’ہمارے وقار پر اب سمجھوتہ نہیں ہوگا‘ | حالات حاضرہ | DW | 03.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

 ’ہمارے وقار پر اب سمجھوتہ نہیں ہوگا‘

خواجہ آصف نے امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کی امداد روک دینے کے عندیے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر مخلص ہونے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان کے وقار پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

نئے سال کے آغاز پر اپنے پہلے ٹوئٹ پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کو پچھلے پندرہ برسوں میں بیوقوفانہ طور پر اربوں ڈالر کی امداد دی گئی، مگر اس کے بدلے میں پاکستان کی جانب سے امریکا کو فقط جھوٹ اور دھوکا ملا۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’جن دہشت گردوں کو ہم افغانستان میں ڈھونڈتے ہیں، وہ انہیں اپنے ہاں محفوظ جگہ دیتے ہیں اور ہماری بہت کم مدد کرتے ہیں، مگر اب بس۔‘‘ پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت نے منگل کے ان الزامات کو ’ناقابل فہم‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ پاکستان نے امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو اسی تناظر میں دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج بھی کیا۔

آج پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی الزامات کا جواب دیتے ہوئے تین ٹوئٹس کیں۔ خواجہ آصف نے اپنی پہلی ٹوئٹ میں لکھا،’’ پوچھتے ہو کیا کیا ؟ ایک آمر نے فون کال پہ سرنڈر کیا، وطن کو بارود و خون سے نہلا یا، افغانستان پر اپنے اڈوں سے تمھارے 57800 حملے، ہماری گزرگاہوں سے تمھارا اسلحہ اور بارود گیا، ہزاروں سویلین ، فو جی، بریگیڈیئر، جنرل، جواں سال لیفٹیننٹ آپ کی چھیڑ ی جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے۔‘‘

 

 ٹرمپ ناسمجھ اور ناشکرے ہیں، عمران خان

خواجہ آصف نے امریکا کو مخاطب کرتے  ہوئے مزید لکھا، جوآپ کا دشمن، وہ ہمارا دشمن۔ ہم نے گوانتانامو بے کو بھر دیا۔ ہم آپ کی خدمت میں اتنے مگن ہوئے کہ پورے ملک کو دس سال تک لوڈشیڈنگ اور گیس شارٹیج کے حوالے کیا، معیشت برباد ہو گئی لیکن خواہش تھی کہ آپ راضی رہیں، ہم نے لاکھوں ویزے پیش کیے، بلیک واٹر، ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک جگہ جگہ پھیل گئے۔‘‘

آخر میں وزیر خارجہ نے پاکستان کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا،’’چار سالوں سے دہائیوں کا ملبہ صاف کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ پاکستان کی  افواج بے مثال جنگ لڑ رہی ہیں اور یہاں قربانیوں کی ایک لا متناہی داستان ہے۔ خواجہ آصف نے اپنی دوسری ٹوئٹ میں لکھا،’’ماضی سکھاتا ہےامریکا پر اعتماد میں احتیاط،  ہماری دہلیز پر اپنی ناکامی کا ملبہ نہ رکھو۔آپ خوش نہیں افسوس ہے۔ ہمارے وقار پر اب سمجھوتہ نہیں ہو گا۔‘‘

واضح رہے کہ  ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے علاوہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارا سینڈرز نے بھی ایک بیان میں پاکستان کو مورد الزام ٹہرایا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا، ’’وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کر  سکتے ہیں۔ ہم ان سے یہی چاہتے ہیں، ’’وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگلے چند روز میں وہ پاکستان کی بابت نئے اقدامات کا اعلان کر دیں گے، تاکہ پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کیا جائے۔‘‘

ٹرمپ کے بیان پر پاکستان برہم

’امریکا کے ’نو مور‘ کی کوئی حیثیت نہیں‘

 اس سے قبل اقوام متحدہ میں تعینات امریکی سفیر نِکی ہیلی نے کہا تھا کہ واشنگٹن حکومت پاکستان کو دی جانے والی 255 ملین ڈالر کی امداد روک رہی ہے۔ نیویارک میں صحافیوں سے بات چیت میں ہیلی نے کہا، ’’اس کی ایک بڑی واضح وجہ ہے۔ پاکستان کئی سالوں سے ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں ہمارے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور ساتھ ہی وہ دہشت گردوں کو پناہ بھی دیتے ہیں، جو افغانستان میں ہمارے فوجیوں پر حملے کرتے ہیں۔‘‘

DW.COM

اشتہار