ہیلمٹ شمٹ کی آخری رسومات، ہزارہا افراد کی شرکت | حالات حاضرہ | DW | 23.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہیلمٹ شمٹ کی آخری رسومات، ہزارہا افراد کی شرکت

جرمن شہر ہیمبرگ کی سڑکوں کے کنارے کھڑے ہزارہا افراد نے سابق مغربی جرمن چانسلر ہیلمٹ شمٹ کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جو دو ہفتے قبل چھیانوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

Deutschland Staatsakt für Helmut Schmidt in Hamburg - Angela Merkel

جرمن چانسلر انگیلا میرکل آں جہانی ہیلمٹ شمٹ کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب سے خطاب کے بعد اپنی نشست کی طرف جا رہی ہیں

پیر 23 نومبر کو ہیلمٹ شمٹ کے آبائی شہر ہیمبرگ کے سینٹ میخائیلیس چرچ سے اُن کا جرمن پرچم میں لپٹا تابوت شہر کے اوہلزڈورف قبرستان لے جایا گیا۔ راستے میں دونوں طرف کھڑے ہزارہا افراد نے اپنے شہر کی اس عالمی شہرت یافتہ شخصیت کو خراج عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں اِسی قبرستان میں اُنہیں اُن کی آں جہانی اہلیہ لوکی کے پہلو میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

شمٹ نے اقتصادی اُتار چڑھاؤ اور سرد جنگ کے شدید تناؤ سے عبارت دنوں میں مغربی جرمنی کی قیادت سنبھالے رکھی اور بعد کے برسوں میں ایک ممتاز مصنف اور بزرگ سیاسی شخصیت کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے۔

ہیلمٹ شمٹ کا نام قومی سطح پر اُس وقت نمایاں ہو کر سامنے آیا، جب 1962ء میں اُن کے آبائی شہر ہیمبرگ کو شدید سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔ اُس دور میں اُنہوں نے امدادی آپریشنز کے سلسلے میں رابطہ کاری کے فرائض سرانجام دیے اور مدد کے لیے فوج بھی طلب کر لی۔ اگرچہ اُنہوں نے اس طرح کے اقدامات کرتے ہوئے اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا تھا تاہم زیادہ بڑی تباہی کو روکنے میں کامیابی پر اُنہیں بے حد سراہا گیا تھا۔

پیر کے روز ہیمبرگ کے سینٹ میخائیلیس چرچ میں ہیلمٹ شمٹ کی آخری رسومات کے موقع پر منعقدہ مرکزی تقریب میں تقریباً اٹھارہ سو افراد نے شرکت کی۔ حاضرین میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل بھی شامل تھیں، جنہوں نے شمٹ کو ایک ایسی شخصیت کے طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا، جو نتائج سے بے پروا ہو کر وہ کچھ کر گزرتی تھی، جو وہ اپنی دانست میں درست سمجھتی تھی۔ حاضرین سے اپنیے خطاب میں مرکل نے کہا:’’وہ خود اپنے کیے کی زیادہ سے زیادہ قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوتے تھے۔‘‘

ہیلمٹ شمٹ نظریاتی اعتبار سے بائیں بازو کے ایک اعتدال پسند سوشل ڈیموکریٹ تھے اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی کامیابی کے بعد 1974ء سے لے کر 1982ء تک ملک کے چانسلر رہے۔ مغربی جرمنی کے پانچویں سربراہِ حکومت بننے سے پہلے وہ دفاع، خزانہ اور اقتصادیات کے امور کے وزیر رہ چکے تھے اور ان حیثیتوں میں اپنی جارحانہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے پناہ تجربہ بھی حاصل کر چکے تھے۔ وہ ایک ایسے وقت میں ملک کے سربراہِ حکومت بنے، جب 1973ء کے تیل کے بحران کے بعد سے ملکی معیشت کو ایک سخت دھچکے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Deutschland Staatsakt für Helmut Schmidt in Hamburg - Angela Merkel

سابق چانسلر ہیلمٹ شمٹ کی آخری رسومات کی تقریب میں اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے والوں میں سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر (انتہائی دائیں) بھی شامل تھے

اسی طرح ہیلمٹ شمٹ ایک ایسے وقت میں سابق مغربی جرمنی کے چانسلر بنے، جب دنیا سرد جنگ کی وجہ سے شدید تناؤ کا شکار تھی۔ اُنہی کے دور میں 1979ء میں سابق سوویت فوجیں افغانستان میں داخل ہو گئی تھیں۔

پیر کے روز اُن کی آخری رسومات کے لیے ہیمبرگ کے گرجا گھر میں منعقدہ تقریب میں سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر بھی شامل تھے۔ اُنہوں نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شمٹ کو اپنے ایک ’خاص دوست‘ کے طور پر یاد کیا۔

بانوے سالہ ہنری کسنجر نے جرمن زبان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا:’’ہیلمٹ کی نوّے ویں سالگرہ کے موقع پر مَیں نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ پہلے وہ نہیں بلکہ مَیں دنیا سے جاؤں گا کیونکہ دنیا اُس کے بغیر بہت ہی زیادہ خالی ہو جائے گی۔‘‘

کسنجر کا مزید کہنا تھا:’’لیکن مَیں غلط تھا۔ ہیلمٹ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا۔ ہر کام میں کاملیت پسندی کا قائل، متلون مزاج، ہمیشہ ایک تلاش میں رہنے والا، تحریک دینے والا اور ہمیشہ قابلِ اعتبار۔ باقی تمام عمر وہ اپنی انہی حیثیتوں کی وجہ سے ہمیشہ ہماری یادوں میں بسا رہے گا۔‘‘

اشتہار