ہائیڈروکاربن فیول کا ارتقا | سائنس اور ماحول | DW | 09.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

ہائیڈروکاربن فیول کا ارتقا

نامیاتی مرکبات جلا کر توانائی حاصل کرنا نیا عمل نہیں، مگر ہائیڈرو کاربن انجن کی ایجاد کے بعد ایندھن کی کھپت نے تمام حدیں عبور کر دیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہائیڈروکاربن انجن کی ایجاد اور انسانی ترقی کے درمیان راست نسبت ہے۔ تاہم ہائیڈرو کاربن مواد کے بے انتہا استعمال کے نتیجے میں زمینی ماحول پر اثرات بھی تباہ کن پڑے ہیں۔ اربوں برس پرانا سیارہ زمین اب اس سوال کا سامنا کر رہا ہے کہ آیا یہ مستقبل میں زندگی کے لیے معاون سیارہ رہے گا بھی یا نہیں؟

پیٹرولیم مصنوعات کا سفر قریب سو برس پرانا ہے تاہم مٹی کے تیل سے ہائی آکٹین ایندھن تک کا سفر خاصا دلچسپ ہے۔ اس ایندھن کے ساتھ صنعتی ممالک کی تیز رفتار ترقی جڑی ہے، تاہم اس تیز رفتار ترقی زمینی درجہ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی تبدیلی سے بھی نتھی ہے۔

انٹرنل کمبسشن انجن

کار کے لیے انٹرنل کمبسشن انجن کی ایجاد نے ہائیڈروکاربن ایندھن کے استعمال کی راہیں کھولیں اور پھر یہ ایندھن ارتقا کی کئی منازل سے گزرتا ہوا آج کے دور میں پیٹرول، ڈیزل اور ہائی آکٹین تک پہنچا۔

کوئلے والا انجن

انیسویں صدی کے اختتام پر کوئلہ سب سے موافق ایندھن ہوا کرتا تھا۔ کوئلے کو جلانے سے تاہم خام تیل کی ایک ہلکی سے مقدار پیدا ہوتی ہے۔ سن 1884 میں پہلی مرتبہ پیٹرول کو فور اسٹروک سائیک اسپارک ایگنیشن ایجن میں استعمال کیا گیا۔ اس وقت تاہم کیروسین تیل کی پروڈکشن کے دوران پیٹرول کو فقط ایک اضافی پروڈکٹ سمجھا جاتا تھا۔

سن انیس سو سے انیس سو بیس کے دوران پیٹرول کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس طرح اسے ایک ضمنی پروڈکٹ کی بجائے زیادہ تیزی سے جلنے کی بنیاد پر کیروسین پر فوقیت دی جانے لگی۔ بیسویں صدی کے آغاز پر تیل کی کمپنیاں پیٹرول کی تیاری کے لیے خاتم تیل کو صاف کیا کرتی تھیں، تاہم اس دوران گاڑیوں کی تیاری میں نہایت تیز رفتاری سے اضافہ ہوتا چلا گیا اور ایندھن کی طلب بھی اسی بنا پر بڑھتی چلی گئی۔ گاڑیوں کی تیاری اور ارتقا کی وجہ سے تیل کے معیار میں بھی بہتری کی راہیں نکالی گئیں۔

تھرمل کریکنگ طریقہ

انیس سو تیرہ میں تھرمل کریکنگ طریقہ متعارف کروایا گیا، جس کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات سے بھاری مقدار میں پیٹرول تیار کیا جانے لگا۔ اس سے قبل یہ بات سامنے آ چکی تھی کہ خام تیک کو گرم کیا جائے تو اس کے مالیکیول ٹوٹتے ہیں اور اس کے غیرپائیدار مالیکیول پیٹرول کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تھرمل کریکنگ عمل کے لیے تاہم بھاری دباؤ بنانے کی ضرورت پڑتی تھی۔ سن 1920 میں چند سیلیکا ایلومونیا سے تعلق رکھنے والے کیٹالیسٹس دریافت ہوئے جو مالیکیولوں کے ردعمل کی رفتار کو تیز بنا دیتے تھے اور اس لیے مالیکیولوں کی توڑ پھوڑ کے لیے بہت زیادہ دباؤ کی ضرورت ہی نہیں رہتی تھی۔ اس کا ایک اور فائدہ یہ تھا کہ اس سے خام تیل سے بھاری مقدار میں پیٹرول حاصل ہوتا تھا اور اس کا معیار بھی زیادہ بہتر ہوتا تھا۔

لیڈ کا استعمال

لیڈ کا بہ طور کیٹالیسٹ استعمال سن 1926 میں شروع ہوا۔ اس کے تحت فکسڈ بیڈ کیٹالیسٹ عمل کی بجائے مائع پر مبنی عمل شروع کیا گیا۔ مائع کیٹالیسٹ کے ذریعے درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے غیرمعمولی بہتری دیکھی گئی جب کہ اس طرح مالیکیولوں کی توڑ پھوڑ کی رفتار کو بھی اپنی مرضی کے مطابق کم یا زیادہ کرنے میں اختیار بڑھا۔

1940 کی دہائی اس عمل کے ذریعے ہائی آکٹین پیٹرول کی تیاری میں بڑی پیش رفت کے حوالے سے اہم سمجھی جاتی ہے۔ 1950 کی دہائی میں انجنوں میں کمپریشن تناسب میں اضافہ شروع ہو چکا تھا، جس کے لیے ہائی آکٹین ایندھن کی ضرورت تھی۔ اسی تناظر میں پیٹرولیم کمپنیاں بھی کیٹالیسٹ لیڈ کی مقدار میں معمولی جمع تفریق کر کے ہائی آکٹین ایندھن کی پیدوار کے اہداف حاصل کرتی چلی گئیں۔

ماحولیاتی وجوہ اور انسانی صحت کے لیے زہرقاتل ہونے کی بنا پر لیڈ ایندھن پر پابندی عائد کی گئی، تو 'اَن لیڈڈ ایندھن‘ متعارف کروایا گیا۔

انیس سو ستر سے انیس سو نوے کی دہائی میں دھیرے دھیرے لیڈ کو ایندھن سے کم کیا جاتا رہا۔ تاہم اب بھی بہت کم ہی سہی لیکن یہ خطرناک مواد گاڑیوں سے نکلتے دھوئیں میں موجود ہوتا ہے۔

پیٹرول اب بس

ضرر رساں گیسوں کے اخراج اور ان کی وجہ سے زمینی ماحول کو پہنچنے والے نقصان کی بنا پر دنیا بھر میں ہائیڈروکاربن ایندھن کا استعمال ترک کرنے پر زور دیا جا رہا ہے، تاہم اس ایندھن پر انسانی انحصار اس حد تک ہے کہ ترقی اور نمو پر سمجھوتا کیے بغیر کسی دوسرے ماحول دوست ایندھن کی جانب منتقل ہونے میں کئی دہائیاں درکار ہیں۔

ڈی ڈبلیو اردو سروس کی نئی سیرز ارتقا، جس میں مختلف اور عام اصطلاحات کا ارتقائی سفر تاریخ اور تحقیق کی روشنی میں صارفین کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔