یورو کپ 2016 ء کا پہلا میچ میزبان فرانس نے جیت لیا | کھیل | DW | 11.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

یورو کپ 2016 ء کا پہلا میچ میزبان فرانس نے جیت لیا

فرانس میں جمعے کی شب سے شروع ہونے والی یورو فُٹ بال چیمپیئن شپ کے پہلے میچ میں میزبان ٹیم نے رومانیہ کو آخری لمحات میں گول کر کے شکست دے دی اور میچ کے ساتھ ساتھ فرانسیسی شائقین کے دل بھی جیت لیے۔

پیرس میں کھیلے گئے گروپ اے کے اس میچ میں رومانیہ کو ایک کے مقابلے دو گول سے شکست دے کر فرانسیسی ٹیم نے اپنے لیے یورو کپ کا ایک خوش گوار آغاز کیا ہے۔ اس کی اس کامیابی کا سہرا فرانسیسی فٹ بالر ڈمیٹری پیٹ کے سر ہے۔ میچ کے ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے تک رومانیہ کی ٹیم سے ایک ایک گول کی برابری فرانسیسی کھلاڑیوں کا حوصلہ پست کرنے اور ان میں مایوسی اور بے چینی پیدا کرنے کا سبب نظر آرہی تھی۔ روشنیوں کے شہر پیرس کو ایک اُداس رات سے بچاتے ہوئے ڈمیٹری پیٹ نے جادوئی انداز سے آخری لمحات میں کھیل کی کایہ پلٹتے ہوئے ایک شاندار گول کر دیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے پیرس اسٹیڈیم کا سماں ہی بدل گیا اور ’لے بلوز‘ یا ’فرنچ فار دا بلوز‘ ٹیم فتح و مسرت سے سرشار نظر آنے لگی۔

UEFA EURO 2016 - Frankreich vs. Rumänien

فرانسیسی شائقین کا جوش و خروش

میچ میں فرانس کی ٹیم نے پہلے ایک گول کر کے روماینہ پر سبقت حاصل کر لی تھی۔ میچ کا پہلا ہاف بغیر گول کے برابر رہا لیکن دوسرے ہاف کے 57 ویں منٹ میں اولیور گیرو نے پہلا گول کیا۔ تاہم فرانسیسی ٹیم اپنی اس برتری کو محض 8 منٹ ہی برقرار رکھ سکی۔ یعنی 53ویں منٹ میں رومانیہ نے جوابی گول کر کے فرانسیسی فُٹ بالروں کو گہری مایوسی سے دو چار کر دیا۔ نیلی شرٹس نے ایڑھی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے میچ کے 89 ویں منٹ میں گیند رومانیہ کے گول میں پہنچا ہی دی۔ یوں اسٹیڈیم میں موجود اور دنیا بھر میں ٹی وی اسکرین کے آگے بیٹھے نیلی شرٹس کے فینز میں خوشی کی ایک انوکھی لہر دوڑ گئی۔

UEFA EURO 2016

فرانس میں اس ایونٹ کے موقع پر سکیورٹی کے غیر معمولی افدامات

فرانسیسی کوچ ڈی ڈائر دسچیمپس نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلا میچ جیتنا اُن کی ٹیم کے لیے ایک اچھا شگون ہے۔

اس بار یورپی چیمپیئن شپ کا فرانس میں انعقاد دہشت گردانہ حملوں کے خوف کے سائے میں ہو رہا ہے۔ ملک بھر میں سکیورٹی کے غیر معمولی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس ایونٹ کے لیے قریب 90 ہزار سکیورٹی اور پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں پیرس میں 130 افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے فرانس میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔

DW.COM