′ہم خواتین آزاد محسوس کر رہی ہیں‘ | وجود زن | DW | 18.10.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

وجود زن

'ہم خواتین آزاد محسوس کر رہی ہیں‘

بھارت کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ ایم جے اکبر نے کم از کم بیس خواتین کی جانب سے جنسی ہراسی کے الزامات کی بنیاد پر اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ایم جے اکبر  کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی حیثیت میں اپنے اوپر عائد الزامات کا دفاع کریں گے۔ 67 سالہ ایم جے اکبر 1989 سے 1991 تک بھارت کی کانگریس پارٹی کی جانب سے بھارتیہ لوک سبھا کے رکن رہ چکے ہیں۔ جس کے بعد انہوں نے ‘دی ٹیلی گراف، دی ایشین ایج اور دیگر اخبارات میں بطور مدیر کام کیا۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ وہ 2014ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا حصہ بنے۔ 2016 میں انہیں خارجہ امور کا وزیر مملکت بنا دیا گیا۔

بھارت جیسے قدامت پسند  ملک میں می ٹو تحریک تھوڑی دیر سے ہی سہی لیکن اب کافی متحرک ہو گئی ہے۔ اس سال ستمبر سے بھارتی اداکاراؤں اور صحافیوں کی جانب سے کئی بڑی شخصیات پر جنسی ہراسی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

ایم جے اکبر پر الزامات کا آغاز صحافی پریا رامانی کی ایک ٹویٹ سے ہوا جس میں انہوں نے ایم جے اکبر کا نام لیے بغیر ایک سینئر صحافی کے ساتھ اپنا تلخ تجربہ بیان کیا تھا۔ پریا کے علاوہ میڈیا انڈسٹری کی دیگر خواتین نے بھی ایم جے اکبر پر انہیں جنسی طور ہر ہراساں کرنے کے الزامات لگائے ہیں۔

گزشتہ اتوار کو کانگریس پارٹی کے درجنوں کارکنان نے ایم جے اکبر کے گھر کے باہر احتجاج کیا اور ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ اکبر نے خاتون صحافی پریا کے خلاف پولیس میں کیس درج کرا دیا اور ایک بیان میں یہ سوال اٹھایا کہ یہ الزمات ان پر انتخابات سے قبل کیوں لگائے جارہے ہیں۔ بڑھتے  دباؤ کے باعث منگل کو ایم جے اکبر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے خاتون صحافی پریا نے لکھا،’’ ہم خواتین آزاد محسوس کر رہی ہیں۔ میں اس دن کا انتظار کروں گی جس دن مجھے عدالت میں بھی انصاف ملے گا۔‘‘