یورپی اسٹیٹسمین: واٹسلاو ہاول، خراج عقیدت کا سلسلہ جاری | حالات حاضرہ | DW | 19.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی اسٹیٹسمین: واٹسلاو ہاول، خراج عقیدت کا سلسلہ جاری

چیک جمہوریہ میں آمریت کے خلاف ویلویٹ انقلاب کی اہم ترین شخصیت واٹسلاو ہاول کی رحلت کے بعد غیر ملکی لیڈروں کی جانب سے خراج عقیدت و تحسین کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

default

واٹسلاو ہاول

انتقال کر جانے والے یورپی مدبر اور سیاستدان واٹسلاو ہاول کو امریکہ، جرمنی، فرانس، برطانیہ، پولینڈ اور رومانیہ کے سربراہان حکومت و مملکت سمیت کئی دوسرے لیڈروں کی جانب سے شاندار خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

جرمنی کی قائد حکومت انگیلا میرکل کے نزدیک ہاول ایک عظیم یورپی شخصیت تھے۔ جرمن چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ انسانی تاریخ میں ان کی جمہوریت اور آزادی کے لیے جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور عالمی سطح پر جرمن قوم نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اس پر وہ ہمیشہ ان کی شکر گزار رہے گی۔ انگیلا میرکل کے علاوہ جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے کا کہنا تھا کہ وہ چیک جمہوریہ میں انقلاب کی روح ہونے کے علاوہ یورپی اتحاد کے بھی نمائندہ تھے۔ ویسٹر ویلے کے مطابق ہاول کے الفاظ نے وسطی اور مشرقی یورپ میں بیداری کی لہر پیدا کی تھی۔ جرمن وزیر خارجہ کے مطابق دیوار برلن کے انہدام میں بھی چیکو سلوواکیہ کا کردار اہم ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے بھی چیک جمہوریہ کے لیڈر کو انتہائی باوقار انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔ اوباما کے مطابق ویلویٹ انقلاب کا وہ مرکزی کردار تھے اور اسی انقلاب کی وجہ سے وہ اپنی عوام کے لیے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ اوباما کا مزید کہنا تھا کہ ہاول کی شخصیت نے دنیا کے مختلف حصوں میں پروان چڑھنے والی نسلوں کو خودداری اور عزت کے حصول کے لیے متاثر کیا۔ اوباما نے آمریت کے دور اور پھر یورپ میں فروغٍ جمہوریت کے لیے واٹسلاو ہاول کے متحرک کردار کو نہایت اہم خیال کیا۔

پولینڈ کے سابق صدر لیخ ولینسا نے بھی چیک جمہوریہ کے رحلت پا نے والے لیڈر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت اور آزادی کی جدوجہد کے رہنما تھے۔ ویلنسا کے مطابق یورپ موجودہ بحران کے دور میں ان کی شخصیت کو یقینی طور پر مِس کرے گا۔ ایک اور مشرقی یورپی ملک رومانیہ کے صدر تاریان باسیسکو کے مطابق کمیونزم کے خاتمے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے واٹسلاو ہاول ایک امید کا استعارہ تھے اور وہ اگلی نسلوں کے لیے بھی سیوک اسپرٹ کا نشان رہیں گے۔

اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے واٹسلاو ہاول کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ آمریت کے خلاف ایک جرات مندانہ اور مضبوط آواز تھے۔ نیتن یاہو کے مطابق ہاول اسرائیل کے سچے دوست تھے اور اسرائیل کے حق ریاست کے وکیل بھی تھے۔

فرانس کے صدر نکولا سارکوزی کا کہنا ہے کہ یورپ سے ہاول کی محبت عظیم تھی اور وہ فرانس کے پرخلوص دوست تھے۔ سارکوزی نے ہاول کو یورپ کے بڑے مدبروں اور دانشوروں میں شمار کیا۔ اسی طرح برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ آمریت نے واٹسلاو ہاول کی آواز کو خاموش اور دبانے کی بھرپور کوشش کی لیکن اس ڈرامہ نگار اور سیاسی منحرف کی آواز کو دبایا نہیں جا سکا تھا۔

اٹلی کے ٹیکنوکریٹ وزیر اعظم ماریو مونٹی کا کہنا ہے کہ واٹسلاو ہاول نے ہمیشہ جمہوری اقدار کے لیے جدوجہد کی اور اس سے سارے یورپی اقوام کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ مونٹی کے مطابق اب ان کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا یورپی عوام پر لازم ہے۔ بالٹک سمندر کے علاقے کی ریاست لیتھوانیا کی صدر Dalia Grybauskaite نے بھی واٹسلاو ہاول کو پرزور انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔ یورپی کونسل کے سیکرٹری جنرل Thorbjoern Jagland نے واٹسلاو ہاول کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی ان اقدار کے منافی کام نہیں کیا، جو پرتحمل معاشرے کے لیے اہم ہوتی ہیں۔ اسی طرح یورپی کمیشن کے صدر یوزے مانویل بارروسو نے بھی واٹسلاو ہاول کو جدید یورپی عہد کی اہم شخصیت قرار دیا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار