ہانگ کانگ ميں جمہوريت نواز پارٹی پر پابندی | حالات حاضرہ | DW | 24.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ہانگ کانگ ميں جمہوريت نواز پارٹی پر پابندی

برطانيہ کی جانب سے سن 1997 ميں ہانگ کانگ کا انتظام چين کے حوالے کيے جانے کے بعد يہ پہلا موقع ہے کہ جمہوريت کے ليے سرگرم ايک سياسی جماعت پر اس طرح پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

ہانگ کانگ کے سيکرٹری برائے سکيورٹی جان لی نے اس بارے ميں اعلان پير چوبيس ستمبر کے روز کيا۔ ہانگ کانگ نيشنل پارٹی پر يہ پابندی ’سوسائٹيز آرڈيننس‘ کے تحت لگائی گئی ہے جو اس دور کا ايک قانون ہے، جب ہانگ کانگ ايک کالونی ہوا کرتا تھا۔ اس قانون کے تحت تمام سياسی تنظيموں کا پوليس کے پاس اندارج لازمی ہے۔ يہ قانون حکومت کو يہ اختيار ديتا ہے کہ قومی سلامتی کے مفاد ميں يا ديگر شہريوں کی آزادی و حقوق کے تحفظ کے ليے کسی گروپ پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

 جان لی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چيت کے دوران بتايا کہ پچھلے دو سال سے سرگرم يہ گروپ اپنے مقاصد کے حصول کے ليے تمام تر اقدامات اٹھانے کے ليے تيار تھا اور يہی وجہ ہے کہ يہ قومی سلامتی کے ليے خطرہ ہے۔ لی نے کہا، ’’ان کا واضح ہدف يہ ہے کہ ہانگ کانگ کو ايک ری پبلک بنايا جائے۔‘‘ سرکاری عہديدار کے مطابق يہ گروپ چين کے خلاف نفرت پھيلانے کا مرتکب بھی پايا گيا ہے۔ ہانگ کانگ ميں بيان ديتے ہوئے جان لی نے مزيد کہا کہ حکومت خود مختاری کے ليے سرگرم ديگر گروپوں کے خلاف کارروائی کو خارج از امکان قرار نہيں دے سکتی۔

ہانگ کانگ ميں يہ جمہوريت نواز تحريک گو کہ عوامی سطح پر زيادہ مقبول نہيں تاہم جولائی ميں بيجنگ حکومت کی جانب سے اس پر ممکنہ پابندی کے اعلان کے بعد گروپ کے سربراہ اينڈی شين کافی مقبول ہو گئے۔ ہانگ کانگ کو در اصل ’ايک ملک دو سسٹم‘ کے تحت چلايا جاتا ہے۔ يوں تجارتی و اقتصادی سرگرميوں کے ليے دنيا بھر ميں معروف يہ مقام چين کے اثر و رسوخ ميں بھی ہے اور چند معاملات ميں کچھ حد تک خود مختار بھی۔

ع س / اا، نيوز ايجنسياں