گزشتہ برس جرمنوں نے آٹھ ارب یورو کی بیئر پی | معاشرہ | DW | 23.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

گزشتہ برس جرمنوں نے آٹھ ارب یورو کی بیئر پی

ایک تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس جرمن باشندوں نے مجموعی طور پر آٹھ ارب یورو کی بیئر پی۔ جرمن باشندے فی کس بنیادوں پر اوسطاﹰ اتنی زیادہ بیئر پیتے ہیں کہ ماہرین اسے غیر سرکاری طور پر جرمنی کا ’قومی مشروب‘ قرار دیتے ہیں۔

جرمنی یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور اس کا سب سے زیادہ آبادی والا وفاقی صوبہ نارتھ رائن ویسٹ فلیا ہے، جس کا دارالحکومت ڈسلڈورف ہے۔ ڈسلڈورف سے منگل تئیس اپریل کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق 2018ء میں جرمن باشندوں نے اوسطاﹰ فی کس تقریباﹰ 100 یورو (112 امریکی ڈالر) بیئر یا بیئر والے مشروبات کی خریداری پر خرچ کیے۔

مارکیٹ ریسرچ ایجنسی نیلسن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس جرمنی میں موسم گرما میں کافی زیادہ گرمی پڑی تھی اور اس وجہ سے بھی پورے ملک میں بیئر کی فروخت میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

 نیلسن کے جرمنی کی بیئر مارکیٹ پر تحقیق کرنے والے ماہر مارکوس شٹروبل کے مطابق، ’’2018ء میں جرمنی میں مجموعی طور پر تقریباﹰ 6.1 ارب لٹر بیئر یا مکسڈ بیئر والے مشروبات فروخت ہوئے۔ یہ حجم 2017ء کے مقابلے میں 2.9 فیصد زیادہ تھا۔‘‘

Deutschland 5000 verschiedene Bierflaschen in Berlin

جرمنی میں ڈیڑھ ہزار سے زائد اقسام کی بیئر تیار کی اور پی جاتی ہے

اس دوران جرمنی میں بیئر فروخت کرنے والے کاروباری اداروں اور چھوٹے دکانداروں کو اس مد میں ہونے والی آمدنی میں بھی سات فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پچھلے سال بیچی جانے والی بیئر کی مجموعی مالیت آٹھ ارب یورو رہی۔

آمدنی میں اس غیر متناسب اضافے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بیئر کے تقریباﹰ سبھی مقبول برانڈز کے تیار کنندگان نے اپنے اپنے مشروبات کی قیمتوں میں اضافہ بھی کر دیا تھا۔ ان مشروبات میں بہت زیادہ تناسب گندم یا جو سے تیار کردہ بیئر کی قسموں کا تھا لیکن اس دوران الکوحل کے بغیر (نان الکوحلک) بیئر اور بیئر کو دیگر مشروبات سے ملا کر تیار کردہ ڈرنکس کی فروخت بھی خاصی نمایاں رہی۔

بیئر کی پیداوار میں مسلسل اضافہ

جرمنی کے وفاقی دفتر شماریات کے مطابق ملک میں بیئر کی طلب اتنی زیادہ ہے کہ اس کی رسد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 2018ء میں یورپی یونین کے رکن اس ملک میں بیئر کی مجموعی پیداوار 2.2 فیصد اضافے کے ساتھ 8.7 ارب لٹر ہو گئی تھی۔

گزشتہ برس یہی پیداوار 2017ء کے مقابلے میں 184 ملین لٹر زیادہ رہی تھی۔ اس دوران بیئر کی قیمتوں میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا، جو مہنگائی کی سالانہ ملکی شرح سے کافی زیادہ تھا۔

بیئر بنانے والی فیکٹریوں کی تعداد میں بھی اضافہ

جرمن دفتر شماریات کے مطابق پچھلے سال جرمنی میں بیئر تیار کرنے والی فیکٹریوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ 2018ء میں ایسے صنعتی یونٹوں کی تعداد 39 کے اضافے کے ساتھ 1539 ہو گئی۔ ان میں سے 42 فیصد جنوبی جرمن صوبے باویریا میں واقع تھے، جن کی تعداد 654 بنتی تھی۔

باویریا جرمنی کا وہ صوبہ ہے، جہاں سالانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ بیئر کشید کی جاتی ہے۔ یہ پیداوار 2.4 ارب لٹر بنتی ہے۔ جرمنی کا وہ مشہور اکتوبر فیسٹیول بھی، جسے دنیا کا سب سے بڑا بیئر میلہ کہا جاتا ہے، ہر سال باویریا کے دارالحکومت میونخ میں لگتا ہے، جس میں تقریباﹰ دو ہفتوں تک جرمنی اور دیگر ممالک سے کئی ملین افراد حصہ لیتے ہیں۔

م م / ع ا / ڈی پی اے

DW.COM