گرفتاریاں کشمیر سے، قید سینکڑوں کلومیٹر دور جیلوں میں | حالات حاضرہ | DW | 21.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

گرفتاریاں کشمیر سے، قید سینکڑوں کلومیٹر دور جیلوں میں

حالیہ کچھ عرصے کے دوران بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے تقریبا چار ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی ہے اور ان میں سے سینکڑوں افراد کو بھارت کی دور دراز کی جیلوں میں بھیج دیا گیا ہے۔

ستر سالہ حمیدہ بیگم  طویل سفر کرنے کی وجہ سے تھک چکی ہیں لیکن آگرہ جیل کے ایک کمرے میں اپنے بیٹے سے ملاقات کے لیے انتظار کر رہی ہیں۔  آگرہ جیل میں یہ تنہا نہیں ہیں، ان کے ہمراہ کئی دیگر کشمیری خاندان بھی موجود ہیں، جو اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے وہاں پہنچے ہوئے ہیں۔

کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد حمیدہ بیگم کو اپنے بیٹے سے ملنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ملاقات کے بعد اس ستر سالہ خاتون کے چہرے پر کچھ اطمینان ہے۔ نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ''میرے لیے اپنے بیٹے کو دیکھنا کسی عید سے کم نہیں ہے، میں ایک ماں ہوں۔‘‘ 

حمیدہ نے کشمیر سے یہاں پہنچنے تک تقریباﹰ 965 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا ہے اور انہیں آگرہ پہنچنے ہوئے دو دن سے بھی زیادہ لگے ہیں۔ بھارتی قوم پرست وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے درجنوں کشمریوں کو آگرہ  سینٹرل جیل میں قید رکھا گیا ہے۔ اگست میں مودی حکومت نے دنیا میں اس سب سے زیادہ فوجی موجودگی والے خطے میں مزید ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے تھے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق تب سے تقریبا چار ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے کم از کم تین ہزار کو رہا کیا جا چکا ہے اور ٹیلی فون لائینیں بھی بحال کر دی گئی ہیں۔ تاہم 250 کشمیری ابھی بھی ایسے ہیں، جنہیں کشمیر سے باہر بھارت کی مختلف جیلوں میں قید کر کے رکھا گیا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق تین سو کشمیریوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ حکام اس قانون کے تحت ملزمان کو دو سال تک بغیر کسی مقدمے کے اندراج کے قید میں رکھ سکتے ہیں۔

انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں الزام عائد کرتی ہیں کہ بھارتی فوجی کشمریوں کو جسمانی اور جنسی تشدد کے ساتھ ساتھ غیرمنصفانہ گرفتاریوں سے کنٹرول کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بھارتی حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں علیحدگی پسندوں کا پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔

حمیدہ بیگم کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کو پانچ اگست کی صبح ان کے گھر سے اٹھا لیا گیا تھا، ''فوجی زبردستی اس کے کمرے میں داخل ہوئے اور اسے گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے۔‘‘ اس کے بعد دس روز تک حمیدہ مختلف جیلوں میں اپنے بیٹے کو تلاش کرتی رہیں لیکن کہیں سے بھی اسے اپنے بیٹے کے بارے میں معلومات نہ ملیں۔

دس روز بعد ایک اجنبی شخص نے ان کے دروازے پر دستک دی اور یہ پیغام دیا گیا کہ اس کا بیٹا آگرہ جیل میں ہے۔ آگرہ جیل میں صرف حمیدہ بیگم ہی نہیں بلکہ کئی دیگر کشمیریوں کو قید کر کے رکھا گیا ہے۔ وہاں موجود گوہر ملاح کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بہن کے شوہر کی تلاش میں یہاں تک پہنچے ہیں اور ابھی تک ان کی تقریبا ایک ہزار ڈالر کے برابر رقم خرچ ہو چکی ہے۔ یہ پیسے انہوں نے اپنے رشتہ داروں سے ادھار لیے ہیں، ''اس کو دیکھنا ہی میرے لیے سب کچھ ہے، مجھے قرض کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔‘‘

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق مقامی پولیس اہلکاروں کی طرف سے کشمیری خاندانوں کو دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، کہ وہ ان کے بارے میں کسی سے بات نہ کریں۔ آگرہ جیل کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل سنجیو ترپاٹھی کا نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ''مجھے حکومت نے واضح ہدایات دی ہیں کہ میڈیا کو کشمیری قیدیوں کے بارے میں معلومات بالکل نہ دی جائیں۔‘‘

شوپیاں ڈسٹرکٹ کے اشرف ملک کا کہنا تھا کہ اس کے بیٹے کو اس وقت گرفتار کیا گیا، جب وہ ہسپتال میں زیر علاج تھا۔ وہ ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا تھا۔ یہ خاندان بھی گزشتہ 48 دنوں کے دوران پہلی مرتبہ اپنے بیٹے سے ملا ہے۔

اشرف ملک کا دکھ بھرے لہجے میں سوال کرتے ہوئے کہنا تھا، '' دنیا کے کس ملک میں کسی زخمی کو جیل میں رکھا جاتا ہے اور وہ بھی جو گولیاں لگنے سے زخمی ہوا ہو۔‘‘

ا ا /ع ح ( اے پی)