یمن: حوثی باغیوں نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا | حالات حاضرہ | DW | 26.03.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یمن: حوثی باغیوں نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا

کورونا وائرس کی وبا کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظرسعودی عرب کی قیادت والے عسکری اتحاد کی طرف سے یمن میں جنگ بندی کے اعلان کا حوثی باغیوں نے خیرمقدم کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے جنگ بندی کی تجویز کے جواب میں سعودی قیادت والے عسکری اتحاد کی طرف سے یمن میں جنگ بندی کے اعلان کا حوثی باغیوں نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے عملی نفاذ کے منتظر ہیں۔

حوثی باغیوں کے رہنما محمد علی الحوثی نے جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹ پیغام میں کہاہے کہ وہ جنگ بندی کے عملی طور پر نافذ کیے جانے کے منتظر ہیں۔

اس سے قبل سعودی عرب کی قیادت والے عسکری اتحاد نے کووڈ۔انیس کی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی طرف سے جنگ بندی کی اپیل کو تسلیم کرتے ہوئے یمنی حکومت کو اپنی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش نے کووڈ۔انیس کی وبا سے نمٹنے کے لیے پوری دنیا میں تمام جنگ زدہ علاقوں میں فوری طور جنگ بندی کی اپیل کی تھی اور یمن کی حکومت نے ان کی اس اپیل کو تسلیم کر لیا تھا۔ سعودی عرب کی قیادت والے فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی اپیل کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں انسانی بنیادوں اور معاشی سطح پر اعتمادی سازی کے اقدامات کے لیے جو کوششیں کی جارہی ہیں وہ اس کے بھی حامی ہیں۔ 

Jemen Kinder im Flüchtlingslager in der Provinz Hajjah (picture-alliance/Photoshot/M. Al Wafi)

یمن دنیا کے 'بدترین انسانی بحران سے دوچار ہے' جہاں تقریبا ڈھائی کروڑ افراد کو فوری طور پر امداد کی اشد ضرورت ہے

یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں اورعرب کی قیادت والے عسکری اتحاد کے مابین گزشتہ پانچ برس سے جاری جنگ میں زبردست جانی و مالی نقصان ہوا ہے اور ملک بالکل تباہ ہوکر رہ گیا ہے۔ اس لڑائی میں اب تک کئی ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جس میں بیشتر عام شہری ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن دنیا کے 'بدترین انسانی بحران سے دوچار ہے' جہاں تقریبا ڈھائی کروڑ افراد کو فوری طور پر امداد کی اشد ضرورت ہے۔ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق اگر یمن میں کورونا وائرس کی وبا پھوٹ پڑی تو اس ملک کا نظام صحت بھی مکمل طور پر تباہ ہو جانے کاخدشہ ہے اور ہلاکتیں ''لامحدود”ہوں گی۔

چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ کو سعودی جنگی طیاروں نے حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو پہلی مرتبہ نشانہ بنایا تھا۔ اس دن سعودی عرب نے کہا تھا کہ سعودی عسکری اتحاد یمن کی جائز حکومت کو اندرونی و بیرونی خطرات سے بچانے کے لیے تمام ضروری اقدام کرے گا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی دشمن پر قابو پا لیں گے، لیکن پانچ برس بعد یمن کی یہ جنگ موت اور تباہی سے بھی آگے نکل چکی ہے۔

گزشتہ پیر کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش نے عالمی برادری سے اپیل کی تھی کہ تمام جنگ زدہ علاقوں میں فوری طور پر جنگ بندی ہونی چاہیے تاکہ وہاں کے لوگوں کو کورونا جیسی وبا سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کووڈ۔انیس کو سب کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا تھا،’’اس وقت جنگوں کی بند کردینے اور اور سب کو مل کر ہماری اپنی زندگی کے لیے حقیقی لڑائی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘‘

ص ز/  ج ا (ایجنسیاں)

DW.COM