

DW.COM

Audios and videos on the topic