یمن میں جنگ بندی، ایران کی طرف سے نئی کوششوں کا خیرمقدم | حالات حاضرہ | DW | 08.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یمن میں جنگ بندی، ایران کی طرف سے نئی کوششوں کا خیرمقدم

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی تہران پہنچے ہوئے ہیں۔ ایرانی حکومت نے یمن کے تنازعے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گرفتھس نے ایرانی دارالحکومت تہران میں وزیر خارجہ جواد ظریف سے ملاقات کی۔ اقوام متحدہ کے ایلچی اس کوشش میں ہیں کہ سن 2015 سے جاری اس لڑائی کا دور رس اوردیرپا حل تلاش کیا جا سکے۔

امریکا حوثی ملیشیا کو دہشت گرد بلیک لسٹ سے نکال دے گا

ایرانی وزیر خارجہ کا خیر مقدم

تہران میں مارٹن گرفتھس کے ساتھ ملاقات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اس تنازعے کے مؤثر حل کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔

ظریف نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں جنگ شروع کرنے کا آپشن ابتدا سے ہی ایک غلط فیصلہ تھا۔

Jemen | Luftangriff auf Sanaa 2016

یمنی مسلح تنازعہ کو رواں برس چھ سال مکمل ہو رہے ہیں

مارٹن گرفتھس کی رابطہ کاری

اقوام متحدہ کے ایلچی یمن تنازعے کے پرامن حل کے لیے ایران کے دو روزہ دورہ  پر ہیں۔ وہ اتوار کو ایران پہنچے تھے۔ اس تنازعے کو چھ برس مکمل ہونے والے ہیں اور ملک قحط سالی کا شکار ہو چکا ہے۔ یمن کا صحت کا نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

امریکا نے یمن پر سعودی حملوں کی حمایت روک دی

 گرفتھس کے دورے کے حوالے سے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ توقع کی جاتی ہے کہ خصوصی سفیر کی کوششوں سے یمن میں جاری انسانی المیے کا خاتمہ ہوگا۔

جنگ بندی کے لیے گرفتھس پلان

اقوام متحدہ کے ایلچی نے تہران میں وزیر خارجہ جواد ظریف کے سامنے امن کوششوں کے حوالے سے اپنے منصوبے کی تفصیلات پیش کی ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب مارٹن گرفتھس

اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب مارٹن گرفتھس

اس پلان میں فوری طور پر فائر بندی، بیس ملین سے زائد یمنی باشندوں کے لیے انسانی امداد، متحارب گروپوں کے درمیان بات چیت اور تمام سیاسی گروپوں کی شمولیت سے انتخابات کا انعقاد شامل ہیں۔

اسی دوران ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی حکومت کی طرف سے حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کرنے کے فیصلے کو درست سمت میں ایک قدم قرار دیا ہے۔

ع ح، ش ج (ڈی پی اے)

DW.COM