یورپی سربراہی کانفرنس، مہاجرین کی تقسیم بڑا موضوع | مہاجرین کا بحران | DW | 14.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپی سربراہی کانفرنس، مہاجرین کی تقسیم بڑا موضوع

یورپی یونین کی سربراہی کانفرنس سے قبل رکن ریاستوں کے مابین مہاجرین کی تقسیم سے متعلق یورپی کمیشن کے منصوبے پر اختلافات شدید تر ہیں اور یہ موضوع اس کانفرنس میں بھی مرکزی نوعیت کا ہو گا۔

یورپی یونین کا سربراہی اجلاس جاری ہے، تاہم اس اجلاس کے آغاز سے قبل مختلف رکن ریاستوں میں مہاجرین کے بحران کے حل اور خصوصاﹰ یورپی کمیشن کی جانب سے یونان اور اٹلی جیسی رکن ریاستوں میں موجود تارکین وطن کو مختلف ریاستوں میں تقسیم کرنے سے متعلق منصوبے پر شدید اختلافات مزید شدت اختیار کر چکے ہیں۔

یورپی یونین مہاجرین کی تقسیم کے معاملے پر تا حال منقسم

’مہاجرین کے حقوق کی پامالیوں کی ذمہ دار یورپی یونین بھی‘

سربیا میں پھنسے مہاجر اور شدید جاڑے کے دن

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹُسک نے اس اجلاس سے قبل اپنے ایک خط میں یورپی کمیشن کے اس منصوبے کو ’غیرفعال‘ اور ’تقسیم کا باعث‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ رکن ریاستیں یورپی سرحدوں کو محفوظ بنانے پر زیادہ توجہ دیں۔

سن 2015ء میں متعارف کروائی گئی اسکیم کے مطابق یونان اور اٹلی پہنچنے والے سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں ایک لازمی کوٹا نظام کے تحت تقسیم کیا جانا تھا، تاہم ہنگری، پولینڈ اور چیک جمہوریہ اپنے ہاں کسی بھی تارک وطن کو پناہ دینے کے امکان کو رد کر چکے ہیں۔

یورپی کمیشن نے مہاجرین تقسیم کر کے مستقبل میں کسی بحرانی صورت حال سے نمٹنے کا ایک مستقل منصوبہ طے کیا تھا، تاہم متعدد رکن ریاستوں کی جانب سے اس منصوبے پر شدید اعتراضات کی وجہ سے اس پر عمل درآمد ممکن نہیں ہوا ہے۔

یورپی مائیگریشن کمشنر دیمیتریس اوراموپولوس یورپی کونسل کے سربراہ ڈونڈ ٹُسک کے اس خط پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ’ناقابل قبول‘ اور ’یورپ مخالف‘ قرار دیا۔

یورپی کمشین کے ترجمان مارگاریتِس شیناس کے مطابق اس بابت کوئی داخلی تنازعہ نہیں ہے، تاہم انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ یورپی کمشین اس بیان کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ اس کا تجویز کردہ مہاجرین کی تقیسم کا منصوبہ ’غیرفعال‘ ہے۔

ویڈیو دیکھیے 04:07
Now live
04:07 منٹ

ترکی اور یورپی یونین میں کشیدگی، مہاجرین کی ڈیل کا کیا بنے گا؟

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس منصوبے کے تحت اب تک 32 ہزار تارکین وطن کو مختلف رکن ریاستوں میں بسایا جا چکا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک لاکھ ساٹھ ہزار مہاجرین کو مختلف یورپی ریاستوں میں تقسیم کیا جانا تھا۔

جرمنی اور سویڈن اس منصوبے کے مضبوط حامی ہیں اور ان ممالک کا موقف ہے کہ مہاجرین کا بوجھ بانٹ کر یورپی یونین کی رکن ریاستوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہیے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار