یادداشت کی بیماری کے خاتمے کے لیے ہدف بنا لیا گیا | صحت | DW | 13.12.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

یادداشت کی بیماری کے خاتمے کے لیے ہدف بنا لیا گیا

جی ایٹ ملکوں نے یادداشت کی کمزوری کے مرض کا مؤثر علاج ڈھونڈنے کے لیے 2015ء تک کا ہدف طے کیا ہے۔ برسوں سے اس بیماری کے خلاف دوا نہیں بنائی جا سکی جس پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔

جی ایٹ ممالک کا کہنا ہے کہ دنیا کو اس بیماری کے خلاف اسی مستعدی سے کام کرنا ہوگا جیسے ایچ آئی وی ایڈز کے خلاف جنگ کی گئی۔

ان ملکوں نے اس بات کا اعلان بدھ کو ایک اجلاس میں کیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 2050ء تک یادداشت کی بیماری میں مبتلا افراد کی تعداد تین گنا ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے باوجود سائنسدان ابھی تک اس مرض کی بنیادی وجہ کا پتہ لگانے کی کوششوں میں لگے ہیں جبکہ اس پر قابو پانے کے لیے دوا موجود نہیں ہے۔

لندن میں ایک اجلاس کے موقع پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چن نے جی ایٹ کے وزراء کو بتایا: ’’اس مرض سے مکمل صحت یاب ہونے یا محض ایسے علاج کی جانب بڑھنے کے لیے جو اس بیماری کی شکل بدل سکے، ہمارے ہاتھ خالی ہیں۔‘‘

اس خصوصی اجلاس میں یادداشت کی کمزوری کی بیماری کے خلاف مہم چلانے والے، سائنسدان اور دوا ساز اداروں کے سربراہ بھی شریک ہوئے۔

Demenz Alzheimer Symbolbild

یاداشت کی کمزوری کے مرض کی دوا نہ ہونے پر تشویش پائی جاتی ہے

یادداشت کی کمزوری کے مرض میں سب سے عام الزائمر کی بیماری ہے۔ دنیا بھر میں یہ پہلے ہی 44 ملین افراد کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس مرض کے بارے میں آگاہی کے لیے کام کرنے والے ایک غیر منافع بخش گروپ الزائمرز ڈیزیز انٹرنیشنل کی جانب سے رواں ماہ جاری کیے گئے نئے اندازوں کے مطابق 2050ء تک اس کے مریضوں کی تعداد 135ملین ہو جائے گی۔ ان میں سے 70 فیصد سے زائد کا تعلق پسماندہ ملکوں سے ہو گا جہاں صحت کی سہولتیں بھی مشکل سے ملتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت افزاء خوراک، زیادہ سے زیادہ ورزش اور سگریٹ نوشی سے پرہیز کے ذریعے اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔ تاہم جس چیز کی دنیا کو اشد ضرورت ہے وہ اس مرض کے خلاف مؤثر دوا کی دستیابی ہے۔

الزائمر کے علاج کے لیے آخری مرتبہ ایک دہائی قبل کسی دوا کی منظوری دی گئی تھی اور آج بھی کوئی ایسا علاج موجود نہیں جو اس مرض کی رفتار کو ہی سست کر سکے۔ اس وقت جو دوائیں موجود ہیں وہ محض اس بیماری کی علامتوں میں کچھ آرام دے سکتی ہیں۔

فارماسیوٹیکل ریسرچ اینڈ مینوفیکچررز آف امریکا کے مطابق گزشتہ 15برس کے دوران الزائمر کی ایک سو سے زائد تجرباتی ادویات ناکام ہو چکی ہیں۔

بعض کمپنیاں بدستور اس بیماری کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہیں اس مقصد میں کامیابی ملی تو دوا کے فروخت کے ذریعے انہیں سالانہ اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہو گی۔

ڈبلیو ایچ او کی مارگریٹ چن کہتی ہیں کہ یادداشت کی کمزوری کے مرض پر عالمی سطح پر اٹھنے والے اخراجات پہلے ہی چھ سو بلین ڈالر سے زیادہ ہیں جو دنیا کے جی ڈی پی کا ایک فیصد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں ان اخراجات میں اضافہ ہی ہو گا۔

DW.COM