ہالی وڈ اداکارہ اسکارلیٹ نے ڈزنی پر مقدمہ کر دیا | فن و ثقافت | DW | 30.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

ہالی وڈ اداکارہ اسکارلیٹ نے ڈزنی پر مقدمہ کر دیا

 اداکارہ نے فلم 'بلیک ویڈو' کی آن لائن ریلیز کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔ ان کے مطابق اسٹریمنگ سے وہ مالی فائدے سے محروم ہو سکتی ہیں جبکہ کمپنی کا کہنا ہے کہ انہیں فلم کے لیے دو کروڑ ڈالر پہلے ہی ادا کیے جا چکے ہیں۔

ہالی وڈ کی معروف اداکارہ اسکارلیٹ یوہانسن نے 29 جولائی جمعرات کے روز والٹ ڈزنی کمپنی پر مارویل سپر ہیرو فلم 'بلیک ویڈو' کی اسٹریمنگ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔یہ فلم تھیٹر میں ریلیز ہونے کے ساتھ ہی اسٹریمنگ کے لیے بھی دستیاب ہے۔ ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ فلم کی آن لائن ریلیز سے ان کے معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور اس سے وہ اس کی ممکنہ آمدن سے محروم ہو جائیں گی۔

بلیک ویڈو کی اسٹار اور اگزیکیٹیو پروڈیوسر نے یہ کیس لاس انجلس کی اعلی عدالت میں دائر کیا ہے اور استدعا کی ہے کہ ان کے معاہدے کے حساب سے اس فلم کو خصوصی طور پر تھیٹر میں ریلیز کرنا تھا اور اس کو آن لائن ریلیز کرنے سے انہیں جو اس سے ممکنہ طور پر اضافی آمدن ہو سکتی تھی اس سے وہ محروم ہو جائیں گی۔

درخواست میں کہا گیا ہے، ''مقدمہ دائر کرنے سے پہلے کئی مہینوں تک محترمہ جانسن نے ڈزنی اور مارویل کو ہر موقع دیا تاکہ وہ اپنی غلطیوں کو درست کر سکیں اور مارویل نے جو وعدے کیے تھے اس پر عمل کریں۔''

اس میں مزید کہا گیا ہے، ''ڈزنی نے دانستہ طور پر مارویل کے معاہدے کی خلاف ورزی کی، بغیر کسی جواز کے، تاکہ محترمہ یوہانسن کو مارویل کے ساتھ ہونے والے سودے کا پورا فائدہ پہنچنے سے روکا جا سکے۔''

ڈزنی نے الزامات مسترد کر دیے

ادھر ڈزنی نے اس کیس کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ اس میں کوئی جواز نہیں ہے اوروہ اس فلم کے لیے اداکارہ کو اب تک دو کروڑ ڈالر کی رقم ادا کر چکی ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے معاہدے کی تمام شرائط بھی پوری کی ہیں۔ 

کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے سنیما ہالوں میں اس فلم کی ریلیز کافی تاخیر سے ہو پائی اور پھر اس کے ساتھ ہی ڈزنی کی سروس 'ڈزنی پلس' پر بھی اسے آن لائن ریلیز کیا گیا۔ کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا، ''کووڈ 19 جیسی خوفناک عالمی وبا کے طویل اور خوفناک اثرات کے دور میں اس طرح کا مقدمہ کافی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔''

کمپنی کا مزید کہنا تھا، ''ڈزنی نے محترمہ یوہانسن کے معاہدے کی مکمل طور پر تعمیل کی ہے اور مزید یہ کہ پریمیئر ایکسیس کے ساتھ 'ڈزنی پلس' پر 'بلیک ویڈو'  کی ریلیز کے لیے انہیں 20 ملین ڈالر کی جو رقم ادا کی جا چکی ہے اس سے بھی زیادہ رقم حاصل کرنے کا اہل بھی بنایا ہے۔''

فلم 'بلیک ویڈو' کو نو جولائی کو تھیٹر میں ریلیز کیا گیا تھا اور 30 امریکی ڈالر کی قیمت پر اس فلم کو 'ڈزنی پلس' پر آن لائن بھی دستیاب کروایا گیا تھا۔

اداکارہ اسکارلیٹ یوہانسن کا موقف ہے کہ ڈزنی اس فلم کی مدد سے زیادہ تر ناظرین کو اپنی آن لائن سروس ''ڈزنی پلس' پر کھینچنا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنے سبسکرائبرس میں اضافہ کر سکے۔ ''یہ ڈزنی کا اسٹاک مارکیٹ میں بھی اپنی قیمت بڑھانے کا ایک طریقہ ہے۔''

فلم 'بلیک ویڈو' ایک ایسی روسی قاتل کی کہانی ہے جو انتقام لینی پر تلی ہوتی ہے۔ جانسن نے مارویل کی نو فلموں میں یہ کردار کیا ہے۔ ڈزنی پلس پر اب تک اس مووی نے تقریباً چھ کروڑ ڈالر کی رقم کمائی ہے۔

شمالی امریکی ممالک کے تھیٹر میں اب تک اس فلم نے آٹھ کروڑ کی کمائی کی ہے جبکہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی تھیٹر سے تقریباً اتنی ہی رقم کما چکی ہے۔

ص ز/ ج ا (روئٹرز، اے پی) 

ویڈیو دیکھیے 01:18

فلم ’لا لا لینڈ‘ سے وینس فلمی میلے کا افتتاح

DW.COM