ہیمبرگ میں نازی دور کے بہت بڑے زیر زمین سواستیکا کی دریافت | معاشرہ | DW | 22.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہیمبرگ میں نازی دور کے بہت بڑے زیر زمین سواستیکا کی دریافت

جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں کھیلوں کے ایک میدان میں جاری تعمیراتی کاموں کے دوران وہاں نازی دور میں بنایا گیا سواستیکا کا ایک بہت بڑا نشان دریافت ہوا۔ عشروں تک مٹی تلے دبی رہی نازیوں کی یہ علامت قریب تیرہ مربع فٹ پر محیط ہے۔

دنیا میں گزرے وقتوں کی باقیات کا اچانک کہیں کھدائی کے دوران نمودار ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔ جرمنی بھر میں آج بھی اکثر کھدائی کے دوران کبھی دوسری عالمی جنگ کے دور کا کوئی بم یا پھر نازی دور کی مختلف باقیات سامنے آتی رہتی ہیں۔

نازی مسلمانوں کو ساتھ ملانے میں کیسے کامیاب ہوئے تھے؟

’ہولوکاسٹ کا انکار کرنے والے مہاجرین کو کیوں قبول کیا؟‘

ایسا ہی ایک نیا واقعہ جرمنی کے شمال میں واقع شہر ہمیبرگ میں پیش آیا، جہاں کھیلوں کے لیے مختص ایک میدان میں اسپورٹس ہال میں توسیع کی غرض سے میدان میں جب ایک جگہ کھدائی کی گئی، تو مٹی تلے چھپا سواستیکا یا نازیوں کا یہ نشان سامنے آیا۔

ہیمبرگ کے بِل شٹَیڈ نامی علاقے میں واقع ہائن کلنگ اسپورٹس گراؤنڈ میں کھدائی کے دوران نمودار ہونے والا سواستیکا کا یہ نشان کنکریٹ سے بنا ہوا تھا اور وہ تیرہ مربع فٹ پر پھیلا ہوا تھا۔

بِل شٹَیڈ ہارن اسپورٹس کلب کے مطابق کھدائی کے دوران نمودار ہونے والا سواستیکا کا نشان دراصل نازی جرمن دور میں وہاں بنائے گئے ایک مجسمے کی بنیاد تھا۔ اس مجسمے کو کئی دہائیاں قبل وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا تاہم اس کی بنیاد نہیں کھودی گئی تھی۔

اسپورٹس ہال کی انتظامیہ نے اس حوالے سے ہیمبرگ کے ثقافت اور کلچر سے متعلق دفتر کو مطلع کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سواستیکا کا نشان ہٹانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اتنے بڑے نشان کو اس کی حالت برقرار رکھتے ہوئے زمین سے کھود کر نکالنا کافی مشکل کام ہے، اس لیے اسے توڑ کر وہاں سے ہٹایا جائے گا۔

’آنے فرانک کے نام پر ٹرین کا نام، یہودی قتل عام کی یاد تازہ‘

جرمن فوج کی اپنی صفوں میں انتہاپسند موجود ہیں

DW.COM

اشتہار