ہمیں وطن واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن | مہاجرین کا بحران | DW | 25.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ہمیں وطن واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

ڈی ڈبلیو نے درجن بھر ایسے پاکستانی تارکین وطن سے خصوصی گفتگو کی جو واپس وطن لوٹنا چاہتے ہیں لیکن مہینوں گزر جانے کے باجود ایتھنز میں موجود پاکستانی ایمبیسی سمیت کوئی ادارہ ان کی وطن واپسی میں مدد نہیں کر رہا۔

یورپ میں موجود پاکستانی تارکین وطن کو امید ہے کہ امکانات کم ہونے کے باوجود پناہ مل جائے گی۔ یونان میں موجود سینکڑوں پاکستانی پناہ گزین ایسے بھی ہیں جو وطن لوٹنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں پاکستان واپسی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

پاکستان ملک بدری میں تعاون نہیں کر رہا

جرمنی میں پاکستانی تارکین وطن کی صورت حال

شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والا پاکستانی تارک وطن افتخار علی گھر سے تو جرمنی پہنچنے کے ارادے سے نکلا تھا، لیکن گزشتہ کئی ماہ سے یونان میں پھنسا ہوا ہے۔ افتخار نہ تو جرمنی کی جانب سفر کر سکتا ہے اور نہ ہی وطن واپس جا سکتا ہے۔

صرف افتخار ہی نہیں بلکہ یورپ میں جاری تارکین وطن کے موجودہ بحران کے دوران ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی شہری بھی پناہ کی تلاش میں بحیرہ ایجیئن کے خطرناک سمندری سفر کے ذریعے یونانی جزیروں تک پہنچے تھے۔

گزشتہ برس ہزاروں پاکستانیوں سمیت گیارہ لاکھ سے زائد تارکین وطن بلقان ریاستوں سے گزرتے ہوئے جرمنی اور دیگر مغربی یورپی ممالک تک پہنچے۔ لیکن پھر سرحدیں بند ہونا شروع ہو گئیں اور پاکستان سمیت ایسے ممالک، جن کے شہریوں کو یورپ میں پناہ ملنے کے امکانات کم ہیں، سے تعلق رکھنے والے لاکھوں پناہ کے متلاشی افراد یونان میں محصور ہو کر رہ گئے۔

پاکستانی تارکین وطن کی بڑی تعداد یونان سے جرمنی پہنچنے کی کئی ناکام کوششیں کرنے کے بعد اب وطن واپس لوٹ جانے کی خواہش رکھتی ہے۔ ایتھنز میں قائم پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے نئے پاسپورٹ اور شہریت کی تصدیق کے عمل میں سست روی کے باعث دیارِ غیر میں بے سروسامانی کے عالم میں رہنے والے ان پاکستانی شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے چالیس سالہ شاہ حسین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ ایمبیسی والوں نے فارم پُر کروا کے پروسیجر مکمل کیا، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی کاپیاں جمع کر کے رسید دے دی۔ ہر مرتبہ کہہ دیتے ہیں کہ دو ہفتے میں واپس بھیج دیا جائے گا، اب تک دس پندرہ چکر لگا چکا ہوں لیکن کچھ پیش رفت نہیں ہوئی۔‘‘

گجرات سے تعلق رکھنے والے اکتالیس سالہ سجاد شاہ کا کہنا ہے کہ وہ بھی کئی مہینوں سے اپنے بیوی بچوں سے دور ہیں۔ ایتھنز میں سفارت خانے نے سجاد کو بتایا کہ پاکستان واپسی میں دو ہفتوں کا وقت لگے گا لیکن دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود انہیں وطن واپسی کی کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی۔

پاکستانی تارکین وطن کو شکوہ ہے کہ یونانی حکام بھی ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔ چھبیس سالہ قمر عباس نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ دل کا مریض ہے۔ شدید سرد موسم میں دیگر پاکستانیوں کے ہمراہ اسے بھی مہاجرین کے لیے بنائی گئی خیمہ بستیوں میں رہنا پڑ رہا ہے۔

عباس کے بقول یونانی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستانی باشندوں کو کیمپ میں رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ انہیں صرف ایک وقت کا کھانا دیا جاتا ہے اور مناسب طبی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں۔

افتخار نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ دو سو سے زائد پاکستانی تارکین وطن بین الاقوامی ادارہ برائے تارکین وطن (آئی او ایم) کے پاس مدد مانگنے جا چکے ہیں لیکن ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کی وطن واپسی میں رکاوٹ حکومت پاکستان کی جانب سے ہے۔

ایتھنز اور دیگر یونانی شہروں میں پھنسے پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان ان کی جلد وطن واپسی کے لیے فوری اقدامات کرے۔ افتخار کا کہنا تھا، ’’بیرون ملک سفارت خانے اپنے شہریوں کی معاونت کے لیے ہوتے ہیں، لیکن ہمارا کوئی پرسان حال نہیں۔‘‘

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار