’ہمارے گھروں کو تعمیر کیا جائے‘، آپریشن ضرب عضب کے متاثرین | حالات حاضرہ | DW | 09.01.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’ہمارے گھروں کو تعمیر کیا جائے‘، آپریشن ضرب عضب کے متاثرین

حکومتی اور فوجی دعوؤں کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد نوّے فیصد علاقے کو کلیئر کر دیا گیا تاہم ابھی تک وہاں سے بے گھر ہونے والے گیارہ لاکھ افراد کی واپسی کے لئے کوئی موثر اقدامات سامنے نہیں آئے۔

فاٹا سیکرٹریٹ کے ترجمان عدنان خان سے جب اس سلسلے میں ڈوئچے ویلے نے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا، ”بے گھر قبائلی عوام کی واپسی سے قبل ان علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے باقائدہ فنڈز جاری کر دیئے گئے ہیں، جن علاقوں میں صورتحال بہتر ہے، وہاں صحت،تعلیم، بجلی، پانی اور مواصلات کے نظام پر کام شروع کرنے کے لئے فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں۔ بحالی کا کام مکمل ہو جائے تو حکومت موزوں وقت پر ان کی واپسی کے شیڈول کا بھی اعلان کریگی۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بے گھر افراد کی واپسی کے وقت انہیں تمام سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم ہوں، تعلیمی ادارے کھل جائیں اور صحت کے مراکز فعال ہوں سب سے زیادہ نقصان بجلی اور تعلیمی اداروں کو پہنچایا گیا، جس کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کیا جارہا ہے۔“

فاٹا سیکرٹریٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت خیبر پختونخوا میں شمالی وزیرستان کے ستاسی ہزار خاندان، خیبر ایجنسی کے چھیانوے ہزار خاندان، جنوبی وزیر ستان کے باسٹھ ہزار، اورکزئی کے انتیس ہزار اور کُرم ایجنسی کے پچیس ہزار خاندان رہائش پذیر ہیں۔ مہمند اور باجوڑ ایجنسی کے بے گھر افراد اسکے علاوہ ہیں۔

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ کے رہنما سہیل آفریدی سے جب ڈوئچے ویلے نے بات کی تو ان کا کہنا تھا، ”بے گھر افراد میں صرف دس فیصد تک لوگ کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں اور ان لوگوں کو بھی حکومت سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ کیمپوں میں رہنے والے ایک دن بھی خیموں میں رہنا نہیں چاہتے، اگر حکومت کل انہیں گھر جانے کی اجازت دیں تو وہ جانے کے لئے تیار ہیں۔ خیبر ایجنسی کے تحصیل باڑہ میں یکم ستمبر 2009ء سے آپریشن شروع کیا گیا اور اس علاقے میں اس وقت سے کرفیو نافذ ہے، وہاں کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ کیا گیا ہے۔ باڑہ مارکیٹ پورے ملک میں مشہور تھی اور لوگ وہاں شاپنگ کے لئے آتے رہے لیکن آج ان علاقوں میں کاروبار مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔‘‘

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ایک روز قبل پولیٹیکل انتظامیہ نے انہیں جلد از جلد بحالی کا کہا ہے لیکن انہیں تاریخ نہیں بتائی کہ بے گھر لوگوں کو اپنے گھر جانے کی اجازت کب دی جائیگی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بے گھر افراد کے ساتھ صوبائی حکومت کے اداروں کے رویے سے بالکل مطمئین نہیں ہیں، ’’ہم چاہتے ہیں کہ بے گھر افراد کی جلد از جلد واپسی ہو اور انہیں مکمل بحالی پیکیج دیا جائے۔“

متاثرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملک اور پوری دنیا کو دہشت گردی سے بچانے کے لئے اپنا گھر بار چھوڑ کر کیمپوں میں رہنا گوارہ کیا لیکن بین الاقومی اور ملکی حکومتوں نے ان کی قربانیوں کی قدر نہیں کی اور انہیں اشیائے ضرورت بھی بھیک کی طرح دی جاتی ہے،انہیں گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہونا پڑتا ہے۔

قبائلی اُمور کے ماہر محمد جمیل خان مومند کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں کا بنیادی ڈھانچہ ایک عشرے پر محیط جنگ نے تباہ کردیا ہے، اب اس کی بحالی مہینوں یا سال کی بات نہیں بلکہ اسکے لئے سالوں درکار ہوں گے۔

اندازوں کے مطابق قبائلی علاقوں کی آبادی ایک کروڑ سے زائد بتائی جاتی ہے تاہم وفاقی حکومت کے زیر انتظام ان علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لئے سال رواں کے بجٹ میں صرف17ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔