’ہم 20 سالہ جنگ 20 دن میں ختم نہیں کرسکتے‘: اشرف غنی | حالات حاضرہ | DW | 07.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’ہم 20 سالہ جنگ 20 دن میں ختم نہیں کرسکتے‘: اشرف غنی

افغانستان کے صدر اشرف غنی کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب افغانستان میں تقریباً دو عشروں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے فریقین کے مابین دوحہ میں جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جاری بین الافغان مذاکرات تعطل کا شکار ہوجانے کے بعد افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان سے 'جرأت کا مظاہرہ اور قومی جنگ بندی‘ کا اعلان کرنے کی اپیل کی ہے۔

قطر کے دو روزہ دورے کے اختتام پر صدر اشرف غنی نے دوحہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے دیرینہ تنازع کو'بندوق کی بجائے مذاکرات کے ذریعے‘ حل ہونا ہے۔  اس موقع پر متعدد سفارت کار، ماہرین تعلیم اور دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔  افغان صدر نے مزید کہا ”کوئی بھی طاقت آپ (طالبان) کو مٹا نہیں سکتی۔"

خیال رہے کہ خلیجی ریاست قطرکی میزبانی میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان تین ہفتے قبل امن مذاکرات شروع ہوئے تھے۔  تاہم یہ مذاکرات وسیع تر بات چیت کے ضابطہ اخلاق کے مسئلے پر تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔

افغانستان میں جنگ بندی اور مستقبل میں طرز حکومت جیسے موضوعات پر بھی ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

دوسری طرف افغانستان میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ پیر کے روز ایک خودکش حملے میں صوبائی گورنر کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

Katar Doha | Afghanistan Friedensverhandlungen

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان تین ہفتے قبل امن مذاکرات شروع ہوئے تھے۔

معمولی پیش رفت

قبل ازیں صدر اشرف غنی نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے ملاقات کی۔ قطر کے امیر نے دوحہ امن مساعی کو نتیجہ خیز بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

خیال رہے کہ بین الافغان مذاکرات کا آغاز کافی دھوم دھام سے ہوا تھا لیکن اب تک بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔  بہر حال صدراشرف غنی نے ان سوالات کو مسترد کردیا جن سے اشارہ ملتا ہو کہ بات چیت مکمل طورپر رک گئی ہے۔

دوحہ میں تقریب سے خطاب کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا”ہم 20 برس سے جاری جنگ کو20 دن میں ختم نہیں کرسکتے۔"

قبل ازیں افغانستان کے وزیر خارجہ محمد حنیف اتمرکا کہنا تھا کہ فریقین کے مابین اب تک بات چیت کے ضابطہ اخلاق کے سلسلے میں اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔

Afghanistan Abdullah Abdullah

افغانستان کی اعلی قومی مفاھمتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ بین الافغان مذاکرات سے خطاب کرتے ہوئے

متعدد اختلافات

طالبان اور افغان حکومت دونوں ہی بات چیت کا ایجنڈا طے کرنے سے قبل معاہدے کی مشترکہ نوعیت پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔  طا لبان سنی فقہ کے حنفی مسلک پر عمل درآمد پر اصرار کررہے ہیں لیکن حکومتی مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ ا س سے اکثریتی شیعہ ہزارہ برادری اور دیگر اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کیے جانے کا خدشہ ہے۔

ایک اور متنازع موضوع یہ ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری میں ہونے والے معاہدے کا مستقبل کے امن معاہدے کی تشکیل میں کیا کردار ہو گا۔

افغانستان کے وزیر خارجہ اتمر کا کہنا تھا”افغان ٹیم نے مشترکہ مقصد کا تعین کرنے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی ہیں لیکن دونوں فریق کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔"

Katar Doha | Afghanistan Friedensverhandlungen

طالبان اور افغان امن مذاکرات کاروں کے درمیان اہم امور پر اب بھی اختلافات ہیں۔

موقع نہ گنوائیں

تقریبا ایک ہفتے سے فریقین کے مابین کوئی باضابطہ میٹنگ نہیں ہوئی ہے تاہم دونوں کا کہنا ہے کہ وہ بات چیت آگے بڑھانے کے لیے غیر رسمی گفتگو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دوحہ میں موجود افغانستان کے لیے امریکی مذاکرات کار زلمے خلیل زاد نے صدر غنی سے ملاقات کے بعد ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا”صدر کو امن کا موقع نہیں گنوانا چاہیے  اور امریکا اس میں مدد کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔"

دریں اثنا خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے دعوی کیا ہے کہ طالبان اور افغان امن مذاکرات کاروں کے درمیان مذاکرات کے لیے ضابطہ اخلاق پر اتفاق ہوگیا ہے، گوکہ اہم امور پر دونوں کے درمیان اختلافات اب بھی باقی ہیں۔  ذرائع نے منگل کے روز روئٹرز کو بتایا کہ امریکی حکام کی مدد سے یہ پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔

ایک سینئر مغربی سفارت کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ”ضابطہ اخلاق کی تشکیل انتہائی اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دونوں فریق بات چیت جاری رکھنے پر راضی ہیں حالانکہ افغانستان میں زمینی سطح پر فی الحال تشدد کم نہیں ہوا ہے۔"

افغان حکومت نے روئٹرز کی رپورٹ کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔  افغان حکومت   کی مذاکراتی ٹیم نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا”روئٹرز کی رپورٹ غلط ہے۔"  انہوں نے تاہم اس کی مزیدوضاحت نہیں کی۔

ج ا / ص ز   (اے ایف پی، روئٹرز)

ویڈیو دیکھیے 03:50

افغانستان میں طالبان کی قیادت میں زندگی کیسی ؟

DW.COM