ہانگ کانگ: پولیس فائرنگ سے  ایک شخص زخمی، حالات پھر کشیدہ | حالات حاضرہ | DW | 11.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ہانگ کانگ: پولیس فائرنگ سے  ایک شخص زخمی، حالات پھر کشیدہ

ہانگ کانگ میں اس وقت افراتفری پھیل گئی جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جمہوریت نواز مظاہرین کے خلاف آج علی الصبح کارروائی کی۔ ایک ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کو مظاہرین پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ہانگ کانگ میں آج پیر کو پولیس کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ کے بعد احتجاج کے دوران افراتفری پھیل گئی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ واقعہ اس جزیرے کے مشرقی حصے میں پیش آیا۔

 مزید یہ کہ پولیس کی جانب سے بہت قریب سے چلائی گئی ایک گولی سے ایک شخص زخمی ہوا۔ زخمی ہوتے ہی یہ شخص زمین پر گر گیا اور ہر جانب خون پھیل گیا۔ بتایا گیا ہے کہ زخمی کی حالت تشویشناک ہے۔ڈاکٹرز نے فوری طور پر آپریشن کرتے ہوئے اس کے جسم سے گولی نکال دی ہے۔

ہانگ کانگ کی پولیس نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ ہانگ کانگ میں اس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ مظاہرین نے اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے ناکہ بندی کی کوشش کی۔ ساتھ ہی ٹرین سروس جزوی طور پر معطل ہونے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جمہوریت نواز کارکن جوشوآ وونگ نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ آج پیر کی صبح ہی پولیس کی جانب سے شدید کارروائی شروع کی گئی تھی،''صبح نو بجے کے قریب موٹر سائیکل پر سوار ایک پولیس اہلکار مظاہرین پر چیخ چلا رہا تھا۔‘‘

ہانگ کانگ میں جون میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ چین کے اس خصوصی انتظامی علاقے کی سربراہ کیری لیم ایک ایسا قانون لاگو کرنا چاہتی تھیں، جس کے بعد مشتبہ افراد کی چین کو حوالگی کی راہ ہموار ہو جاتی۔ تاہم  بعد ازاں حکومت نے اس قانون کو نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مظاہرین ابھی بھی پولیس تشدد اور بیجنگ حکومت کے اثر و رسوخ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

DW.COM