1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
ماحولیورپ

یورپی ہوائی اڈوں پر آلودگی سے باون ملین انسانوں کو خطرہ

25 جون 2024

ایک نئی مطالعاتی رپورٹ کے مطابق ہوائی جہازوں کے ایندھن سے انتہائی باریک ذرات کا اخراج انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ ہے۔ اس رپورٹ میں ایئر ٹریفک میں کمی اور جیٹ ایندھن کے معیار میں بہتری کی تجاویز دی گئی ہیں۔

https://p.dw.com/p/4hTLn
 الٹرا فائن پارٹیکلز موٹائی میں انسانی بالوں سے تقریباً 1,000 گنا کم ہوتے ہیں اور یہ ہوائی جہاز کے ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران خارج ہوتے ہیں
الٹرا فائن پارٹیکلز موٹائی میں انسانی بالوں سے تقریباً 1,000 گنا کم ہوتے ہیں اور یہ ہوائی جہاز کے ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران خارج ہوتے ہیںتصویر: Florian Gaertner/photothek/IMAGO

ہوائی جہازوں کے ایندھن کے جلنے کے بعد اس سے بہت بڑی مقدار میں انتہائی باریک اور مضر صحت ذرات کے اخراج کے سبب یورپ کے مصروف ترین ہوائی اڈوں کے ارد گرد رہنے والے تقریباﹰ 52 ملین انسانوں کی صحت کو خطرات لاحق ہیں۔

برسلز میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم ٹرانسپورٹ اینڈ انوائرنمنٹ ( T&E) نے منگل 25 جون کے روز اپنی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ الٹرا فائن پارٹیکلز (UFPs)، جو کہ اپنی موٹائی میں انسانی بالوں سے تقریباً 1,000 گنا کم ہوتے ہیں، ہوائی جہاز کے ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران خارج ہوتے ہیں۔

ان کے بہت چھوٹے سائز کا مطلب یہ ہے کہ یہ نظام تنفس کے ذریعے باآسانی انسانی بافتوں میں گھس جاتے ہیں اور ان ذرات کا عام لوگوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہونا مسلمہ ہے۔ اس کے باوجود ان یو ایف پیز کے بارے میں ابھی تک کوئی بہت مؤثر اور جامع پالیسی نہیں اپنائی گئی۔

ایمسٹرڈم میں شیپول کے ہوائی اڈے کے ارد گرد انتہائی باریک ذرات کی شرح کا تجزیہ کیا گیا
ایمسٹرڈم میں شیپول کے ہوائی اڈے کے ارد گرد انتہائی باریک ذرات کی شرح کا تجزیہ کیا گیاتصویر: Nicolas Economou/NurPhoto/picture alliance

ٹی اینڈ ای نامی اس یورپی این جی او کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے، ''ایوی ایشن UFPs کی وجہ سے دسیوں ملین یورپی شہریوں کو صحت کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔‘‘

اس رپورٹ میں  بہتر نگرانی اور یو ایف پیز میں کمی کے اہداف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا  گیا ہے، ''خوش قسمتی سے فضائی ٹریفک میں  کمی لا کر اور جیٹ ایندھن کے معیار کو بہتر بنا کر  اضافی ماحولیاتی فوائد حاصل کرتے ہوئے مختصر مدت میں اس مسئلے کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔‘‘

اس این جی او نے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار پبلک ہیلتھ اینڈ انوائرنمنٹ آف نیدرلینڈز (آر آئی وی ایم) کے جمع کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر ایمسٹرڈم میں شیپول کے ہوائی اڈے کے ارد گرد انتہائی باریک ذرات کی شرح کا تجزیہ کیا۔ اس کے بعد ان نتائج کو یورپ کے 32 مصروف ترین ہوائی اڈوں تک یہ فرض کرتے ہوئے توسیع دی گئی کہ یو ایف پیز کی آلودگی فضائی آمد و رفت کے ساتھ بڑھتی ہے اور ہر ہوائی اڈے کے ارد گرد یکساں طور پر پھیلی ہوئی ہے۔

اس کے بعد اسی مطالعے میں یہ نتیجہ بھی اخذ کیا گیا کہ ہوائی اڈوں کے ارد گرد 20 کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والے 52 ملین افراد کو  فضا میں الٹرا فائن پارٹیکلز کی بلند سطح میں موجودگی کے باعث صحت کے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔

رواں سال فروری میں پیرس کے چارلس ڈیگال ایئر پورٹ پر الٹر فائن پارٹیکلز کا ارتکاز 23,000 فی کیوبک سینٹی میٹر ریکارڈ  کیا گیا
رواں سال فروری میں پیرس کے چارلس ڈیگال ایئر پورٹ پر الٹر فائن پارٹیکلز کا ارتکاز 23,000 فی کیوبک سینٹی میٹر ریکارڈ کیا گیاتصویر: Markus Mainka/dpa/picture alliance

T&E کے مطابق آر آئی وی ایم کے محققین نے ایمسٹرڈم کے شیپول ہوائی اڈے کے ارد گرد پانچ کلومیٹر کے دائرے میں ''یو ایف پیز کے ارتکاز کی سطح 4,000 سے 30,000 ذرات فی کیوبک سینٹی میٹر کے درمیان‘‘ پائی۔ اس کے علاوہ متعلقہ شہروں کے مراکز میں اس ارتکاز کی سطح 3,000 اور 12,000 ذرات فی کیوبک سینٹی میٹر کے درمیان پائی گئی۔

یہ صورت حال یو ایف پیز کی وجہ سے آلودگی میں ہوائی اڈوں کے اہم کردار کو اجاگر کرتی ہے۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے علاقے میں ہوا کے معیار کی نگرانی کرنے والے ادارے ایئرپاریف نے اسی سال فروری میں پیرس کے چارلس ڈیگال ایئر پورٹ پر ایسے ذرات کا ارتکاز 23,000 فی کیوبک سینٹی میٹر ریکارڈ کیا تھا۔

ش ر⁄  م م (اے ایف پی)