گائے ذبح کرنے کے شبے میں مسلمان کا قتل، کشمیر میں کرفیو | حالات حاضرہ | DW | 19.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گائے ذبح کرنے کے شبے میں مسلمان کا قتل، کشمیر میں کرفیو

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گائے ذبح کرنے کے شبے میں ایک مسلمان نوجوان کے دائیں بازو کے ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں قتل کے بعد حکام کو حالات کو قابو میں کرنے کے لیے کرفیو لگانا پڑ گیا۔

سری نگر سے پیر انیس اکتوبر کے روز موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس نوجوان کشمیری مسلمان کی عمر انیس برس اور نام زاہد رسول بھٹ تھا، جو ایک ٹرک ورکر تھا اور نو اکتوبر کے روز ہندو اکثریتی ملک بھارت کی اس واحد مسلم اکثریتی ریاست میں دائیں بازو کے ہندو انتہا پسندوں کے ایک حملے میں شدید زخمی ہو گیا تھا۔

اس نوجوان کو مذہبی بنیادوں پر گائے کے ذبح کرنے کی مخالفت کرنے والے ہندو انتہا پسندوں نے یہ الزام لگا کر اپنے حملے کا نشانہ بنایا تھا کہ اس نے مبینہ طور پر ایک گائے کو ذبح کیا تھا۔ بعد ازاں یہ نوجوان کل اتوار اٹھارہ اکتوبر کے روز اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں انتقال کر گیا تھا۔

اے ایف پی نے سری نگر سے لکھا ہے کہ بھارت میں گائے کو ذبح کرنے کے مسئلے پر ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے ملک بھر میں پابندی کے مطالبات اور متعدد مسلمان شہریوں کی ہلاکت کے بعد یہ تنازعہ ملک میں مذہبی بنیادوں پر وسیع تر بے چینی کے خدشات کی وجہ بن چکا ہے۔

اسی تناظر میں مسلم اکثریتی بھارتی کشمیر میں آج نہ صرف تمام اسکول اور کاروباری ادارے بند رہے بلکہ مقامی یونیورسٹیوں میں امتحانات بھی منسوخ کرنا پڑ گئے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں بھارتی نیم فوجی دستوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو سڑکوں پر گشت کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

زاہد رسول بھٹ کی موت کے بعد بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں نہ صرف ہنگامے شروع ہو گئے بلکہ مظاہرین نے سرکاری دستوں پر پتھراؤ بھی کیا جبکہ پولیس اور نیم فوجی دستوں نے حالات کو قابو میں کرنے کے لیے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس بھی استعمال کی۔

ایک اعلیٰ پولیس اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اور کرفیو کے نفاذ کی تصدیق کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہم نے عوامی جانوں کے تحفط کے لیے پبلک کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کی خاطر یہ قدم اٹھایا ہے۔‘‘

Indien Jammu Hindu Protest gegen Rindfleisch-Konsum

بھارت کے ‍زیر انتظام جموں میں گائے کو ذبح کرنے اور بیف کھانے کے خلاف احتجاج کرنے والے ہندو مظاہرین

اے ایف پی کے مطابق زاہد رسول بھٹ کو دس روز قبل ہندو انتہا پسندوں نے اس ٹرک پر پٹرول بم سے حملہ کر کے نشانہ بنایا تھا، جس میں وہ سوار تھا۔ یہ مشتعل ہندو اس بات پر طیش میں تھے کہ متعلقہ علاقے میں گائے کو ذبح کرنے پر پابندی کی خلاف ورزیاں کی جا رہی تھی۔

جس جگہ پر ان ہندوؤں نے زاہد رسول بھٹ کے ٹرک پر پٹرول بموں سے حملہ کیا تھا، اس کے قریب ہی ایک ندی سے دو مردہ گائیں بھی ملی تھیں، جن کے بارے میں افواہیں یہ تھیں کہ انہیں اسی مسلمان نوجوان نے ہلاک کیا تھا۔ بعد میں ایک ماہر امراض حیوانات کی رپورٹ میں یہ ثابت ہو گیا تھا کہ یہ دونوں گائیں زہر دیے جانے سے ہلاک ہوئی تھیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کرفیو کی وجہ بننے والے ہنگامے کل شروع ہوئے تھے اور آج پیر کے روز وہ اس وقت شدت اختیار کر گئے تھے جب زاہد رسول بھٹ کو جنوبی کشمیر میں اس کے آبائی گاؤں بوٹینگُو میں سپرد خاک کیا گیا۔ آج پیر کے دن کے لیے کشمیر میں مختلف سیاسی پارٹیوں اور مسلم سماجی تنظیموں نے ہڑتال کی کال بھی دے رکھی تھی۔

DW.COM

اشتہار