گوادر پورٹ کے قریب دس مزدور مار دیے گئے | حالات حاضرہ | DW | 13.05.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گوادر پورٹ کے قریب دس مزدور مار دیے گئے

پاکستانی شہر گوادر کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرتے ہوئے دس مزدوروں کو ہلاک جبکہ متعدد دیگر کو زخمی کر دیا ہے۔ کسی گروہ نے فوری طور پر اس کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ پاکستانی صوبے بلوچستان کے شہر گوادر کے نواح میں تشدد کا یہ تازہ واقعہ تیرہ مئی بروز ہفتہ رونما ہوا۔ حکام کے مطابق گوادر میں جاری ایک تعمیراتی منصوبے پر کچھ مزدور کام کر رہے تھے کہ اچانک کچھ حملہ آوروں نے ان پر حملہ کر دیا۔ مقامی پولیس اہلکار عبدالسلام نے بتایا ہے کہ یہ کارروائی گوادر پورٹ سے بیس کلومیٹر دور ایک دیہات میں دو مقامات پر کی گئی ہے۔

پاک چائنہ اقتصادی کوریڈور کیا ہے؟

گوادر: پاکستان، چین تجارتی راستے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا

بلوچستان، سی پَیک: باغی اور کاروباری لوگ خوشحالی کے منتظر

سینیئر پولیس اہلکار محمد ظریف نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام مزدوروں کو انتہائی قریب سے گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکلوں پر سوار تھے۔ کسی گروہ نے فوری طور پر اس کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم ماضی میں بلوچ باغی ایسے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔

پولیس نے بتایا ہے کہ ہلاک شدگان مزدور صوبائی حکومت کے دو تعمیراتی منصوبہ جات پر کام کر رہے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ جن مقامات پر فائرنگ کی گئی ہے، وہ دونوں مقامات ایک دوسرے سے تقریباً تین کلو میٹر کی دوری پر واقع ہیں۔ محمد ظریف کے مطابق اطلاع کے بعد طبی عملہ فوری طور پر جائے حادثہ پہنچ گیا تھا، جس نے زخمیوں کو طبی مراکز منتقل کر دیا۔

صوبہ بلوچستان میں واقع گوادر پورٹ کو پاکستان کی اقتصادی ترقی کا زینہ قرار دیا جا رہا ہے تاہم وہاں فعال مقامی بلوچ باغی چین کے اشتراک کے ساتھ طے پانے والے اس منصوبے کے خلاف ہیں، جس کے تحت نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان بھر میں سرمایا کاری کی جا رہی ہے۔

گزشتہ کئی عشروں سے قدرتی وسائل سے مالا مال صوبے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فعال یہ باغی بلوچ تنظیمیں قدرتی گیس سے حاصل کردہ آمدنی میں زیادہ بڑے حصے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

صوبہ بلوچستان ایک طویل عرصے سے بحران کا شکار ہے۔ علیحدگی پسندوں کے معاملے نے 2004ء میں ایک مرتبہ پھر سر اٹھایا۔ قوم پرستوں کا مؤقف ہے کہ مقامی لوگوں کو علاقے کے قدرتی وسائل میں حصہ نہیں دیا جا رہا ہے۔ ایسے حلقے اور انسانی حقوق کے فعال ادارے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام بھی لگاتے ہیں۔

پاکستان کے اس صوبے کا رقبہ اٹلی کے برابر ہے تاہم اس کی آبادی صرف نو ملین ہے۔ اس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں۔ اسے خودمختاری دینے کا معاملہ پاکستان میں انتہائی نازک ہے جہاں 1971ء میں مشرقی حصے (موجودہ بنگلہ دیش) کی آزادی کو آج بھی ایک زخم خیال کیا جاتا ہے۔

DW.COM

اشتہار