یمن میں دس ہزار بچے ہلاک یا معذور ہو چکے ہیں | حالات حاضرہ | DW | 20.10.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یمن میں دس ہزار بچے ہلاک یا معذور ہو چکے ہیں

بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ 2016 سے یمن میں اب تک دس ہزار بچے ہلاک یا پھر معذور کیے جا چکے ہیں۔ جنگ کے سبب ملک اس وقت دنیا کے بد ترین انسانی بحران سے دو چار ہے۔

بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے 19 اکتوبر منگل کے روز کہا کہ جنگ زدہ ملک یمن میں 10 ہزار سے بھی زیادہ بچے ہلاک یا پھر زخمی ہو چکے ہیں۔ ادارے کے مطابق یمن ہر روز ہلاک یا زخمی ہونے والے چار بچوں کی تعداد کے ''شرمناک سنگ میل'' تک پہنچ گیا ہے۔

یمن میں گزشتہ پانچ برسوں سے جنگ جاری ہے جہاں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی بین الاقومی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت سے بر سر پیکار ہیں۔ سعودی اور علاقے کے دیگر اس کے اتحادی بھی اس جنگ میں حکومت کے حامی ہیں۔

یونیسیف کے ترجمان جمیز ایلڈر کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے کے اندازوں کے مطابق یمن میں اب تک دس ہزار سے بھی زیادہ بچے ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان تازہ اعداد و شمار کے مطابق سن 2015 میں سعودی اتحاد نے جب سے اس جنگ میں مداخلت کی ہے اس وقت سے ہر روز تقریبا ًچار بچے ہلاک یا پھر زخمی ہوئے ہیں۔

یونیسیف نے اسے ایک، ''شرمناک سنگ میل'' سے تعبیر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق مارچ سن 2015 سے رواں برس 30 ستمبر تک یمن کی اس لڑائی میں تین ہزار 455 بچے ہلاک ہوئے جبکہ اسی دوران چھ ہزار 600 بچے زخمی بھی ہوئے۔ 

 

دنیا کا بدترین انسانی بحران

جنگ کے نتیجے میں یمن کے بے شمار بچے بالواسطہ طور پر مہلک طریقوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔ یمن کو فی الوقت طویل تنازعات، معاشی تباہی، سماجی ٹوٹ پھوٹ اور منتشر صحت خدمات کی مشترکہ پریشانیوں کی شدید قسم کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق یمن اس وقت دنیا کے بدترین انسانی بحران سے دو چار ہے جہاں تقریبا ًدو کروڑ لوگ، یعنی ملک کی ایک تہائی آبادی، کو ہر طرح کی امداد کی سخت ضرورت ہے۔ اس صورت حال سے بچے شدید طور پر متاثر ہیں اور مجموعی طور پر 11 ملین افرادانسانی امداد پر منحصر ہیں۔ یعنی تقریبا ًہر پانچ میں چار یمنی بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

یونیسیف کے مطابق اس کے علاوہ تقریبا ًچار لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ تنظیم کے ترجمان جیمز ایلڈ رکا کہنا ہے، '' وہ بھوک سے اس لیے مر رہے ہیں کیونکہ بڑوں نے جنگ چھیڑ رکھی ہے جس میں بچوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔''

یمن میں اس خانہ جنگی کے سبب تقریبا ًبیس لاکھ بچے اب اسکول جانے سے بھی قاصر ہیں جبکہ تشدد کی وجہ سے تقریباً 17 لاکھ بچے اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہی بے گھر ہو چکے ہیں۔

ص ز/ ج ا (ڈی پی اے، اے پی)

ویڈیو دیکھیے 02:20

فاقہ کشی کا شکار یمنی بچے

DW.COM