یورو زون کی سالانہ قومی پیداوار شدید گراوٹ کی شکار | معاشرہ | DW | 31.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

یورو زون کی سالانہ قومی پیداوار شدید گراوٹ کی شکار

اندازوں کے عین مطابق کورونا وبا نے یورو زون کی اقتصادیات کو جکڑ دیا ہے۔ ایک روز قبل جرمنی کی سالانہ قومی پیداوار میں انحطاط کے اشاریے سامنے آئے تھے۔

رواں برس کے نصف کی تکمیل پر واضح ہے کہ یورو زون کی مجموعی معیشت میں بارہ اعشاریہ ایک فیصد کی سست روی پیدا ہوئی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ اقتصادی مسائل یوروزون میں شامل ملک اسپین کو درپیش ہیں۔ یہ غیر معمولی معاشی مسائل دنیا بھر میں پھیلی کورونا وائرس کی وبا کا نتیجہ ہے۔

یورپی یونین وبائی حالات میں معاشی مشکلات پر توجہ دے

کورونا وائرس کی وبا کے خلاف یورپی بینک کا منصوبہ

یورو زون میں یورپی یونین کی ستائیس میں سے انیس رکن ریاستیں شامل ہیں۔ ان میں یورو کرنسی مستعمل ہے۔ ساری یورپی یونین کی سالانہ قومی پیداوار (GDP) بمقابلہ یورو زون معمولی سے بہتر ہے۔ یورپی یونین کی جی ڈی پی کی شرح 11.9 فیصد بتائی گئی ہے۔ یہ عبوری اعداد و شمار یونین کی جانب سے جمعہ اکتیس جولائی کو جاری کیے گئے ہیں۔

کورونا وبا کے شدید ایام کے دوران سارے براعظم یورپ میں افراتفری پھیلی ہوئی تھی۔ ہزاروں انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور انسانی معاشرت پر گہرے معاشرتی اور معاشی مسائل کی تاریک چادر تَن کر رہ گئی۔ کورونا وائرس سے یورپ کے شدید متاثرہ ملکوں میں فرانس، اٹلی اور اسپین خاص طور پر نمایاں ہیں۔ اب یورو زون اور یورپی یونین کی سالانہ قومی پیداوار میں پیدا ہونے والی شدید گراوٹ میں بھی اسپین کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔

اسپین یورپی یونین کی چوتھی بڑی معیشت سمجھا جاتا ہے۔ کورونا وبا نے اس ملک کے سبھی شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ اس کی سالانہ قومی پیداوار میں زوال 18.5 فیصد آیا ہے۔ اس گھمبیر اقتصادی صورت حال کا اندازہ لگاتے ہوئے ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز جمعہ اکتیس جولائی کو اہم یورپی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں اپنے ملک کی معاشی تعمیر نو کی منصوبہ بندی کے حوالے سے تفصیلاً بات چیت کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس اقتصادی گراوٹ نے واضح کر دیا ہے کہ اسپین اس وقت کساد بازاری (Recession) کی لپیٹ میں ہے۔ رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں بھی ہسپانوی معیشت 5.2 فیصد سکڑی تھی۔ فرانس اور اٹلی کی سالانہ قومی پیداوار میں بھی حیران کن زوال پذیری رونما ہوئی ہے۔ فرانس کی جی ڈی پی 13.8 فیصد اور اٹلی کی سالانہ قومی پیداوار میں 12.4 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔

یورپی یونین کے اقتصادی کمشنر پاؤلو جینٹیلونی کا کہنا ہے کہ کورونا وبا سے تمام یورپی ممالک کی اقتصاد پر گہرے اور ناقابل بیان منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جینٹیلونی کے مطابق یہ منفی اثرات دور رس نتائج کے حامل ہیں اور ان میں سے باہر آنے میں ممالک کو وقت درکار ہو گا۔

یونین ک دفتر شماریات نہ وضاحت دی ہے کہ جمعہ کو بیان کیے گئے اقتصادی اعداد و شمار مکمل نہیں ہیں اور ان میں اتار چڑھاؤ اور نظرثانی کی گنجائش باقی ہے۔

ع ح، ع ت (ڈی پی اے، اے ایف پی)