کینیڈا کی شہریت کی تقریب، حجاب پر حکومتی پابندی منسوخ | معاشرہ | DW | 16.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کینیڈا کی شہریت کی تقریب، حجاب پر حکومتی پابندی منسوخ

کینیڈا کی وفاقی کورٹ آف اپیلز نے اس حکومتی پابندی کو مسترد کر دیا ہے، جس کے تحت کینیڈا کی شہریت دیے جانے کی سرکاری تقریب میں مسلم خواتین کی طرف سے حجاب کے ذریعے چہرہ چھپانے کو ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔

کینیڈا کے شہر کیلگری سے ملنے والی رپورٹوں میں نیوز ایجنسی روئٹرز نے لکھا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ اونٹاریو میں ایک وفاقی عدالت کی طرف سے سنایا گیا۔ اس کے ردعمل میں حکمران قدامت پسند پارٹی اب اس عدالتی فیصلے کے بعد اپنے لیے ابھی تک کھلے قانونی امکانات پر غور کر رہی ہے۔

کینیڈین کنزرویٹو پارٹی کے مطابق اپنے اس فیصلے میں اونٹاریو کی عدالت نے کہا کہ وہ اس امر کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ان خواتین کو، جن کے شہریت دیے جانے کی سرکاری تقریب میں حجاب پہن کر شرکت کرنے کا معاملہ اس حوالے سے قانونی تنازعے کی وجہ بنا، انہیں نہ صرف کینیڈا کی شہریت دی جائے بلکہ انہیں یہ حق بھی حاصل ہونا چاہیے کہ وہ 19 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں۔

روئٹرز کے مطابق کینیڈا کے وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر، جنہیں اقتدار میں رہنے کے لیے اس وقت ایک سہ جہتی سیاسی جنگ کا سامنا ہے، نے اس عدالتی فیصلے کے باوجود نہ صرف شہریت دیے جانے کی تقریب میں حجاب یا نقاب پہننے پر پابندی کا دفاع کیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ ان کی رائے میں چند خواتین کی طرف سے حجاب کے استعمال کی جڑیں بنیادی طور پر ’خواتین مخالف ثقافت‘ سے جڑی ہوئی ہیں۔

شہریت دیے جانے کی تقریب میں شامل مسلم خواتین کی طرف سے حجاب پہن کر شرکت کرنے پر عائد اس حکومتی پابندی کی کینیڈین اپوزیشن جماعتوں، نیو ڈیموکریٹس اور لبرلز دونوں نے بھرپور مخالفت کی تھی۔ ان جماعتوں کا موقف ہے کہ ایسی کوئی بھی پابندی کینیڈین عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ان دونوں جماعتوں نے حکمران کنزرویٹو پارٹی پر یہ کہتے ہوئے سخت تنقید بھی کی ہے کہ اس پابندی کے ذریعے حکومت مسلم خواتین کے خلاف معاشرتی تعصب کو ہوا دینے کی مرتکب ہوئی ہے۔

Stephen Harper

کینیڈا کے وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر

اس کے برعکس وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر کی قدامت پسند جماعت ابھی تک اس سلسلے میں اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے اور اس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کینیڈا کے عوام کی اکثریت اس معاملے میں کنزرویٹو پارٹی کے موقف کی حامی ہے۔

حکمران پارٹی کے بیان کے مطابق، ’’ہمیں اس بارے میں عدالتی فیصلے پر افسوس ہے۔ پارٹی کی رائے میں حکومت اس حوالے سے تمام قانونی امکانات پر غور کر رہی ہے۔ جیسا کہ وزیر اعظم نے بھی کہا ہے، کینیڈا کے عوام کی اکثریت کی رائے میں یہ بات غیر خوش کن اور ناراض کر دینے والی ہے کہ کوئی عین اس لمحے پر اپنی شناخت کو چھپانے کی کوشش کرے، جب وہ ’کینیڈین خاندان‘ میں اپنی شمولیت کا عہد کر رہا ہو۔‘‘

کینیڈین کنزرویٹو پارٹی کا یہ موقف اپنی جگہ لیکن عدالتی فیصلے کے مطابق جب تک عدالتی یا سیاسی سطح پر یہ تنازعہ کوئی اور رخ اختیار نہیں کرتا، تب تک کینیڈا کی شہریت حاصل کرنے والے غیر ملکیوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ ان میں شامل مسلم خواتین مذہبی وجوہات کی بناء پر اگر چاہیں، تو ان سرکاری تقاریب میں حجاب پہن کر شرکت کر سکتی ہیں۔

یہ صورت حال تبدیل ہونے میں ابھی کچھ وقت اس لیے لگے گا کہ حجاب کے استعمال پر حکومتی پابندی کو منسوخ کرنے کا فیصلہ ملک کی وفاقی کورٹ آف اپیلز نے سنایا ہے۔

DW.COM

اشتہار