ہندوؤں کی تقریب میں شرکت پر شکیب الحسن معافی مانگنے پر مجبور | کھیل | DW | 17.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

ہندوؤں کی تقریب میں شرکت پر شکیب الحسن معافی مانگنے پر مجبور

بنگلہ دیشی اسٹار کرکٹر شکیب الحسن دھمکیوں کے بعد معافی مانگنے پر مجبور ہو گئے ہيں۔ بھارت میں ہندوؤں کی ایک مذہبی تقریب میں شرکت پر انہیں اسلامی شدت پسندوں کی طرف سے جان سے مار دینے کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔

بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور آل راؤنڈر شکیب الحسن کی طرف سے کولکتہ میں منعقد ہونے والی ہندو دیوتاؤں کے لیے وقف ایک تقریب میں شرکت کے بعد اسلام پسندوں نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا۔

بنگلہ دیش میں اسلامی مبلغین کا کہنا ہے کہ کسی مسلمان کو اس طرح کی تقریبات میں شرکت نہیں کرنا چاہیے۔ اس عوامی ردعمل کے بعد شکیب الحسن نے ایک آن لائن فورم پر پیر کی شب کہا کہ 'میں کچھ منٹوں کے لیے ہی اسٹیج پر گیا تھا لیکن لوگوں نے سمجھا کہ میں نے اس تقریب کا افتتاح کیا‘۔

یہ بھی پڑھیے: ڈھاکا حکومت کو دہشت گردی کے خلاف فعال ہونا پڑے گا، تبصرہ

شکیب الحسن کو شدت پسندوں کی طرف سے ماضی میں بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان تازہ دھمکیوں کے بعد شکیب نے کہا، ''میں ایسا نہیں کرتا اور ایک ہوشمند مسلمان ہونے کے ناطے ایسا نہیں کروں گا۔ لیکن شايد مجھے وہاں نہیں جانا چاہیے تھا۔ میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں اور معافی مانگتا ہوں۔‘‘

شکیب الحسن نے مزید کہا، ''ایک باعمل مسلمان ہونے کی وجہ سے میری کوشش ہوتی ہے کہ میں مذہبی روایات پر عمل پیرا رہوں۔ اگر مجھ سے غلطی سرزد ہوئی ہے تو برائے مہربانی مجھے معاف کر دیجیے۔‘‘

ایک فیس بک لائیو فورم پر ایک شخص نے شکیب کو دھمکیاں دی تھیں، جس میں اس نے کہا تھا کہ شکیب کی وجہ سے اس کے 'مذہبی احساسات مجروح‘ ہوئے۔ تاہم بعد ازاں اس شخص نے اپنے اس عمل پر معافی مانگی اور روپوش ہو گیا۔

ڈھاکا پولیس کا کہنا ہے کہ دھمکی دینے والے اس شخص کی گرفتاری کی کوشش جاری ہے جبکہ اس چاقو کو بھی تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے، جو اس نے لائیو فورم پر دکھایا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:بنگلہ دیش میں ’آزاد سوچ جرم بنتی جا رہی ہے‘

شکیب الحسن پر ایک سال کی پابندی حال ہی میں ختم ہوئی ہے۔ سٹہ بازوں کی طرف سے رابطے پر انہوں نے انسداد بدعنوانی سیکشن کو رپورٹ نہیں کیا تھا، جس کی وجہ سے ان پر دو برس کی پابندی عائد کر دی گئی تھی، جس میں سے ایک برس سزائے معطل تھی۔

اس پابندی کے باوجود شکیب ایک روزہ میچوں کی عالمی رینکنگ پر بہترین آل راؤنڈر ہیں۔ سن دو ہزار پندرہ میں انہوں نے دنیائے کرکٹ میں ایسے پہلے کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا، جو تینوں فارمیٹس یعنی میں آئی سی سی کی عالمی رینکنگ پر آل راؤنڈر کی کیٹیگری میں پہلے نمبر پر براجمان ہوا ہو۔

ع ب / ع س / اے ایف پی

DW.COM