یورپی انتخابات میں کن موضوعات پر بات ہو رہی ہے؟ | معاشرہ | DW | 16.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

یورپی انتخابات میں کن موضوعات پر بات ہو رہی ہے؟

اگلے ہفتے یورپی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ پریشانی بڑھتی جا رہی ہے۔ یورپی انتخابات میں حصہ لینے والے سرکردہ امیدواروں کے مابین گزشتہ شب ایک مباحثے کے دوران دلائل کا تبادلہ ہوا۔ ژان کلود ینکر کا جانشین کون ہو گا؟

یورپی یونین کے انتخابات میں حصہ لینے والے سرکردہ رہنما کئی اہم مسائل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ان میں ہجرت، بڑھتی ہوئی قوم پرستی، تحفظ ماحول اور ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ نازک تعلقات۔ یورپی کمیشن کی سربراہی کے چھ اہم امیدواروں نے گزشتہ روز ہونے والے مباحثے میں انہی موضوعات پر اپنے موقف کو واضح کیا۔

اس دوران تین صحافیوں نے ان امیدواروں سے ان کی مستقبل کی پالیسی کے بارے میں سوالات پوچھے۔ ماحول دوست گرین پارٹی اور سوشل ڈیموکریٹس نے برسلز میں ہونے والے مباحثے میں تحفظ ماحول کی خاطر مزید موثر اقدامات مرنے پر زور دیا۔ قدامت پسند منفریڈ ویبر نے تاہم دوسری جانب ملازمتوں کی کمی سے خبردار کیا۔

ڈچ سوشل ڈیموکریٹ سیاستدان فرنز ٹمرزمان نے اس موقع پر کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ یورپی یونین کا ایک ایسے امریکی صدر سے واسطہ پڑا ہے، جو یہ سمجھتا ہے کہ ایک کمزور اور منقسم یورپ امریکا کے حق میں ہے،’’یہ ہمارے لیے بہت خطرناک ہے‘‘۔

اس مباحثے کے دوران تقریباً تمام امیدواروں نے یہ سوال کیا کہ ٹرمپ جیسے ایک ایسے صدر کے ساتھ کیسے معاملات طے کیے جائیں، جس نے یورپی فولادی صنعت پر اضافی محصولات عائد کیے ہیں اور وہ یورپی کار ساز صنعت کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنا چاہتا ہو۔ ساتھ ہی امریکی صدر کا یہ مطالبہ بھی ہے کہ یورپ دفاعی شعبے میں اپنے اخراجات بڑھائے۔

یورپی کمیشن کی سربراہی آج کل ژان کلود ینکر کے پاس ہے۔ اگلے ہفتے تیئیس سے چھبیس مئی تک ہونے والی یورپی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل افراد کی تعداد چار سو ملین ہے۔ یورپی پارلمیان یورپی یونین کا جمہوری طور پر منتخب کیا جانے والا واحد ادارہ ہے۔ عام طور پر ان انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب کم ہی رہتا ہے۔

 قبل از انتخابات کرائے گئے ایک جائزے کے مطابق قوم پرست اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی زیادہ ووٹ ملنے کا امکان ہے۔ تاہم بڑی جماعتیں نشستیں کم ہونے کے باوجود بھی پارلیمان میں اکثریت میں ہی رہیں گی۔

تاہم یہ ابھی غیر واضح ہے کہ گزشتہ شب منعقد ہونے والے اس مباحثے کو دیکھنے والوں کی تعداد کتنی تھی۔ کئی ممالک کے سرکاری ٹیلی وژن چینلز اور کچھ ویب سائٹس نے اسے براہ نشر کیا تھا۔

DW.COM