ہر گھر سے اسلامی نظریاتی کونسل نکلے گی | دستک | DW | 29.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

ہر گھر سے اسلامی نظریاتی کونسل نکلے گی

کیوں وہ جینز پہن کر گھر سے باہر نکلی؟ کیوں وہ بھائی یا شوہر کے بغیر موٹر وے پر اتنی دیر سے نکلی؟ باہر نکلنا ہی تھا تو ذمہ داری سے فیول ٹینک کی جانچ کیوں نہیں کی؟ کیوں وہ کسی غیر محرم کے ساتھ اکیلی اس اپارٹمنٹ میں گئی؟

یہ سب جملے اپنی جگہ، ہماری روزمرہ کی زندگی میں ایک فقرہ اور بھی 'تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی‘ بہت مشہور ہے، جو ہم ہر بار کسی لڑکی کی جنسی ہراسانی یا زیادتی یا قتل پر بنا سوچے سمجھے اچھال دیتے ہیں اور داد بٹورنے کا ایسا انتظار کرتے ہیں، جیسے پتے کی کوئی ایسی بات کر دی ہو، جو پہلے کسی نے نہیں کہی تھی۔ یہ دراصل مظلوم کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی جسارت ہے اور یہ جسارت سماجی سطح پر ہی نہیں ہوتی بلکہ ریاستی ادارے اور نمائندے اس میں حسبِ توفیق حصہ ڈالتے نظر آتے ہیں۔

بحیثیت سماج ہم عورت کو ایک ناقص عقل مخلوق سمجھتے ہیں، جو ستم کا نشانہ بننے سے فارغ ہوتی ہے تو سوالوں کا نشانہ بننے کے لیے تیاری پکڑتی ہے۔ اگر وہ ظلم کی نشاندہی کرے تو نصیحت کرنے والوں کی ایک قطار لگ جاتی ہے۔ جسے خدا نے 'ادھوری عقل‘ دی ہو وہ کیسے بتا سکتی ہے کہ یہ ظلم ہے اور یہ انصاف ہے۔ یہ تو اسے وہ بتائیں گے، جن کی عقل کے سارے خانے پُر ہیں۔

یہ سب کرتے وقت 'پوری عقل‘ کو خدا جانے اس بات کا افسوس کیوں نہیں ہوتا کہ اس کی تخلیق کے لیے قدرت نے 'ادھوری عقل‘ والے پیٹ کا انتخاب کیا تھا۔ یا شاید 'پوری عقل‘ کو لگتا ہے کہ عورت کی عقل تب ہی ٹھیک کام کرتی ہے، جب وہ نو مہینے ایک وجود کا بوجھ اٹھائے پھر رہی ہوتی ہے۔ کیونکہ ان نو مہینوں میں ایک وجود کی حفاظت میں وہ کہیں کسی کم عقلی کا مظاہرہ نہیں کرتی۔

یہ بات بھی بڑی عام ہے کہ اس 'کم عقل انسان‘ کو خدا نے پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ وہ زمین کی زرخیزی کو قائم رکھے۔ زرخیزی تب ہی قائم رہ سکتی ہے جب عورت گھر میں رہے گی۔ ایک قدم باہر نکالی گی تو آسان شکار ہونے کی وجہ سے بلائیں اسے کچا کھا جائیں گی۔ بلاوں کا تو کام ہی کھانا ہے، لہذا اگر کھا لیا تو الزام بلا کو نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس کا تو کام ہی کھانا ہے۔ الزام عورت پر آئے گا، کیونکہ اس کا تو کام ہی گھر پہ بیٹھنا ہے۔ اب میں یہ سوچتی ہوں کہ کچا کھا جانا جس کی فطرت ہے، وہ 'پوری عقل والا‘  کیسے ہو سکتا ہے؟ زرخیزی جس کی فطرت ہے، اس کی عقل ادھوری کیسے ہوگئی؟ عجیب سی ریاضی ہے، جو میری سمجھ سے ہر گزرتے وقت کے ساتھ باہر ہوتی جا رہی ہے۔

یہ ہمارے سماج کا ایک حقیقی چہرہ ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر خواتین پر تشدد کے خلاف بل اسلامی نظریاتی کونسل کو کیوں بھیجا گیا ہے؟  قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونے والے بل کا جائزہ اگر اسلامی نظریاتی کونسل لے، تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ عوامی ادارے وقت کا ضیاع ہیں۔ درحقیقت اس ملک میں چند پیشواوں کی حکمرانی ہے، جو اکثریت کی رائے کو کبھی بھی مسترد کر سکتے ہیں۔ مگر یہ ہو رہا ہے، اس لیے ہو رہا ہے کہ ہمارے خاندان اور نظام ابھی اسلامی نظریاتی کونسل والے اصولوں پر ہی چل رہے ہیں۔ ریاستی ادارے ہمارے تحفظ میں اسی لیے ناکام ہیں کہ ہم خود اپنے بچوں کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔

کرک میں عورتوں کے محرم کے بغیر بازار جانے پر پانی