ہم جنس پرستی کے خلاف بیان، انڈونیشی وزیر وضاحت پر مجبور | معاشرہ | DW | 25.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہم جنس پرستی کے خلاف بیان، انڈونیشی وزیر وضاحت پر مجبور

ہم جنس پرست افراد کے خلاف بیان دینے پر انڈونیشیا کے وزیر برائے سائنس و تعلیم کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس کے دباؤ کے باعث انہیں ہم جنس پرست افراد کی حمایت میں ایک بیان جاری کرنا پڑا۔

انڈونیشیا کے وزیر برائے سائنس و تعلیم ، محمد ناصر نے انڈونیشیا کے انتہائی معتبر تعلیمی ادارے یونیورسٹی آف انڈونیشیا میں ہم جنس پرست اور مختلف جنسی رحجانات رکھنے والےافراد ( ایل جی بی ٹی ) کی حمایت میں ایک گروپ کے تشکیل کیے جانے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے اس حوالے سے کہا تھا، ’’یونیورسٹیوں میں ہم جنس پرستوں کے گروپوں کو پنپنے نہیں دنیا چاہیے۔‘‘

محمد ناصر کے اس بیان کو انڈونیشیا میں صنفی حقوق کے کارکنوں اور عام شہریوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس حوالے سے انڈونیشیا میں صنفی حقوق پر کام کرنے والی ایک خاتون کارکن تونگال پاوستری نے لکھا، ’’انڈونیشیا کے وزیر برائے سائنس کا یہ معیار ہے؟ جو بغیر حقائق اور اعدادو شمار کے احمقانہ بات کر رہے ہیں۔‘‘

پیر کی صبح محمد ناصر نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’’ہم جنس پرست افراد کے ساتھ عام شہریوں کی طرح یکساں سلوک کرنا چاہیے تاہم ایسے افراد کو اپنے رویوں میں احتیاط برتنا چاہیے۔‘‘ وزیر برائے سائنس نے مزید کہا ،’’یونیورسٹیوں پر ایل جی بی ٹی پر صرف ایسی صورت میں پابندی لگنی چاہیے اگر وہ سب کے سامنے جنسی روابط کا اظہار کریں۔‘‘

واضح رہے کہ انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا مسلم ملک ہے۔ یہاں ہم جنس پرستی ایک جرم نہیں ہے لیکن عوامی سطح پر جنسی امور کے حوالے سے قدامت پرست سوچ پائی جاتی ہے۔