گُڈ فرائیڈے: ڈانس پر پابندی کے حوالے سے جرمنی تقسیم | معاشرہ | DW | 19.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

گُڈ فرائیڈے: ڈانس پر پابندی کے حوالے سے جرمنی تقسیم

ایک گیت کے بول ہیں ’اگر آپ چاہتے ہیں تو رقص کر سکتے ہیں’، لیکن گُڈ فرائیڈے کے دن جرمنی کے زیادہ تر صوبوں میں ڈانس کرنے پر پابندی عائد ہے۔ دوسری جانب اب جرمنی کے نوجوان اور بزرگ سیاستدان اس حوالے سے تقسیم ہو چکے ہیں۔

مسیحی مذہب کے حامل ممالک میں خاص طور پر مقدس جمعے یا گُڈ فرائیڈے ایک متبرک اور سوگوار دن تصور کیا جاتا ہے۔ اس دن یسوع مسیح کو مصلوب کیا گیا تھا۔ اس خاص دن کے موقع پر رقص و سرود یا کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد نہیں کیا جاتا کیونکہ ان سے مسرت کا اظہار نمایاں ہوتا ہے۔

اس وقت جرمنی میں ایسٹر کے ایام پر رقص کرنے کی اجازت کے پرانے قانون پر بحث و تمحیص جاری ہے۔ مرکز سے بائیں جانب جھکاؤ رکھنے والی سیاسی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو اس تفرقے کا سامنا ہے کیونکہ اس پارٹی کے اراکین کی ایک قلیل تعداد ان قوانین میں تبدیلی کی بحث شروع کیے ہوئے ہے۔

کیون کُونہیرٹ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے یوتھ ونگ کے سربراہ ہیں۔ کُونہیرٹ نے جمعرات سترہ اپریل کو کہا کہ وہ کسی بھی صورت میں گُڈ فرائیڈے کے موقع پر کسی گرجا گھر میں کوئی پارٹی منعقد نہیں کریں گے، البتہ کسی اور کو نائٹ کلب جانا ہے تو وہ اپنے شوق کی تکمیل کرے۔ انتیس سالہ نوجوان سیاستدان کے اس بیان پر پارٹی کے سینیئر اراکین نے شدید نکتہ چینی کی ہے۔

ایس پی ڈی کے پچھتر سالہ سابقہ اسپیکر وولفگانگ تھیرزے کا کہنا ہے کہ ابھی تک انہیں یقین رہا ہے کہ اُن کی سیاسی جماعت رقص و سرود کی کوئی دلدادہ جماعت نہیں تھی۔ ان کے مطابق انہوں نے اس جماعت میں شمولیت اس کی انصاف اور یک جہتی کی پالیسیوں کی وجہ سے کی تھی لیکن اب کلب کلچر کو مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ تھیرزے جرمن پارلیمنٹ کے اسپیکر رہ چکے ہیں اور اس وقت وہ سینٹرل جرمن کیتھولک کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔

دوسری جانب کیون کُونہیرٹ نے اس تنقیدی سلسلے کے جواب میں اپنے بیان کا ایک مرتبہ دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جرمن معاشرت میں سیکولرازم کے تناظر میں چرچ یا مذہب کو عام آدمی کی زندگی سے علیحدہ رکھا جانا ضروری ہے۔

کونہیرٹ کا تعلق جرمن دارالحکومت برلن کی سے ہے اور وہاں گڈ فرائیڈے کے موقع پر صبح چار بجے سے شام نو بجے تک موسیقی اور رقص پر پابندی ہے۔ جرمنی کی دیگر ریاستوں میں برلن کے مقابلے میں کسی حد تک سخت ضوابط پائے جاتے ہیں۔

باویریا میں گڈ فرائیڈے کے علاوہ ہفتے کو بھی موسیقی و رقص کی ممانعت ہے۔ اشٹٹ گارٹ شہر میں انتظامی عدالت نے سینما گھروں میں فلمیں دکھانے کی اجازت دے رکھی ہے۔ اشٹٹ گارٹ میں بند دروازوں کے پیچھے رقص و سرود کی محافل کی بھی اجازت ہے۔ بوخم میں بھی کم و بیش ایسے ہی قوانین متعارف ہیں۔ رائے عامہ کے سن 2017 کے جائزے میں باسٹھ فیصد جرمن شہریوں نے گڈ فرائیڈے پر رقص و موسیقی کی محافل پر پابندی کو درست قرار دیا تھا۔

ع ح / ا ا ( نیوز ایجنسیاں)