ہنگری کے معروف ترین ادیبوں میں سے ایک گیورگی کونراڈ کا انتقال | فن و ثقافت | DW | 15.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

ہنگری کے معروف ترین ادیبوں میں سے ایک گیورگی کونراڈ کا انتقال

نازی جرمن دور میں یہودی قتل عام یا ہولوکاسٹ میں زندہ بچ جانے والے اور ہنگری کے معروف ترین ادیبوں میں سے ایک گیورگی کونراڈ چھیاسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی تصانیف دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔

گیورگی کونراڈ 1933ء میں مشرقی ہنگری کے شہر دیبریسِن کے ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی پرورش رومانیہ کے ساتھ سرحد کے قریب ہی واقع دیبریسِن کے ایک نواحی شہر میں ہوئی تھی۔ جون 1944ء میں، جب جرمنی میں قوم پرست سوشلسٹوں کی حکومت تھی اور نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام کا سلسلہ جاری تھا، گیورگی کونراڈ ایک گیارہ سالہ لڑکے کے طور پر نازی اذیتی کیمپوں میں پہنچنے سے محض اپنی ہمت کی وجہ سے بچ گئے تھے۔

György Konrad

گیورگی کونراڈ، جنوری دو ہزار بارہ میں لی گئی ایک تصویر

'صرف گیارہ برس کی عمر میں بالغ‘

تب دیگر مشرقی یورپی ممالک کی طرح ہنگری اور ہنگری میں ان کے آبائی شہر سے بھی یہودیوں کے آؤش وِٹس اور دیگر نازی اذیتی کیمپوں میں ریل گاڑیوں کے ذریعے پہنچائے جانے کا عمل جاری تھا۔

انہیں بھی ایسی ہی ایک ٹرین میں سوار کرا دیا گیا تھا مگر ایک کم عمر طالب علم کے طور پر بھی وہ ڈرنے کے بجائے بوڈاپسٹ میں اس ریل گاڑی سے چھلانگ لگا کر فرار ہونے اور اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اس ریل گاڑی میں سوار ان کے تقریباﹰ تمام ساتھی طالب علم آؤش وِٹس میں نازیوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ اس بارے میں بعد میں انہوں نے اپنی خود نوشت سوانح حیات میں لکھا تھا، ''میں صرف گیارہ برس کی عمر میں ہی بالغ ہو گیا تھا۔‘‘

سوویت یونین کے خلاف عوامی بغاوت میں شرکت

گیورگی کونراڈ نے ہنگری میں 1956ء میں (اب سابق) سوویت یونین کے خلاف ہونے والی عوامی بغاوت میں بھی حصہ لیا تھا۔ یہ عوامی بغاوت ناکام ہو گئی تھی مگر گیوری کونراڈ نے تب بھی اپنی بہن اور ہنگری کے ہزاروں دیگر شہریوں کے برعکس اپنے وطن میں ہی مقیم رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا پہلا ناول 'ملاقاتی‘ (The Visitor) سن 1969ء میں شائع ہوا تھا اور اب تک اس کا 13 غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

Buchcover: Konrad - Glück

گیورگی کونراڈ کے ایک ناول کے جرمن ترجمے کا ٹائٹل

کونراڈ ہنگری میں اشتراکی نظام حکومت کے دور میں حقیقی سوشلزم کے نام پر اس نظام کے عملی طور پر تکلیف دہ پہلو اور اس کے ذریعے چھپائے جانے والے سچ کی حمایت کرتے ہوئے ملکی اپوزیشن کے بہت قریب ہو گئے تھے اور ایک سیاسی منحرف کے طور پر جانے جانے لگے تھے۔

حکومتی پابندیاں

گیورگی کونراڈ نے اس دور میں اپنی کئی تحریریں زیر زمین رہتے ہوئے لکھیں اور پھر بوڈاپسٹ میں کمیونسٹ حکمرانوں نے ان کی طرف سے حکومت پر کی جانے والی تنقید کے جواب میں ان کے سفر اور کسی بھی شعبے میں پیشہ ور کارکن کے طور پر کام کرنے پر پابندی بھی لگا دی تھی۔  اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1973ء سے لے کر 1988ء تک ہنگری میں ان کی کوئی بھی تحریر شائع کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ان کی کامیاب ترین تصانیف میں ناول بھی شامل ہیں اور وہ کہانیاں بھی جو کافی حد تک مضامین کے سے انداز میں لکھی گئی ہیں۔ ان کی بین الاقوامی سطح پر بہت مشہور ہو جانے والی تصانیف میں ‘ملاقاتی‘ کے علاوہ 'روحوں کا میلہ‘، 'میلِنڈا اور دراگومان‘ اور 'تیز ہوا میں درختوں کے پتے، پہلی کھدائی‘ شامل ہیں۔

پین انٹرنیشنل کے صدر بھی

1989ء میں ہنگری میں کمیونزم کے خاتمے میں بھی گیورگی کونراڈ نے انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا۔ 1990ء میں انہیں ادیبوں کی بین الاقوامی تنظیم پین انٹرنیشنل کا صدر بھی منتخب کر لیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہیں خود ان کے اپنے وطن ہنگری کے علاوہ بیرونی دنیا میں بھی کئی اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ 1997ء میں انہیں جرمن دارالحکومت برلن میں قائم مشہور و معروف اکیڈمی آف آرٹس کا صدر بھی بنا دیا گیا تھا اور وہ اس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے غیر ملکی تھے۔

'مطمئن ضمیر کا حامل بے چین مصنف‘

اس کے بعد کے برسوں میں بھی گیورگی کونراڈ سیاسی طور پر بہت فعال رہے تھے۔ آج کل کے ہنگری میں وہ موجودہ عوامیت پسند وزیر اعظم وکٹور اوربان پر اپنی شدید تنقید کی وجہ سے بھی جانے جاتے تھے۔ اب لیکن 'مطمئن ضمیر کا حامل بے چین مصنف‘ ابدی نیند سو گیا ہے۔ وہ کافی عرصے سے علیل تھے۔ ان کا انتقال ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپسٹ میں ان کے گھر پر ہوا۔

وفاقی جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے گیورگی کونراڈ کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے اور انہیں بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا، ''گیورگی کونراڈ بیسویں صدی کی تاریخ کے اہم ترین شاہدین میں سے ایک تھے، جنہوں نے اپنی جدوجہد کے ساتھ جمہوری عمل کی حمایت کرتے ہوئے ہنگری میں جمہوریت کے لیے بھی انتھک کوشش کی اور یورپ کی سیاسی تقسیم کے پرامن خاتمے کے لیے بھی بےمثال قربانیاں دیں۔‘‘

م م / ع ح (اے ایف پی، ڈی پی اے)

DW.COM