یاہو : نصف ارب صارفین کے کوائف چرا لیے گئے | معاشرہ | DW | 23.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یاہو : نصف ارب صارفین کے کوائف چرا لیے گئے

انٹرنیٹ کمپنی یاہو نےجمعرات کو اعلان کیا ہے کہ 2014 ء میں ہونے والے ہیکنگ کے ایک حملے میں نصف ارب صارفین کے کوائف چوری کر لیے گئے ۔ یاہو کے مطابق اس کارروائی کے پیچھے کسی ملک کا ہاتھ لگتا ہے۔

امریکی انٹرنیٹ کمپنی یاہو کے مطابق اس چوری سے ہر دوسرا صارف متاثر ہوا ہے اور یہ واقعہ 2014ء کے اوخر میں پیش آیا تھا۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ معاملے کی تحقیق سے علم ہوا ہے کہ ہیکرز صارفین کے نام، ای میل پتے، تاریخ پیدائش، ٹیلی فون نمبر اور پاس ورڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ تاہم کریڈٹ کارڈز یا بینک کی معلومات محفوظ ہیں۔ یاہو نے اسے امریکی تاریخ میں کسی ایک ادارے پر ہونے والے ہیکنگ کے بڑے حملوں میں سے ایک قرار دیا ہے، ’’یاہو کی انتظامیہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔‘‘

انٹرنیٹ سکیورٹی کے ماہر گریہم کلولے نے کہا کہ یاہو سے چرائی جانی معلومات اُس ہیکر کے لیے ایک مفید ہتھیار ثابت ہو سکتی ہیں، جو یاہو کے کسی بھی صارف کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہو۔‘‘ ان کے بقول اکاؤنٹ کے تحفظ کے لیے جو خفیہ سوالات پوچھے جاتے ہیں ہیکرز ان سوالات و جوابات کو صارف کے کسی دیگر انٹرنیٹ اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

یاہو نے نام لیے بغیر کہا کہ اس ہیکنگ کے پیچھے کسی ایک ملک کا ہاتھ ہے۔ امریکا میں اس طرح کے واقعے کی ذمہ داری اکثر چینی یا روسی خفیہ ایجنسیوں پر عائد کی جاتی ہے۔ اس تناظر میں گریہم کلولے نے کہا، ’’اگرمیں یہ بری خبر بتانا چاہوں کہ میری کمپنی سائبر حملے کا نشانہ بن گئی ہے تو شاید میں بھی یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس کرتا کہ یہ کسی بیرونی طاقت کا کام ہے۔‘‘اس موقع پر یاہو نے صارفین سے کہا ہے کو وہ فوری طور پر اپنے پاسورڈز اور دیگر خفیہ معلومات کو تبدیل کر دیں۔

اشتہار