’گرجا گھر جرمنی ميں چند مہاجرين کی پناہ گاہيں‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 26.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’گرجا گھر جرمنی ميں چند مہاجرين کی پناہ گاہيں‘

قرون وسطی کی قديم روايات کے تحت جرمنی ميں چند چرچ مہاجرين کو ملک بدری سے بچانے کے ليے پناہ فراہم کرتے ہيں۔ اگرچہ چرچ کی جانب سے فراہم کردہ پناہ کے معاملے پر قوانين غير واضح ہيں تاہم حکام احترامً اسے ’برداشت‘ کر ليتے ہيں۔

پشتواں نصير عبدل جرمنی سے ملک بدر کر ديے جانے سے بچنے کے ليے پچھلے قريب چار مہينوں سے ايک گرجا گھر ميں پناہ ليے ہوئے ہے۔ عراق کے يزيدی قبيلے سے تعلق رکھنے والا يہ اکيس سالہ پناہ گزين قريب چار سو ديگر مہاجرين کے ہمراہ قرون وسطی کی ايک قديم روايت کے تحت چرچ ميں پناہ ليے ہوئے ہے۔

مذہبی مقامات میں پناہ لينے کی روايت کافی حد تک متروک ہو چکی تھی تاہم گزشتہ برس ايک ملين سے زائد پناہ گزينوں کی جرمنی آمد کے تناظر ميں چند مقامی گرجا گھروں نے اس قديم روايت پر دوبارہ عملدرآمد کرتے ہوئے متعدد مستحق افراد کے ليے اپنے دروازے کھول ديے۔ ايسا نہيں کہ جرمنی ميں چرچ قانون سے بالاتر ہيں ليکن بہت کم ہی لوگ کسی گرجا گھر ميں پوليس کے چھاپوں کا تصور کر سکتے ہيں۔ بالخصوص قدامت پسند اور اکثريتی طور پر مذہبی رجحانات کے حامل جرمن شہریوں کے جنوبی صوبے باويريا ميں، جہاں عبدل نے پناہ لی۔

عبدل عراق کے يزيدی قبيلے سے تعلق رکھتا ہے اور مذہبی اقليت سے تعلق رکھنے کی بنياد پر اسے اپنے آبائی علاقے ميں شدت پسند تنظيم اسلامک اسٹيٹ کے مظالم سہنا پڑے۔ جرمنی ميں ٹوٹسنگ شہر کے کيتھولک پادری نے عبدل کو پناہ دے رکھی ہے۔

پشتواں نصير عبدل چرچ کے احاطے ميں قائم ايک مکان ميں ايک اور يزيدی پناہ گزين سود يزدين عرب کے ساتھ رہائش پذير ہے۔ وہ چرچ کے باغيچے اور ديگر حصوں ميں گھوم پھر ليتا ہے تاہم ملک بدری کے خوف سے اس نے قريب پچھلے چار ماہ سے چرچ سے باہر قدم تک نہيں نکالا۔ عطيے کے طور پر ديے گئے کپڑے، چرچ کا سادہ سا کھانا اور چند لمحوں کی چہل قدمی اس کی ضروريات پوری کرتے ہيں۔

جرمنی ميں قريب چار سو مہاجرين قرون وسطی کی ايک قديم روايت کے تحت چرچ ميں پناہ ليے ہوئے ہيں

جرمنی ميں قريب چار سو مہاجرين قرون وسطی کی ايک قديم روايت کے تحت چرچ ميں پناہ ليے ہوئے ہيں

مذہبی بنيادوں پر سياسی پناہ پر جرمن قوانين واضح نہيں۔ اگر کوئی چرچ کسی کو پناہ فراہم کرتا ہے، تو يہ فيصلہ مکمل طور پر چرچ انتظاميہ کے ہاتھوں ميں ہے۔ چرچ ميں پناہ لينے والے يا اس سلسلے ميں کوشش کرنے والوں کو مقامی انتظاميہ اور حکام اچھی نظر سے نہيں ديکھتے۔

حقيقت يہ ہے کہ اس روايت کو جرمنی ميں ’برداشت‘ کر ليا جاتا ہے، جہاں 80 ملين کی کُل آبادی ميں ہر تين افراد ميں سے دو کيتھولک مسيحی ہيں۔ اس بارے ميں بات کرتے ہوئے صوبہ باويريا کی وزارت داخلہ کے ترجمان اشٹيفان فرے کا کہنا تھا، ’’ہر ادارے کو جرمن قوانين کا احترام کرنا چاہيے تاہم ہم مذہبی بنيادوں پر پناہ کی فراہمی کے معاملے ميں گرجا گھر کے تقدس کا بھی احترام کرتے ہيں۔‘‘

چرچ سے منسلک جو افراد مستحق افراد کی مدد کرتے ہيں، وہ اس سے واقف ہوتے ہيں کہ وہ کن معاملات ميں الجھ رہے ہيں۔ ٹوٹسنگ کے اٹھاون سالہ پادری پيٹر برومر کے بقول وہ جانتے ہيں کہ وہ قانونی زون ميں کام نہيں کر رہے تاہم وہ جو کر رہے ہيں، کسی سے چھپاتے بھی نہيں۔ حکام کو چرچ کے احاطے ميں آنے کی مکمل اجازت ہے۔ ليکن اسی دوران برومر يہ بھی واضح کرتے ہيں کہ جس کسی کو انہوں نے پناہ دے رکھی ہے، اسے اگر کبھی حکام نے ملک بدر کرنے کی کوشش کی، تو وہ اس کی مخالفت کريں گے۔ دراصل يہ پادری اس کو اپنی مہ داری سمجھتے ہيں کہ جن افراد کے بارے ميں وہ يہ سمجھتے ہيں کہ ان کے جرمنی ميں سياسی پناہ کے حصول کے امکانات روشن ہيں، انہيں وہ پناہ فراہم کريں۔ انہوں نے کہا، ’’کيتھولک مذہب کے ماننے والوں کو ضرورت کے وقت انسانوں ميں تفريق نہيں کرنی چاہيے۔‘‘