گلالئی اسماعیل کی امریکا پہنچ کر سیاسی پناہ کی درخواست | حالات حاضرہ | DW | 20.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

گلالئی اسماعیل کی امریکا پہنچ کر سیاسی پناہ کی درخواست

صوبے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی پاکستانی کارکن گلالئی اسماعیل امریکا پہنچ گئی ہیں، جہاں انہوں نے پاکستان میں اپنی ’زندگی کو لاحق خطرات‘ کو بنیاد بنا کر اپنے لیے سیاسی پناہ کی درخواست بھی دے دی ہے۔

گلالئی اسماعیل ستمبر دو ہزار سترہ میں نیو یارک میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام گول کیپرز 2017ء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

گلالئی اسماعیل ستمبر دو ہزار سترہ میں نیو یارک میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام گول کیپرز 2017ء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

پاکستانی دارالحکومت میں فرشتہ نامی لڑکی کی گمشدگی کے بعد اسلام آباد پولیس کے خلاف دھرنا جاری تھا، جس میں سول سوسائٹی کے نمائندوں کے علاوہ پشتون تحفظ مومنٹ (پی ٹی ایم) کے ارکان بھی شامل تھے۔ انہی دنوں میڈیا میں یہ خبر پھیل گئی تھی کہ گلالئی اسماعیل کو پاکستانی سکیورٹی ادارے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ باخبر ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کے شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ایک بار تو گلالئی اسماعیل کو وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ 23 مئی سے گلالئی اسماعیل مکمل طور پر منظر عام سے غائب تھیں۔ 25 مئی کو ان کے گھر پر چھاپہ بھی مارا گیا تھا لیکن وہ اپنے گھر پر موجود نہ ہونے کے باعث گرفتاری سے بچ گئی تھیں۔

گلالئی امریکا کیسے پہنچیں، اس پر پاکستان میں مختلف طرح کی قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں۔ بعض ذرائع  کا دعویٰ ہے کہ گلالئی اسماعیل بلوچستان کے راستے افغانستان میں داخل ہوئیں اور وہاں سے وہ امریکا پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں۔ خود گلالئی کا کہنا ہے کہ وہ نہیں بتا سکتیں کہ وہ پاکستان سے کیسے جان بچا کر نکلیں اور کس کس نے ان کی مدد کی۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اس سفر کی تفصیلات منظر عام پر لانے سے کئی لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ بعد میں ڈی ڈبلیو اُردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، "اس سفر کا مقصد اپنے آپ کو زندہ بچانا تھا تاکہ میری جس آواز کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ بند کرنے کی کوشش کر رہی ہے، وہ آواز بند نہ ہو۔"

Frankreich Preis Konfliktprävention Chirac-Stiftung Gulalai Ismail

نومبر دو ہزار سولہ میں گلالئی اسماعیل پیرس میں فرانس کا شیراک فاؤنڈیشن ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے

پاکستان میں بعض حلقے ایک عرصے سے گلالئی کی ذات کو نشانہ بناتے آئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف پروپیگنڈا اس وقت اور زیادہ ہو گیا تھا، جب انہوں نے پی ٹی ایم کے جلسوں میں شرکت کی تھی۔ اس سے قبل گلالئی نے چند نوجوانوں کے خلاف ایک مقدمہ بھی دائر کر دیا تھا، جنہوں نے سوشل میڈیا پر انہیں دھمکیاں دی تھیں۔

پاکستان میں بالعموم اور پشتون علاقوں میں بالخصوص ایسی خواتین کی زندگی بہت مشکل ہو جاتی ہے، جو اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں۔ گلالئی اسماعیل کے نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رہے ہیں اور ماضی میں دونوں نے پاکستان میں کئی سماجی تربیتی پروگراموں میں مل کر شرکت بھی کی تھی۔

میری کردار کُشی کی جا رہی ہے، گلالئی اسماعیل

ڈی ڈبلیو اُردو سے بات کرتے ہوئے گلالئی کا کہنا تھا کہ وہ مستقبل میں بھی پشتونوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا، ''پشتونون کی زمین پر جو ظلم ہو رہے ہیں، جو اغوا گردی کی جا رہی ہے، جو ٹارگٹ کلنگ کی جا رہی ہے، وہ کہانی ساری دنیا کو پتا چلنی چاہیے۔ دنیا کو پتا چلنا چاہیے کہ یہاں کس طرح دہشت گردی کے دوران اور پھر اسے ختم کرنے کے لیے جو ملٹری آپریشن کیے گئے، ان کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئیں اور عام لوگوں کو ٹارگٹ کیا گیا۔"

(نوٹ: یہ رپوٹ ڈی ڈبلیو اردو پر پہلے جمعہ بیس ستمبر کو شائع ہوئی۔ تاہم اس رپوٹ میں کچھ خامیاں رہ گئی تھیں جن کی  درستگی کے بعد یہ رپورٹ پیر تیئس ستمبر کو دوبارہ شائع کی گئی۔)

DW.COM