ہیملٹن برٹش گراں پری میں کامیاب لیکن نسلی تعصب کا سامنا | کھیل | DW | 19.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

ہیملٹن برٹش گراں پری میں کامیاب لیکن نسلی تعصب کا سامنا

فارمولا ون کے ڈرائیوار لوئیس ہیملٹن کو آن لائن نسل پرستانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یورو کپ 2020 کے فائنل میں انگلش ٹیم کی حالیہ ناکامی کے بعد سیاہ فام انگلش کھلاڑیوں کو بھی ایسے ہی حملوں کانشانہ بنایا گیا تھا۔

سات مرتبہ عالمی چیمپئن کا اعزاز حاصل کرنے والے اسٹار ڈرائیوار لوئیس ہیملٹن نے اتوار کے دن برٹش گراں پری میں شاندار کامیابی حاصل کی اور ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ تاہم اس کے باوجود مرسیڈیز کے برطانوی ڈرائیور کو آن لائن نسل پرستانہ جملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق برٹش گراں پری میں کامیابی کے کچھ گھنٹے بعد ہی سوشل میڈیا پر سیاہ فام برطانوی شہری ہیملٹن کے خلاف نسلی تعصب پر مبنی جملے لکھے گئے جبکہ ساتھ ہی بندر کی اموجیز بھی استعمال کی گئیں۔

سکائی نیوز نے بتایا ہے کہ مرسیڈیز ٹیم کے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر چھتیس سالہ ہیملٹن کے نام پیغامات ارسال کیے گئے، جو نسل پرستانہ نوعیت کے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ کئی جوابات میں اس سوشل میڈیا ویب سائٹ کے صارفین نے بندر کی اموجیز بھی لگادیں۔

اس واقعے کے بعد خبر رساں ادارے روئٹرز نے مزید حقائق جاننے کی خاطر فیس بک کی ملکیت والے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹا گرام سے رابطہ کیا مگر فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

برٹش میڈیا نے ہیملٹن کے خلاف ہونے والے ان آن لائن تعصبانہ حملوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر صارفین کی ایک بڑی تعداد نے بھی نسل پرستی کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول اور ناقابل برداشت قرار دیا ہے۔

ہیملٹن، نسل پرستی کے خلاف ایک اہم آواز

لوئیس ہیملٹن سماجی مساوات کے لیے آواز بلند کرتے رہتے ہیں جبکہ 'بلیک لائیوز میٹر‘ (سیاہ فاموں کی زندگی بھی اہم ہے) تحریک کے بھی حامی ہیں۔ نسل پرستی کے خلاف وہ ایک اہم آواز قرار دیے جاتے ہیں۔

اتوار کے دن برٹش گراں پری سے قبل ہیملٹن نے کہا تھا کہ فٹ بال کی یورپی چیمپئن شپ یورو کپ 2020 کے فائنل میں انگلش ٹیم کی شکست کے بعد نسل پرستی کا نشانہ بننے والے کھلاڑیوں کا ردعمل ان کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنا تھا۔

اس فٹ بال میچ میں اٹلی نے انگلینڈ کو پینلٹی شوٹ آؤٹ پر شکست دے دی تھی۔ اس میچ میں تین سیاہ فام انگلش کھلاڑی پینلٹی کک پر گول کرنے میں ناکام رہے تھے، جس کے بعد انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے متعدد لوگوں نے آن لائن پلیٹ فارمز پر نسل پرستانہ جملے بھی لکھے۔

ان واقعات کے بعد برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہی جانسن سوشل میڈیا کمپنیوں کے اعلیٰ افسران سے ملے تھے، جس کا مقصد اس قسم کی آن لائن زیادتیوں کو روکنا ہے۔ ایسے واقعات کے بعد سوشل میڈیا کے بڑے اداروں پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ نسل پرستی کی روک تھام کے لیے زیادہ بہتر اقدامات کریں۔

 ع ب / ج ا (روئٹرز)

DW.COM