گیڈو ویسٹر ویلے افغانستان کے دورے پر | حالات حاضرہ | DW | 19.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گیڈو ویسٹر ویلے افغانستان کے دورے پر

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے اسلام آباد کا دورہ مکمل کرنے کے بعد اب افغانستان میں ہیں۔ ویسٹر ویلے وسطی ایشیائی ریاست ترکمانستان سے پاکستان پہنچے تھے۔ اسلام آباد میں پاکستان کی اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔

default

گیڈو ویسٹر ویلے اور حامد کرزئی

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے اپنے کابل میں قیام کے دوران افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ملاقات کے علاوہ نیٹو اور امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان ایلن سے بھی ملاقاتوں میں مصروف رہے۔

افغان وزارت خارجہ کے ترجمان جانان موسیٰ زئی کے مطابق جرمن وزیر خارجہ کی صدر کرزئی سے ملاقات میں افغان وزیر خارجہ زلمئے رسول بھی موجود تھے اور اس ملاقات میں خاص طور پر جرمنی کے شہر بون میں پانچ دسمبر سے شروع ہونے والی افغانستان کے مستقبل بارے کانفرنس پر توجہ مرکوز رہی۔ اس میٹنگ میں افغان صدر اور وزیر خارجہ نے گیڈو ویسٹر ویلے کو کانفرنس سے وابستہ توقعات سے آگاہ کیا۔ میٹنگ میں جرمن وزیر خارجہ کی جانب سے میزبان ملک کے صدر اور اپنے ہم منصب کو کانفرنس کی مناسبت سے جرمن تیاریوں کا احوال بھی پیش کیا گیا۔ بون شہر میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں نوے مختلف ملکوں اور بین الاقوامی اداروں کے وفود شریک ہوں گے۔

جانان موسیٰ زئی کے مطابق افغانستان کی جانب سے جرمن وزیر خارجہ کو ایک دستاویز بھی پیش کی گئی ہے اور اس میں بین الاقوامی کمیونٹی کے ساتھ افغانستان کی طویل پارٹنرشپ میں ان کی ذمہ داریوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ افغان حکومتی ذرائع کو یقین ہے کہ بون میں افغانستان کانفرنس شریک ہونے والی بین الاقوامی برادری کے لیے یہ دستاویز بہت ہی اہم ہے۔

افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے جرمن شہر بون میں ہونے والی کانفرنس میں سن 2014 میں انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورسز کے مشن کے خاتمے کے بعد کی صورت حال پر توجہ فوکس کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے مختلف شہروں میں امن و سلامتی کی ذمہ داریوں کی منتقلی کے دوران پیدا شدہ حالات و واقعات کو بھی گفتگو کا موضوع بنایا جائے گا۔

جرمن حکومت کا پلان ہے کہ وہ اگلے سال افغانستان میں تعینات جرمن فوجیوں کی تعداد میں کمی شروع کر دے گی۔جنوری سن 2013 تک کم از کم ایک ہزار فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔ افغانستان میں اس وقت جرمنی کے پانچ ہزار 350 فوجی بین الاقوامی فوج کا حصہ ہیں۔افغانستان میں مغربی دفاعی اتحاد کی جانب سے انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورسز کے مشن کو سن 2014میں ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس وقت افغانستان میں تعینات بین الاقوامی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ 40 ہزار کے قریب ہے۔

جرمن وزیر خارجہ نے جمعے کے روز پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں کہا تھا کہ یہ انتہائی اہم اور ضروری ہے کہ تمام اتحادی قوتیں اکھٹے رہ کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لیں۔ انہوں نے ہمسایہ ملک افغانستان میں سلامتی کے لیے پاکستان کو لازمی قرار دیا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار