ہائی بلڈ پریشر ایک عوامی بیماری | صحت | DW | 28.08.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

ہائی بلڈ پریشر ایک عوامی بیماری

ہائی بلڈ پریشر یا بلند فشار خون کی بیماری کو جرمنی میں عوامی بیماری کہا جاتا ہے۔ اس ترقی یافتہ یورپی ملک میں 35 ملین افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔

اس عارضے کا تعلق ان افراد کی عمروں سے ہے۔ بلند فشار خون قلبی بیماریوں کی بنیادی وجہ ثابت ہوتا ہے اور جرمنی میں زیادہ تر اموات کا سبب دل کی بیماریاں ہی بنتی ہیں۔

جرمنی میں طبی معائنے کی غرض سے ڈاکٹر کے پاس جانے والے ہر مریض کا سب سے پہلے بلڈ پریشر چیک کیا جاتا ہے۔ 120 اور 80 کے درمیان بلڈ پریشر نارمل سمجھا جاتا ہے جبکہ ہائی بلڈ پریشر کے اول درجے میں مریض کا فشار خون 140 تا 153 اور 90 سے 99 تک ہوتا ہے۔ " 50 سے60 سال کی درمیانی عمر کا مریض جب ڈاکٹر کے پاس کلینک میں کسی چھوٹے موٹے سلسلے میں بھی آتا ہے تو ڈاکٹر سب سے پہلے اُس کا بلڈ پریشر چیک کرتا ہے کیونکہ اس کے ہائی بلڈ پریشر کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں" ۔ یہ کہنا ہے، یونیورسٹی کلینک بون کے پروفیسر رائنر ڈیوزنگ کا۔

زیادہ تر اتفاقاً تشخیص

یورگن ویبر ابھی 30 سال کے ہوئے ہی تھے کہ اُن کے ڈاکٹروں کو پتہ چل گیا کہ وہ ہائی بلڈ ٹریشر میں مبتلا ہیں۔ وہ کہتے ہیں، "جوان لوگوں کو زیادہ تر محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ان کا بلڈ پریشر بڑھا ہوا ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا"۔

Symbolbild Übergewicht

موٹاپا از خود ایک بیماری

دونوں ہندسوں کا مطلب کیا ہے؟

بلڈ پریشر چیک کرتے وقت دو ہندسے سامنے آتے ہیں ایک کو Diastolic کہتے ہیں، جو فشار خون کی نچلی سطح جبکہ دوسرے کو Systolic یا اوپر والی سطح کہا جاتا ہے، جس سے خون کی بلند سطح کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ پروفیسر رائنر ڈیوزنگ کہتے ہیں،"انسانی دل ایک منٹ میں 60 تا 80 بار دھڑکتا ہے۔ ہر دھڑکن کے ساتھ خون کی ایک خاص مقدار ایک مخصوص رفتار سے خون کے نظام میں داخل ہو کر جسم میں گردش کرتی ہے۔ خون کے فشار کی اوپری سطح اُس بلند ترین فشار کا پتہ دیتی ہے جو دل کی دھڑکن کے ساتھ خون کو جسم کے دوران خون تک پہنچاتا ہے اور بلڈ پریشر کی نچلی سطح دل کی دھڑکنوں کے مابین وقفوں کی نشاندہی کرتی ہے"۔

دل ایک مخصوص وقفے سے دھڑکتا ہے اور ہر دھڑکن کے ساتھ خون کی شریانوں کے ذریعے جسم کو آکسیجن فراہم کرتا ہے۔ خون کی ہر نالی سکڑنے یا پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ شریانوں میں اگر خون کا فشار مسلسل زیادہ ہو تو خون کی نالیاں نارمل فنکشن انجام نہیں دے پاتیں اور مختلف اعضاء تک خون کی مطلوبہ مقدار نہیں پہنچ پاتی۔ اس کا نتیجہ زیادہ تر نظام خون کی خرابی کی شکل میں سامنے آتا ہے، جو فالج یا دل کے دورے یا پھر گردوں کی خرابی کا سبب بنتی ہے۔

Schlaganfall Symbolbild

ہائی بلڈ پریشر فالج کا سبب بھی بن سکتا ہے

ہائی بلڈپریشر کی وجوہات

‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍یورگن ویبر ماضی میں ایک ہوٹل کے مالک رہ چکے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ اُن کے ہائی بلڈ پریشر کی وجہ جینیاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں،"میرے والد اور اُن کے والد کو بھی ہائی بلڈ پریشر کی شکایت تھی۔ اُس پر روز مرہ زندگی کا دباؤ"۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسمانی حرکت کی کمی، الکحل کا مسلسل استعمال اور کھانے پینے کی عادات بلڈ پریشر پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ پروفیسررائنر ڈیوزنگ کہتے ہیں،"جب کوئی شخص اپنے کھانے میں بہت زیادہ نمک کا استعمال کرتا ہے تو اُسے پتہ ہونا چاہیے کہ وہ ہائی بلڈ پریشر کی بیماری کو دعوت دے رہا ہے"۔ تاہم یہ مفروضہ گزشتہ تیس چالیس برسوں سے متنازعہ بنا ہوا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر مہلک بیماریوں کی فہرست میں سب سے اوپر

دنیا کے تمام صنعتی ممالک میں ہائی بلڈپریشر ایک عوامی بیماری بن چُکی ہے۔ تاہم اس میں مبتلا محض ہر دوسرے فرد کو ہی اپنی اس بیماری کا علم ہے۔ چند سال قبل کروائے گئے ایک سروے کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کی تعداد کے حوالے سے جرمنی امریکا سے آگے تھا۔ تاہم یہ سروے محدود سیمپلز پر مشتمل تھا۔ دیگر ممالک میں بھی یہ عارضہ عام ہے۔ مثال کے طور پر وسطی یورپی ممالک، خلیجی ریاستوں اور چین میں بھی ہائی بلڈ پریشر کی بیماری عام ہے یعنی 20 تا 30 فیصد باشندے اس کا شکار ہیں۔

Joggen Freizeit Sport

ورزش اور چہل قدمی ہائی بلڈ پریشر سے بچنے کے لیے بہت ضروری ہے

رہنما اصول

کھانے میں نمک کا کم سے کم استعمال، زیادہ سے زیادہ جسمانی حرکت، الکحل کی کم سے کم مقدار، جسمانی وزن میں کمی اور طبی ماہرین سے مسلسل صلاح و مشورہ ہائی بلڈ پریشر سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

گودروں/ ہائزے/ کشور مصطفیٰ/ امجد علی

DW.COM