ہلاک پاکستانی نژاد امریکی فوجی کا والد ٹرمپ پر برہم | معاشرہ | DW | 29.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہلاک پاکستانی نژاد امریکی فوجی کا والد ٹرمپ پر برہم

پاکستانی نژاد امریکی شہری خضر خان نے ’ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن‘ کے دوران ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلد ٹرمپ کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف دیے جانے والے بیانات اور ان کی امیگریشن پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

خضر خان کا بیٹا کیپٹن ہمایوں خان امریکی فوجی تھا۔ سن 2004 میں وہ امریکی فوج کی جانب سے عراق میں فوجی آپریشن کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ عراق میں اس کے کمپاؤنڈ پر ایک بارودی مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے حملہ کیا گیا تھا، جس میں 27 سالہ ہمایوں خان جانبر نہ ہوسکا تھا۔

خضر خان نے امریکی شہر فلاڈیلفیا میں جمعرات کی رات منعقد ہوئے ڈیموکریٹک کنونشن کے دوران اپنی تقریر میں کہا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں لاگو ہوتیں تو ان کا بیٹا نہ تو امریکی شہری بنتا اور نہ ہی وہ امریکی فوج کے لیے اپنے فرائض سرانجام دے پاتا۔ خضر خان کے بقول لیکن دوسری جانب ہلیری کلنٹن نے ان کے بیٹے کو امریکا کا بہترین اثاثہ قرار دیا۔

خضر خان کے خطاب کے دوران کنونشن میں شامل افراد نے تالیوں کے ذریعے ان کے حوصلے کی داد دی اور کھڑے ہو کر ان کے بیٹے کی قربانی کا اعتراف بھی کیا۔

رپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ میکسیکو کے ساتھ امریکی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ میکسیکو کے شہریوں کی امریکا آمد کو روکا جا سکے۔ وہ امریکا سے ان لاکھوں افراد کو ملک بدر بھی کرنا چاہتے ہیں جو غیر قانونی طور پر امریکا میں رہائش پذیر ہیں۔ امیگریشن پالیسی کے علاوہ ڈیموکریٹک جماعت ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلمانوں کے حوالے سے پالیسی پر بھی شدید تنقید کرتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا بیان دے چکے ہیں۔

خضر خان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ان پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے اپنے خطاب میں ان سے سوال کیا، ’’کیا آپ کبھی امریکی فوج کے ’آرلنگٹن قبرستان‘ گئے ہیں؟ آپ وہاں جائیں اور بہادر امریکی فوجیوں کی قبریں دیکھیں، آپ کو تمام مذاہب، جنسوں اور قومیتوں کے افراد کی قبریں نظر آئیں گی۔ آپ نے تو اس ملک کے لیے کچھ بھی قربان نہیں کیا۔‘‘

اس خطاب کے دوران خضر خان کے ساتھ سر پر دوپٹہ اوڑھے ان کی اہلیہ بھی کھڑی تھیں۔ سوشل میڈیا پر کئی افراد نے اس پاکستانی نژاد جوڑے کے حق میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ امریکی میڈیا سے منسلک وجاہت علی نے فیس بک پر لکھا، ’’میں نے خضر خان کے خطاب کی ویڈیو کو آٹھ مرتبہ دیکھا ہے، ایک دیسی انکل امریکا کو آزادی اظہار جیسی اہم امریکی قدر کے بارے میں بتا رہے ہیں، یہ انتہائی طاقتور پیغام ہے۔‘‘

فیس بک پر ہی الیسیا زرمینو نے لکھا، ’’میں خود ایک امریکی فوجی کی ماں ہوں، خضر خان کی تقریر نے مجھے آبدیدہ کر دیا ہے۔‘‘

سوشل میڈیا کی ایک اور صارف نسرین اکبر نے لکھا، ’’امریکی فوجی ہمایوں خان کی والدہ کی آنکھوں سے ان کا دکھ اور تکلیف صاف عیاں ہیں۔‘‘

سلیمہ خان نے لکھا، ’’ایک امریکی مسلم خاندان کی جانب سے شاندار تقریر، جو امریکا کے لیے ان کی قربانیوں کی ترجمان ہے۔‘‘

اپنے بیٹے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے خضر خان نے اپنی جیب سے امریکا کے آئین کی کاپی نکالی اور ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کرتے ہوئے کہا، ’’آپ امریکی آئین میں ’آزادی‘ اور ’برابری اور انصاف‘ کے الفاظ کو دیکھیے۔

.

DW.COM

اشتہار