ہمارے ’بےنور معاشرے‘ کی کہانی | دستک | DW | 24.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

ہمارے ’بےنور معاشرے‘ کی کہانی

اویس توحید سوال پوچھ رہے ہیں کہ خواتین کے خلاف تشدد اور جرائم کے خاتمے کے لیے قوانین بن بھی جائیں تو بھی ان پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوتا؟

چار دہائیوں سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن میری یادداشت آج بھی ان مناظر سے فرار حاصل نہیں کر سکی۔ لاڑکانہ میں میرے گھر کی دہلیز پر میرے خاندان کے ساتھ کام کرنے والا لڑکا خون آلود کپڑوں میں دھاڑیں مار مارکر رو رہا تھا۔

ہم اسے مشتاق بھائی کہہ کر پکارتے تھے۔ ساتھ ہی اس کی چھوٹی بہن سہمی ہوئی بیٹھی تھی، میری نانی اور میری والدہ انہیں دلاسے دے رہی تھیں۔ شام کو مجھے خاندان کی خواتین کے باتوں سے کچھ اندازہ ہوا۔ میں نے پہلی مرتبہ ’’کاروکاری‘‘یا عزت کے نام پر قتل کی فرسودہ روایت کا سنا۔ مشتاق کی ماں اور گاؤں کا ایک شخص اس کی بھینٹ چڑھا تھا۔ باپ نے کلہاڑی سے وار کر کے دونوں کو قتل کیا اور خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ ماں کا جرم کہ گاؤں میں کسی نے اسے ایک شخص کے ساتھ کھیت سے آتے دیکھ لیا۔ گاؤں میں ماں کی لاش پڑی رہی۔ ماں کا کفن دفن اس وقت تک نہ ہو سکا، جب تک کہ میری نانی خاندانی اثر ورسوخ استعمال کر کے لاش واپس نہ لائیں۔

دشمنی ایسی بڑھی کہ نسلوں تک چلی۔ میرے بچپن کی یادوں میں لاڑکانہ کے محلے کے گھروں میں کپڑے دھونے والی بھی ہے۔ سب اسے''حنیف کی اماں‘‘ کے نام سے جانتے تھے۔ حنیف کا اکلوتا بیٹا پاکستان چوک کے بازار میں استاد حجام کی دکان پر کام کرتا اور شام بھر گلیوں میں بدمعاشی کرتا تھا۔ حنیف کی اماں کو دیکھ کر اکثر و بیشتر ہماری نانی سامنے پاندان سجائے ہوئے، سروتے سے چھالیہ کاٹتے ہوئے کہتیں، لو آج ’’کمبخت‘‘ شوہر کے ہاتھوں پھر پٹ کر آئی ہے اور ہمیں لگتا جیسے وہ ڈنڈے سے کپڑوں کو نہیں اپنی قسمت کو کوٹ رہی ہو۔

ہمارے اسی محلے میں گھروں کی غلاظت صاف کرنے والی محنتی شانتی بھی یاد ہے۔ جب بھی ہم اپنے اسکول سے واپس آتے تو اکثر و بیشتر شانتی کو اپنے آنگن میں بیٹھا دیکھتے۔ شانتی والدہ اور نانی کو یا تو فلموں کی کہانی سناتی نظر آتی یا محلے کے کھمبے تلے اور پان کی دکان کے ساتھ کھڑے اوباش لڑکوں کی شکایتیں کرتی یا اپنی بیٹی نرملا کے مستقبل کی فکر کا اظہار کرتی۔ نانی کہتیں بس شانتی تیرا بس چلتا، تو تم شمیم آرا کی روپ میں جنم لیتی۔

ایک دن جب ہم اسکول سے واپس آئے تو شانتی کو گھر کے دروازہ کے باہر سسکیوں سے روتے ہوئے پایا۔ ڈھارس بندھائی، گھر کی دہلیز پر بٹھایا اور اس کے ہاتھوں کے چلووں میں پانی انڈیلا۔ ماجرا کیا ہے؟ بالآخر پتا چلا کہ پڑوس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ انگریز نما آغا صاحب کی ستائی ہوئی ہے۔ جنسی حملے کی کوشش لیکن شانتی کسی نہ کسی طرح بچ نکلی۔ ہم نے اپنی بڑی بہن کو ساتھ ملایا اور شانتی کو انصاف دلانے کا یقین دلایا۔ درخواست لکھی، شام کو خاندان کے دوست ڈپٹی کمشنر انکل کے گھر والوں سے ملنے آئے تو ہم نے گھر کے باہر ہی روداد سنائی اور درخواست حوالے کر دی۔

ہمیں کیا پتا تھا کہ وہ درخواست ہماری نانی کو تھما دیں گے۔ درخواست میں جب سینے اور کولہوں کا ذکر آیا اور آغا صاحب کی حرکات کی تفصیلات پڑھیں تو نانی کا پارہ چڑھ گیا۔ ہمیں ڈانٹ پڑی اور شانتی کو الگ صلواتیں سننا پڑیں کہ بچوں کو کیا سکھا رہی ہو؟ خیر ’’شانتی کی بھلائی‘‘ میں فیصلہ کچھ یوں ہوا کہ معاملے پر پردہ ڈالا جائے ورنہ شانتی محلے میں کام نہ کر سکے گی۔ گویا شانتی ''بدنامی‘‘ مول نہیں لے سکتی اور آغا صاحب جیسے معاشرے کے ’’عزت دار مردوں‘‘ پر الزامات کیسے لگائے جا سکتے ہیں؟

ماہ و سال بیت چلے۔ مشتاق کی ماں، حنیف کی اماں اور شانتی کی زندگیوں کی طرح ہمارے معاشرے میں ہزاروں خواتین ہر سال کبھی عزت کے نام پر، کبھی گھریلو تشدد تو کبھی ریپ اور گینگ ریپ جیسے جرائم کا نشانہ بنتی ہیں۔ لگتا یوں ہے، جیسے خواتین کی زندگیوں میں بہار کبھی آئی ہی نہ ہو۔

غالبا بیس برس گزر گئے ہوں گے۔ اس وقت بھی وجود کو جھٹکا سا لگا تھا، جب ماضی کے ایک دوست کی اہلیہ چہرے اور گردن پر نشانات، اپنے بچے کا ہاتھ تھامے پناہ کی تلاش میں ہمارے گھر آئی تھی۔ تلخ حقیقت کا سامنا ہوا کہ خواتین کے خلاف تشدد کا تعلق کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں۔ اسی طرح سامعہ سرور خاتون کا تعلق پشاور کے ایک تعلیم یافتہ اور دولت مند خاندان سے تھا۔ کہا جاتا ہے کہ والدین نے کرایے کے قاتل کے ذریعے سامعہ کو خواتین کے شیلٹر میں قتل کروایا۔

سامعہ عزت کے نام پر قربان کی گئی اور مختاراں مائی کے خلاف گینگ ریپ کا فیصلہ جرگہ کے اراکین نے اجتماعی طور پر کیا۔ مختاراں مائی کا تعلق تو جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین خاندان سے تھا لیکن اسی علاقے کے طاقتور ترین کھر خاندان کی بہو فاخرہ اپنے ہی شوہر کے ہاتھوں تیزاب سے جھلس گئی۔ پے در پے جسم پر سرجری کے عمل  سے گزرنے والی فاخرہ نے بالاخر اٹلی کے ہسپتال، جہاں وہ زیر علاج تھیں، کی عمارت سے چھلانگ لگا کر خودکُشی کر لی۔

امیر طبقہ ہو یا غریب۔ تعلیم یافتہ خاندان ہوں یا تعلیم سے کوسوں دور، نظام قبائلی ہو یا جاگیردارانہ، آخر خواتین ہی تشدد کا ہدف کیوں؟ ملک میں خواتین کی طویل جد و جہد کے بعد ریپ، کاروکاری، جنسی طور پر ہراساں کرنے جیسے جرائم کے خلاف قوانین بن تو گئے لیکن ان پر عملدرآمد نا ختم ہونے والی جدوجہد کا ایک اور کٹھن سفر ہے۔

بعض مرتبہ یوں لگتا ہے جیسے خواتین کے لیے ہر رکاوٹ کو عبور کرنا سات سمندر پار کرنے کے مترادف ہے۔ ریاست کی بنیادوں، مردوں کی بالادستی والے معاشرے کی تہوں میں انتہاپسندی اور اس کے رکھوالے پہرے پر موجود ہیں۔ بس یوں سمجھ لیں، جیسے یہ سب عورتوں کی زندگی کو قید کرنے کے لیے ہیں۔

ریاست اور معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد کی قبولیت ہے۔ جرائم کرنے والوں کو قانونی اور معاشرتی قیمت چکانے کا خوف نہیں۔ خواتین کے خلاف یہ تکلیف دہ استحصالی رویے عمومی طور پر خاندان، معاشرے اور ریاست کے کردار میں سرایت کر چکے ہیں، جہاں خواتین کو اپنے آزاد وجود کے احساس سے زندگی بسر کرنے کے لیے ہر لمحہ مزاحمتی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔

ڈاکٹر خدیجہ پر چاقو سے تئیس مرتبہ حملہ کرنے والا نوجوان ساڑھے تین سال بعد رہا ہو گیا ہے۔ مختاراں مائی کے مجرم ثبوتوں کی کمی کی بنیاد پر رہا کر دیے گئے اور اب آزاد گھوم رہے ہیں۔ الٹا مختاراں کو ہی طعنوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کی مدد کرنے والی خواتین کو مغرب زدہ اور ملک دشمن گردانا گیا۔

Pakistan Islamabad | Frau Opfer von Säureangriff nach Kinderehe

پاکستان میں خواتین کو تیزاب پھینکنے سمیت کئی طرح کے متشدد جرائم کا سامنا ہے

جرم خواتین کے خلاف ہو اور مجرم بھی خواتین ہی کو قرار دیا جائے، یہ کہاں کا انصاف ہے؟ بچہ پیدا نہ ہو تو عورت کا قصور، کسی نے بازار یا اسکول کالج جاتے بدمعاشی کی تو گھر سے باہر نکلنے پر پابندی، اگر ریپ کا جرم ہوا تو قصور لڑکی کا کہ وہ اکیلے کیا کر رہی تھی؟ کپڑے ایسے ویسے پہنے ہوں گے، وغیرہ وغیرہ۔

گزشتہ برس لاہور موٹر وے پر خاتون کا گینگ ریپ ہوا۔ پنجاب کے آئی جی پولیس کا بیان تو یاد ہو گا کہ ہمارے معاشرے میں رات کو عورت تنہا ڈرائیو کیوں کر رہی تھی؟

اگر کوئی خاتون انصاف کی ٹھان لے تو اسے باغی، فحش اور بے حیا کے القابات سے پکارو۔ بس معاشرے میں پائی جانے والی پراگندہ سوچ کو تبدیل نہیں کرنا ہے۔ ادھر فرسودہ نظام معاشرے کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر رہا ہے۔ اس سوچ اور نظام کی باقیات کے رکھوالے ٹی وی چینلز اور اخبارات میں بھی موجود ہیں۔ سابق بیوروکریٹ اوریا مقبول جان نے ریٹائرمنٹ کے بعد کئی برس سے ایک ٹی وی چینل کو ’’آماجگاہ‘‘ بنایا ہوا ہے۔ کبھی ملالہ کے خلاف سازشی تھیوریاں، کبھی ٹی وی اشتہارات میں کرکٹ کے جنون میں مبتلا لڑکی کے لباس کو بے حیائی قرار دینا تو کبھی تحریک لبیک کے جلسے میں تقریر کرنا۔ ایک معروف کالم نویس بھی ہیں، جب سوات میں طالبان کی ایک ویڈیو، جس میں لڑکی پر کوڑے برسانے جا رہے تھے، منظر عام پر آئی تو ان کا موقف ’’مذہب‘‘ کی رو سے کوڑے مارنے والوں کے حق میں تھا۔ بہت سارے کردار اور بھی ہیں، جو بلاواسطہ یا بالواسطہ طالبان سوچ کے حامی ہیں۔ ڈرامہ نویس اور شاعر قمر خلیل ابراہیم بھی ہیں، جو معاشرے میں مشہور بھی ہیں اور ان کی سوچ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔اس طرح کے کرداروں کو ٹی وی پروگراموں اور اخبارات میں بھی خوب جگہ ملتی ہے۔ بگاڑ اتنا کہ سدھارا نہ جا سکے، الجھنیں ایسی کہ الجھتی چلی جائیں۔

معاشرے میں قدامت پسند سوچ نے ایک مصنوعی تصوراتی محل بنایا ہے، جیسے کہ خواتین کو ہر آزادی حاصل ہے۔ ریاست کے قوانین اور مذہب کے اصولوں کے مطابق خواتین کو مکمل طور پر حقوق حاصل ہیں۔

چند برسوں سے نئی نسل  نے ملک بھر میں ’’عورت مارچ‘‘ کا انعقاد کر کے براہ راست فرسودہ روایتوں اور معاشرے کے اس مسخ شدہ روپ سے بغاوت کا اعلان کیا ہے۔ نئی نسل کی نئی سوچ ہے۔ ’’کبھی میرا جسم میری مرضی‘‘ کے پوسٹر پر تنازعہ کھڑا کیا جاتا ہے، کبھی فحاشی اور بے حیائی کو فروغ دینے کا الزام لگایا جاتا ہے اور کبھی عورت مارچ میں شرکت کرنے والی خواتین کے خلاف توہین رسالت کے پرچے کٹوائے جاتے ہیں۔

عورت کو معاشرے میں بہن، بیوی، ماں اور بیٹی کی حیثیت سے شناخت دی جاتی ہے۔ لیکن یہ تسلیم نہیں کیا جاتا کہ اس کی شناخت اس کا وجود بھی ہے اور اسی شناخت میں پنہاں اس کی آزادی کا حق ہے۔ نئی نسل کی لڑائی بھی اسی آزادی کی ہے، جس پر پے در پے خواتین کے خلاف حالیہ مظالم کے گھاؤ لگے ہیں۔ حیدر آباد میں قرات العین اور اسلام آباد میں نور مقدم کے بیہمانہ قتل سے دل دہل سا گیا ہے۔ گزشتہ روز ہی میری بیٹی رسا واٹس ایپ پر اپنی دوستوں سے گفتگو کر رہی تھی، جسے یوں ایک فکر انگیز پہلو کہ ’’کیا ہمارا ملک لڑکیوں کے لیے محفوظ ہے؟‘‘

یہ اب آپ کی مرضی ہے کہ آپ ان لڑکیوں کو مغرب زدہ پکاریں، معاشرے کو فرسودہ روایتوں کی آکسیجن سے زندہ رکھیں اور معاشرے پر مصنوعی تصوراتی روپ کا خواتین کے خلاف تسلط قائم رکھیں۔

 نور کے قتل کے بعد روایت وہی پرانی ہے، سوالات پھر وہی پرانے ہیں کہ  لڑکی قاتل لڑکے کے گھر پر کیوں تھی، کیا کر رہی تھی؟ میرے خیال میں یہ نور کی کہانی نہیںبلکہ ہمارے ''بے نور معاشرے‘‘ کی کہانی ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic