یورو فٹ بال چیمپیئن شپ: میچ کے دوران ماسک پہن کر رکھیں | کھیل | DW | 10.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

یورو فٹ بال چیمپیئن شپ: میچ کے دوران ماسک پہن کر رکھیں

یورپی اقوام کی مؤخر شدہ فٹ بال چیمپیئن شپ رواں برس گیارہ جون سے گیارہ شہروں میں کھیلی جائے گی۔ یورپی یونین کی ہیلتھ ایجنسی نے شائقین سے کہا ہے کہ وہ وبا کے ضابطوں کا خاص طور پر خیال رکھیں۔

یورپی فٹ بال چیمپیئن شپ گزشتہ برس کھیلی جانی تھی لیکن کورونا وبا کی شدت نے اس کا انعقاد ناممکن بنا دیا تھا۔ مختلف یورپی ملکوں میں پھیلی کووڈ انیس کی بیماری کی وجہ سی اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔

اب یہ کثیر القومی ٹورنامنٹ جمعہ گیارہ جون سے شروع ہو گا۔ اس چیمپیئن شپ کے نگران ادارے نے کورونا وبا کی وجہ سے مختلف شہروں میں کھیلے جانے والے میچوں میں شائقین کی تعداد کا بھی کوٹہ مقرر کر دیا ہے۔

Deutschland Bundesliga - 1. FC Union Berlin v Bayern München

جرمن ٹیم کو یورپی فٹ بال چیمپیئن شپ کے ابتدائی راؤنڈ میں انتہائی مضبوط ٹیموں کا سامنا ہے

وبا سے محفوظ رہنا ضروری

یورپی مرکز برائے تحفظِ امراض نے اپنے ایک بیان میں شائقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ میچ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم پہنچنے سے قبل بدن کے ٹمپریچر پر بھی نگاہ رکھیں۔ بخار کی صورت میں میچ دیکھنے سے گریز کیا جائے۔ اسٹیڈیم میں شائقین کو ماسک لگا کر میچ دیکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔

جرمن بنڈس لیگا کا منفی ریکارڈ: ’بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نا ہو گا‘

اس ادارے نے یہ بھی کہا کہ ناکافی احتیاطی اقدامات کی وجہ سے ٹورنامنٹ میں شائقین کی شرکت مختلف ملکوں میں کورونا وبا میں پیدا شدہ کمی کی صورت حال کو تبدیل کر سکتی ہے اور بیمار افراد میں اضافے کا امکان ہے۔ اس کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ مختلف شہروں میں کھیلے جانے والے اس ٹورنامنٹ کے میچوں کو دیکھنے پانچ لاکھ کے قریب شائقین اسٹیڈیمز پہنچیں گے۔

Migranten Symbolbild

جرمن ٹیم یورو ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں گروپ ایف میں ہے اور اس گروپ کی دیگر ٹیمیں فرانس، ہنگری اور پرتگال ہیں

مختلف اسٹیڈیم اور شائقین کی تعداد

مختلف ممالک میں کورونا وبا کی صورت حال کے تناظر میں اسٹیڈیم میں شائقین کی محدود تعداد کی ہی اجازت دی گئی ہے۔ ہنگری کے دارالحکومت بوڈا پیسٹ میں واقع اسٹیڈیم کو بھرنے کی اجازت ہے تو روس کے سینٹ پیٹرزبرگ اور آذربائیجانی دارالحکومت باکو کے اسٹیڈیمز میں گنجائش کا نصف مقرر کیا گیا ہے۔

بطور احتجاج جرمن فٹبال کھلاڑیوں کا برہنہ حالت میں میچ

مختلف یورپی شہروں، مثال کے طور پر ایمسٹرڈیم، بخارسٹ، کوپن ہیگن، گلاسگو اور روم کے اسٹیڈیمز میں گنجائش کے مطابق صرف پچیس سے پینتالیس فیصد شائقین داخل ہو سکیں گے۔

جرمن شہر میونخ کے اسٹیڈیم میں صرف بائیس فیصد شائقین ٹکٹ خرید سکیں گے۔ لندن کے ویمبلی اسٹیڈیم کو پچیس فیصد شائقین داخل کرنے کی اجازت ہو گی۔ ویمبلی میں فائنل میچ کھیلا جائے گا۔ فائنل میچ کو بھی صرف پچیس فیصد شائقین میدان میں بیٹھ کر دیکھ سکیں گے۔

وبا سے یورپی فٹ بال کلبوں کو اربوں ڈالر کے نقصان کا سامنا

یورو ٹوئنٹی ٹوئنٹی

یورپی اقوام کے درمیان کھیلا جانے والا یہ ٹورنامنٹ ورلڈ کپ کے بعد سب سے معتبر تصور کیا جاتا ہے۔ رواں برس اس میں کل چوبیس ملکوں کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ ان ملکوں کو چھ گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر گروپ میں چار ٹیمیں قرعہ اندازی سے رکھی گئی ہیں۔

Fußball EM 1996 Sieger Deutschland

جرمنی نے آخری مرتبہ یورپی چیمپیئن شپ سن 1996 میں چیک جمہوریہ کو ہرا کر جیتی تھی

جرمنی گروپ ایف میں ہے اور یہ ٹورنامنٹ کا سب سے مشکل گروپ ہے، اس میں چاروں ٹیمیں مضبوط ہیں۔ بقیہ ٹیموں میں فرانس، دفاعی چیمپیئن پرتگال اور ہنگری شامل ہیں۔

فٹ بال کا یہ ٹورنامنٹ براعظم یورپ کے گیارہ شہروں میں کھیلا جائے گا۔ چیمپیئن شپ کا فائنل میچ گیارہ جولائی کو ہو گا۔

ع ح/ ا ا (روئٹرز)